بقراط کی تصانیف اور کارنامے 

 بقراط کی تصانیف اور کارنامے 
 بقراط کی تصانیف اور کارنامے 

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:20

(Hippocratic Corpus)

محققین اور مؤرخین نے اپنی کوشش سے بقراط کے تمام تصنیفی کام کو جمع کیا ہے اور پورے وثوق سے کہا ہے کہ قدیم یونانی اطباءمیں صرف بقراط ہی ایسا صاحب علم طبیب اور سرجن تھا جس نے ستر کے قریب ابتدائی طب پر کتابیں لکھیں۔ان کتابوں سے بقراط کی طبی تعلیمات کا پورے طور پر احاطہ ہوتا ہے۔ کچھ محققین کا کہنا ہے کہ یہ سب تصنیفات تنہا بقراط کی نہیں ہیں بلکہ اس میں سے کچھ اس کے شاگردوں کی ہیں۔

جبکہ محققین کا ایک گروہ کہتا ہے کہ بقراط سے منسوب کچھ کتابیں بقراط نے نہیں لکھیں بلکہ بقراط کی موت کے صدیوں بعد لکھی گئیں۔ کیونکہ ان کتابوں کے مضامین قدیم یونانی سے کافی مختلف ہیں۔ بقراط سے منسوب کتب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سب کی سب بقراط کی تصانیف نہیں ہیں بلکہ ان ستر کتابوں کو انیس مختلف لوگوں نے لکھا ہے اور بقراط سے منسوب کر دیا ہے۔ان تمام کتابوں اور مقالوں میں بقراط کی تکنیک اور اصولوں کو اپنایا گیا ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ بقراط کی ذاتی تصنیف ہے کیونکہ اس کا اصل مخطوطہ اب بھی یونان کی لائبریری میں محفوظ ہے Corpus کے حوالے سے اس کے کئی مقالات ہیں۔ بقراط کے تصنیفی کام کو تیسری صدی عیسوی میں مرتب کیا گیا اور یہ تمام مرتب شدہ کام اسکندریہ کی لائبریری میں ہوا۔

-1 بیماری کی پیشگی علامات کی کتاب(The Book of Prognostics)

بقراط کی اہم ترین کتاب ہے۔ اس کتاب کے حوالے سے بقراط انتہائی ذہین اور دانشمند نظر آتا ہے۔ اس کتاب میں اس نے انسان کے جسم، عادات، رویوں، انداز گفتگو اور چھوٹی سے چھوٹی تبدیلیوں کے حوالے سے تفصیلی طور پر بیان کیا ہے۔

 مریض کا طبیب پر اعتماد کرنا ضروری ہے

 ایک طبیب جب اپنے مریض کی موجودہ حالت پر غور کرتا ہے تو اس معمولی سے معمولی علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے مریض کو اگر ماضی میں کوئی بیماری لاحق تھی تو اس کے بارے میں بھی معلوم ہو سکتا ہے۔ جب طبیب مریض کو اس کی ماضی کی بیماری کے بارے میں بتائے گا تو مریض کا طبیب پر اعتماد بڑھ جائے گا۔ اس طرح مریض کے اعتماد اور اعتقاد کی وجہ سے اس کی ذاتی فطری شفائی قوت بیدار ہو کر مریض کے لیے شفایاب ہونے میں زیادہ مدد گار ہوگی۔ طبیب کو صرف مرض کی دوا تجویز کرنا ہوگی اور طب کے قواعد کے مطابق مریض کو ہدایات دینا ہوں گی جس کے بعد مریض شفایاب ہونا شروع ہو جائے گا۔

 ایک قابل طبیب مریض کی موجودہ بیماری کی تشخیص کے علاوہ مریض پر مستقبل میں حملہ آور ہونے والی بیماری کے بارے میں بھی بہت کچھ بتا سکتا ہے۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -