سیلاب،سیاسی بے یقینی اور معاشی بدحالی 

سیلاب،سیاسی بے یقینی اور معاشی بدحالی 
سیلاب،سیاسی بے یقینی اور معاشی بدحالی 

  

نواز شریف اور شہباز شریف کی لندن میں ملاقات کے بعد یہ بیان سامنے آ چکا ہے کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے اور جلد الیکشن کیلئے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سیاسی کشیدگی جو پچھلے کئی ماہ سے جاری ہے اس میں کمی آنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔  کیونکہ عمران خان فوری الیکشن کی بات کر رہے ہیں اور اس کے لیے انکے جلسوں کا سلسلہ جاری ہے. انہوں نے یہ دھمکی بھی دے رکھی ہے کہ اگر ستمبر کے مہینے میں ان کا مطالبہ نہ مانا گیا تو  وہ اسلام آباد کی طرف عوام کو کال دیں گے. اس کا مطلب اسلام آباد میں  دھرنا ہوگا جو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہو جاتا.اگر دونوں طرف کا موقف یہی رہا تو پھر آنے والے دنوں میں تصادم کو کیسے روکا جائے گا. اس وقت بھی سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر ہے حالانکہ آدھے سے زیادہ ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے اگر یہ بحرانی صورت حال بھی سیاسی جماعتوں کو اکٹھا  نہیں کرتی تو پھر پاکستان میں سیاسی استحکام کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی. حکومتی اتحاد کا خیال ہے کہ عام انتخابات اگلے سال اگست میں ہونے چاہیئں کیونکہ آئین اس کی اجازت دیتا ہے بادی النظر میں یہ کوئی انہونی بات بھی نہیں ہے مگر عمران خان موجودہ سیٹ اپ کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ ملک کو بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لیے کسی درمیانی راہ کا انتخاب کیا جائے دونوں طرف سے لچک کا مظاہرہ کیا جائے اور انتخابات کے لئے کوئی متفقہ شیڈول بنا کر آگے بڑھا جائے مگر اس کے لیے دونوں طرف سے کوئی بھی آمادہ نہیں۔ عمران خان نے تو الیکشن کی تاریخ کے بغیر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے ہی انکار کر رکھا ہے ان کا تو پہلا مطالبہ ہی یہی ہے کے پہلے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا جائے اس کے بعد وہ مذاکرات پر آمادہ ہوں گے ایسی کڑی شرائط کے ساتھ مذاکرات کا آغاز بھلا کیسے ہو سکتا ہے، مذاکرات کے لئے تو کھلے دل سے میز پر بیٹھنا پڑتا ہے اور پھر جو کچھ بھی سامنے آئے اس پر گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے اب  جب کہ حکومتی اتحاد نے واضح کر دیا ہے کہ وقت سے پہلے  انتخابات نہیں ہوں گے تو سیاسی عدم استحکام کو نوشتہ دیوار سمجھنا چاہیے جو ان حالات میں ملک کے لیے کوئی نیک شگون نہیں ہے،کیونکہ ایک طرف سیلاب زدگان امداد کی راہ دیکھ رہے ہیں اور دوسری طرف ملک کے تقریبا 40 فیصد علاقوں میں انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔کروڑوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور بھوک بیماریوں نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ملک میں اگر سیاسی استحکام نہیں ہوگا تو معاشی استحکام بھی نہیں آئے گا اس کی واضح مثال موجودہ حالات ہیں،حد درجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے، آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی اشیاء  کی عدم دستیابی  اور اس کی مہنگے داموں فروخت پہلے ہی عوام کو بڑی مشکلات سے دوچار کر چکی ہے یہ سلسلہ نہ جانے کہاں رکے گا اگر سیاسی استحکام نہیں آتا تو حکومت اسی طرح ہچکولے کھاتی رہے گی اور حالات سے نمٹنا شاید اس کے بس میں نہیں رہے گا، ایسا لگتا ہے عمران خان بھی یہی چاہتے ہیں کہ حکومت معاشی میدان میں بری طرح ناکام ہو جائے اور جب بھی انتخابات ہوں تو عوام حکومت میں شامل جماعتوں کو اپنے ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیں۔ عمران خان آج کل ووٹ کے ذریعے انقلاب لانے کی باتیں کر رہے ہیں شاید ان کا منصوبہ یہی ہے کے حکومت کو ہر محاذ پر ناکام بنا کر ایک ایسی فضا پیدا کی جائے جس میں عوام کے پاس سوائے تحریک انصاف کے اور کوئی آپشن ہی  موجود نہ رہے۔

سیاست میں یوں تو سب چلتا ہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہر حربہ آزمایا جاتا ہے مگر اس وقت ملک کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ ذاتی مفادات کی سیاست کی جائے اس وقت ضرورت مفاہمت کی سیاست کی ہے،مفاہمت کے ذریعے ہی ملک میں سیاسی استحکام آ سکتا ہے اور سیاسی استحکام اس وقت لمحہ موجود میں وقت کی ضرورت ہے موجودہ حالات میں الیکشن کا انعقاد ویسے بھی ناممکن ہے کیونکہ ملک کے بیشتر حصے سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں، لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے پڑے ہیں جن کے گھر بار سیلاب کی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ساڑھے تین کروڑ افراد براہ راست سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ بالواسطہ طور پر سیلابی علاقوں میں متاثر ہونے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے ایسے میں یہ بھلا کیوں کر ممکن ہوگا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کرا سکے اس وقت ساری توجہ ان علاقوں کی بحالی پر دی جانی چاہیے جتنی جلدی ان علاقوں میں حالات نارمل ہوں گے اتنے ہی جلد ان علاقوں میں بروقت الیکشن کراے جا سکیں گے۔

 اب سوال یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن یعنی تحریک انصاف کے درمیان پائے جانے والے اختلاف کی خلیج کو کون ختم کرائے۔ اگرچہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یہ پیشکش کی ہے کہ وہ دونوں کو قریب لانے کے لئے ایک ذریعہ بن سکتے ہیں مگر دونوں طرف سے اس پیشکش کا حوصلہ افزا جواب نہیں دیا گیا اور معاملہ جوں کا توں لٹکا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے پورے منظرنامے پر بے یقینی کی فضا ہے جس کے گہرے اثرات ملک کی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں نے پہلے ہی ہماری معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے اب اس میں سیاسی عدم استحکام بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ صورتحال ہر محب وطن پاکستانی کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ سیاسی قیادت اور دیگر سٹیک ہولڈر کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے ملک جس بھنور میں پھنسا ہوا ہے اس سے نکالنے کے لئے سبھی کو قومی سوچ اپنانی پڑے گی۔ ملک اس وقت سیاستدانوں سے غیر روایتی کردار کا متقاضی ہے تاکہ اس بحران  سے ملک کو نکالا جاسکے مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومت اور آج کی اپوزیشن تحریک انصاف دونوں ہی حالات کا ادراک کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں اور ایک ایسی راہ پر گامزن ہیں جو بحران میں شدت  تو لا سکتی ہے اسے کم نہیں کر سکتی۔

مزید :

رائے -کالم -