سیاسی مقاصد کے لئے دہشت گردی کی دفعات کا استعمال

سیاسی مقاصد کے لئے دہشت گردی کی دفعات کا استعمال

  

 چیف جسٹس اطہر من اللہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دہشت گردی کے مقدمے کو خارج کرنے کے لیے دی گئی درخواست پر حکم جاری کیا ہے کہ مقدے سے دہشت گردی کی دفعات کو حذف کر دیا جائے،عدالت نے قرار دیا ہے کہ تقریر سننے سے کوئی زخمی نہیں ہوتا اگر لفظوں پر کارروائی ہونے لگی تو سب پر مقدمے بنیں گے،پولیس کو تفتیش میں تقریر کے سوا کچھ نہیں ملا، جب کچھ سامنے نہیں آیا تو پھر دہشت گردی کیسے ہوئی؟ سپریم کورٹ دہشت گردی کے قانون کی واضح تشریح کر چکی ہے، تقاریر پر دہشت گردی کے پرچے درج ہونے لگے تو ایسے مقدمات کا سیلاب آ جائے گا۔ دہشت گردی کی دفعات کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے جس کی روک تھام ضروری ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے عمران خان کو ایک بڑا ریلیف مل گیا ہے۔اسلام آباد پولیس نے مقدمہ اُن کی اُس تقریر پر درج کیا تھا جو اسلام آباد میں شہباز گل کی حمایت میں نکالی گئی، ریلی میں کی گئی تھی اور جس میں آئی جی اسلام آباد اور ایک خاتون جج کو  دھمکی دی گئی تھی۔ اس مقدمے کے اندراج کے بعد عمران خان نے عبوری ضمانت کرا لی تھی اور وہ تفتیش کے لیے جے آئی ٹی کے سامنے بھی پیش ہوئے تھے،ساتھ ہی اُن کی طرف سے اس مقدمے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا کہ اس میں دہشت گردی کی دفعات خلافِ حقیقت لگائی گئی ہیں اس لیے اس مقدے کو خارج کیا جائے۔اس مقدمے کے بعد ملک میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی تھی کہ کیا صرف تقریر کرنے سے کسی پر دہشت گردی کی دفعات لگائی جا سکتی ہیں،کیا تقریر سے بھی ایسی دہشت پھیلتی ہے جو معاشرے میں خوف کا باعث بنے،کیا دہشت گردی کے کسی وقوعے سے پہلے دہشت گردی کی دفعہ لگ سکتی ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دورانِ سماعت جو سوالات اٹھائے پولیس اُن کا خاطر خواہ جواب نہ دے سکی اور نہ ہی پراسیکیوٹر عدالت کو اس حوالے سے مطمئن کر سکے۔عدالت کا کہنا تھا کہ کون سا سیاست دان ہے جو اپنی تقریروں میں ایسے الفاظ استعمال نہیں کرتا۔عمران خان کے وکیل نے دورانِ سماعت دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں قرار دیا گیا  ہے کہ دہشت گردی کی دفعات لگانے کے لئے کچھ بنیادی عوامل ضروری ہیں جو عمران خان پر قائم مقدمے میں موجود نہیں۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سیاسی مقاصد کے لئے سنگین دفعات کا استعمال ایک خطرناک رجحان ہے جس کی حوصلہ شکنی ضروری ہے مگر اس وقت یہ رجحان اپنے عروج پر ہے اس کی ایک مثال لاہور پولیس کی جانب سے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب،وفاقی وزیر جاوید لطیف اور پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے ایم ڈی پر قائم کیا گیا دہشت گردی کا مقدمہ ہے۔ایک طرف تحریک انصاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے دہشت گردی کے مقدمے میں ریلیف مانگ رہی تھی تو دوسری طرف پنجاب میں اس کی حکومت انہی دفعات کے تحت اپنے سیاسی مخالفین پر مقدمات درج کر رہی ہے۔مقدمہ جامع مسجد عائشہ صدیقہ باگڑیاں کے امام ارشاد الرحمن کی مدعیت میں گرین ٹاؤن تھانہ لاہور میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 17سمبر کو وفاقی وزیر جاوید لطیف نے عمران خان کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے مذہب کارڈ کا استعمال کیا،غلط بیانی سے کام لے کر انہوں نے عوام میں اشتعال پھیلانے کی کوشش کی،اطلاعات کی وفاقی وزیر مریم اورنگزیب اور پی ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر سہیل خان اس پریس کانفرنس کو نشر کر کے جرم میں شریک ہوئے ہیں اس لئے اُن کے خلاف دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ اس مقدمے کے پیچھے سیاسی مقاصد کار فرما ہیں اور یہ اُس مقدمہ کا جواب ہے جو پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج کیا گیا تھا جس طرح اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی کی تقریر پر دہشت گردی کی دفعہ نہیں لگائی جا سکتی،اُسی طرح تقریروں پر تبصرے کرنے والے دہشت گردی کے کیسے مرتکب قرار دیئے جا سکتے ہیں،مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ سرکاری ٹی وی کو بھی مقدمے میں ”ملزم“ نامزد کیا گیا ہے۔ جاوید لطیف نے عمران خان کی مختلف تقاریر پر انہیں جواب دیا ہے اور انہی کی کہی ہوئی باتوں کا حوالہ دیا ہے۔ عمران خان کی تقریریں تو تمام چینلز نے نشرکی ہیں۔کیا یہ مقدمہ قائم کر کے اُن تمام تقریروں کو زندہ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ویسے بھی ایک ٹی وی چینل پر اپنے موقف کا اظہار کرنے سے دہشت گردی کیسے پھیل سکتی ہے؟یہ تو ترکی بہ ترکی جواب دینے کا عمل ہے کہ اگر عمران خان کے خلاف دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرایا گیا ہے تو مسلم لیگی رہنماؤں پر بھی ایسا ہی مقدمہ درج کرایا جائے چاہے وہ قانونی طور پر بنتا ہی نہ ہو۔

پنجاب کے وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر اکثر بے احتیاطی سے کام لیتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹنے کی دھمکی دے جاتے ہیں،انہیں شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں اتنا آگے نہیں جانا چاہیے کہ ریاستی اداروں میں بلاوجہ کی جنگ چھڑ جائے۔سنگین دفعات کے تحت مقدمات کو اگر اسی طرح مذاق بنا لیا گیا تو قانون کی بے توقیری نوشتہ ئ دیوار بن جائے گی،جس طرح عمران خان پر ایک تقریر کے جواب میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمے کا اندراج ایک غلط فیصلہ تھا، اُسی طرح اُن کی تقریروں پر ردعمل دینے کو ایک جرم قرار دے کر دشت گردی کا مقدمہ  درج کرنا اُس سے بڑھ کر ایک غلط کام ہے جس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔اس وقت وفاقی اور پنجاب حکومت میں اگرچہ ٹھنی ہوئی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ قانون کو ایک کھیل سمجھ لیا جائے۔سیاست کے میدان میں مقابلہ ہونا چاہیے اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ عوامی خدمت میں ایک دوسرے پر برتری لے جانے کی کوشش کی جائے،  بے بنیاد مقدمات کے اندراج سے ماحول کو کشیدہ کرنے کی بجائے  اس تلخی کو کم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔کیا ضروری ہے کہ سیاست دانوں کو عدالتیں ہی یہ بتائیں کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح، کیا سیاست دانوں کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ اعلیٰ جمہوری روایات کو اپنائیں اور معاشرے کو تقسیم کرنے کی بجائے اُسے متحد کرنے کی کوشش کریں۔

مزید :

رائے -اداریہ -