آرمی چیف (کون ہوگا) تعیناتی (کون کرے گا)؟ 

آرمی چیف (کون ہوگا) تعیناتی (کون کرے گا)؟ 
آرمی چیف (کون ہوگا) تعیناتی (کون کرے گا)؟ 

  

 پاکستان کا نیا آرمی چیف کون ہوگا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو  آج کل ہمارے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا بھی نہیں، سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ پوچھا جا رہا ہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے اور لوگوں کو بتانے کی کاوشیں زوروں پر ہیں عام حالات میں بھی یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ پاکستان کیونکہ ایک سیکیورٹی سٹیٹ ہے جو اپنے قیام کے وقت 1947ء سے دشمنوں کی بالعموم اور ہندوستان کی بالخصوص چیرہ دستیوں کا شکار رہی ہے اس لئے اسے اپنے جغرافیائی تحفظ اور استحکام کے لئے ایک مضبوط فوج کی ضرورت تھی یہی وجہ ہے کہ یہاں فوج کی اہمیت روز اول سے ہی مسلم رہی ہے۔ 1947ء یا 1959ء  اور پھر 1958ء تک سیاستدانوں کی نااہلیوں اور سول بیورو کریسی کی ریاست میں ”سیاسی دھڑے“ کے طور پر مداخلت نے 1958ء کے مارشل لاء کی راہیں آسان کیں اور اس طرح فوج ملک کے سیاسی انتظام و انصرام میں مکمل طور پر دخیل ہو گئی۔ پھر سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوا۔ جنرل یحییٰ خان اور ان کے حواری جرنیلوں کی سیاست بازی اور ہوس اقتدار نے ملک دو ٹکڑوں میں تقسیم کر ڈالا۔ اس سانحہ کی بنیادیں 1958ء کے مارشل لاء میں رکھ دی گئی تھیں 1969ء تک معاملات پوائنٹ آف نوریٹرن تک جا پہنچے تھے۔ ماڈرن ورلڈ کی سیاسی تاریخ میں شاید یہ پہلا واقع ہوگا کہ اکثریت نے یعنی بنگالیوں نے اقلیت سے یعنی پنجابیوں، پٹھانوں سے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کیا ہو۔ یہاں سقوط ڈھاکہ رونما ہوگیا وقت کی سب سے بڑی مملکت پاکستان گھٹ کر ساتویں نمبر پر چلی گئی بہرحال ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ اب بھی ملکی معاملات میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے اور آرمی چیف طاقتور ترین عہدہ ہے جس کے حوالے سے آج کل زور و شور سے گفتگو ہو رہی ہے۔ عمران خان جو ایک عرصے سے قومی معاملات میں الجھاؤ پیدا کرنے، افتراق و تفریق کو فروغ دینے اور ملک میں افراتفری پیدا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دشنام، گالم گلوچ، الزام تراشی کے ذریعے حریفوں کو نیچا دکھانے اور ریاستی اداروں پر طنز و تشنیع کے نشتر چلانے میں مصروف ہیں ان کا کوئی بھی سیاسی حریف ان کے شر سے محفوظ نہیں ہے وہ شریف ہوں یا زرداری، فضل الرحمن ہوں یا ق لیگ اور عوامی مسلم لیگ کی قیادت، بشمول چودھری پرویز الٰہی اور شیخ رشید، کوئی بھی ان کی بے لگام تنقید اور دشنام طرازی سے بچ نہیں سکا ہے مخالفین کو للکارنے، پکارنے اور ذلیل و رسوا کرنے کے علاوہ وہ کچھ اور نہیں کر پائے ہیں۔

وہ ابھی تک سوائے ”انکار“  اور ”مزاحمت“ کی سیاست کی آبیاری کے کچھ اور مثبت نہیں کر پائے ہیں۔ اپریل میں انہیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ایوانِ اقتدار سے رخصت کیا گیا تو انہوں نے جو بیانیہ تشکیل دیا اس میں اپنے خطرناک ہونے کا ذکر بھی شامل کیا۔ گزرے 4/5 ماہ کے دوران ان کے نو تشکیل کردہ بیانیے کے اجزائے ترکیبی بدلتے رہے ہیں لیکن خطرناک ہونے کا جزو دن بدن ترقی کرتا چلا جا رہا ہے حال ہی میں انہوں نے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے بیان دے کر کنفیوژن پھیلانے اور معاملات میں فکری بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے وہ موجودہ اسمبلی کو مانتے ہی نہیں ہیں اس لئے وہاں سے بذات خود بھی علیحدگی اختیار کر چکے ہیں۔ آرمی چیف کی تعیناتی ایک آئینی معاملہ ہے جسے کسی طور موخر نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن عمران خان تو اپنے طے شدہ ایجنڈے اور طریق کار کے مطابق ہر شے کو ملیا میٹ کرنے میں جتے ہوئے ہیں موجودہ چیف کو 2019ء میں توسیع دینے والے عمران خان، انہیں کیا کیا ”القابات“ دیتے رہے ہیں اب انہیں ایک بار پھر قلیل مدتی توسیع دینے کی تجویز دے کر اپنی ”سیاسی بصیرت“ کا شاہکار پیش کر دیا ہے حالانکہ 9/10اپریل 2022ء میں جب عمران خان کی حکومت تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں رخصت ہوئی تو جنہوں نے بہت نامناسب گوہر افشانی فرمائی جسے دیکھتے ہوئے  14اپریل کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل افتخار بابر نے دوٹوک الفاظ میں کہا ”میں اس بات کو ہمیشہ کے لئے طے کر دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل باجوہ نہ تو ایکسٹینشن مانگیں گے نہ ہی ایسی کوئی پیشکش، کسی بھی صورت قبول کریں گے وہ نومبر  2022ء میں ریٹائر ہو جائیں گے۔

گویا یہ بات طے ہو چکی ہے کہ جنرل باجوہ توسیع نہیں لیں گے۔ پھر عمران خان کی نئی حکومت کے قیام تک جنرل باجوہ کو توسیع دینے کی تجویز کو شر انگیزی نہ سمجھا جائے تو اور کیا سمجھا جانا چاہیے۔ عمران خان تسلسل کے ساتھ اس طرح کی گوہر افشانیوں کے ذریعے قومی معاملات میں ابہام اور شر پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ وہ ایسا ہی کچھ کرنے کے لئے معمور کئے گئے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں: ”چیف کون ہوگا“ کی طرف آتے ہیں۔ چیف آئین کے آرٹیکل 243(3) کے تحت وزیراعظم کی تجویز پر صدر مملکت کی طرف سے تعینات کیا جائے گا۔ آئین کے مطابق سروسز چیف اسی طریقِ کار کے مطابق تعینات کئے جاتے ہیں۔ گویا یہ کام وزیراعظم کا آئینی اختیار ہے۔ نومبر میں جنرل باوجوہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت پاک فوج کے 4سینئر ترین جرنیلوں کا تعلق ایک ہی بیج سے ہے جبکہ پانچواں ان چاروں سے بھی سینئر ہے۔ روایت / طریق کار کے مطابق جی ایچ کیو 4 یا 5سینئر ترین جرنیلوں کے نام بمع ان کے پروفائلز وزارت دفاع کو بھیجے گا۔ وزارت دفاع، مجوزہ نام وزیراعظم آفس کو روانہ کرے گا گویا وزارت دفاع کا کردار ایک ڈاک خانے کا ہوگا۔ وزیراعظم آفس میں معاملات فائنل کئے جائیں گے۔ 1972ء سے تاحال محمد نوازشریف بطور وزیراعظم 5آرمی چیفس کی تعیناتیوں کے فیصلے کر چکے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو 2016ء میں نوازشریف نے ہی تعینات کیا اور وہ رواں سال نومبر کے آخری ہفتے میں ریٹائر ہو جائیں گے جبکہ اسی مدت میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی خالی ہو جائے گا۔ گویا دو فور سٹار جنرلز کی تعیناتی کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق جنرل آصف منیر سینئر ترین جنرل ہیں۔جنرل ساحر شمشاد مرزا ان 4جرنیلوں کے گروپ میں سینئر موسٹ جنرل ہیں جن کا تعلق ایک ہی بیج سے ہے۔لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباسی، بھارتی امور کے ماہر ہیں آپ بطور چیف آف جنرل سٹاف، جی ایچ کیو میں آپریشنز اور انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ کی نگرانی / رہنمائی کر رہے ہیں۔ 

لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تعلق بھی بلوچ رجمنٹ سے ہے اور آپ بطور آئی ایس آئی چیف ملک گیر شہرت کے حامل ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل عامر حمیدکا تعلق آرٹلری رجمنٹ سے ہے۔

جنرل آصف منیر سے لے کر جنرل عامر حمید تک چھ لیفٹیننٹ جنرلز میں سے ہی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بھی تعین کیا جائے گا اور انہی جرنیلوں میں سے کسی ایک کو جنرل باجوہ کی جگہ پر نیا چیف آف آرمی تعین کیا جائے گا۔ عمران خان چاہے جتنا مرضی شور مچاتے رہیں شہبازشریف کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت آئینی ہے اور وہی آئینی فیصلے کرنے کی مجاز ہے آئینی فیصلے موخر نہیں کئے جا سکتے جیسا کہ عمران خان نے تجویز دی ہے کہ تھوڑی مدت کے لئے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دی جائے اور نئے آرمی چیف کی تعینات کو نئی منتخب حکومت کے قیام تک موخر کر دیا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -