کیا آئندہ برس امسال جیسی بارشیں نہیں ہوں گی؟ 

کیا آئندہ برس امسال جیسی بارشیں نہیں ہوں گی؟ 
کیا آئندہ برس امسال جیسی بارشیں نہیں ہوں گی؟ 

  

 کل کے کالم میں روس اور یوکرائن کے درمیان اس تنازعے پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا تھا جس کو روس محض ایک ’سپیشل آپریشن‘ شمار کرتا ہے لیکن سارا مغرب اسے روس اور یوکرائن کے مابین ایک باقاعدہ جنگ کا نام دیتا ہے۔ نام کے اس اختلاف کا مطلب واضح ہے۔مغربی دنیا روس کو اتنا حقیر ثابت کرنا چاہتی ہے کہ جو یوکرائن جیسی چھوٹی ریاست کے مقابلے میں نبرد آزما ہے اور یہ کہ ہار بھی رہا ہے۔

لیکن ہار اور جیت کا فیصلہ تو ابھی ہونا ہے۔ میرے خیال میں اس تنازعے میں روس کا سٹرٹیجک مقصد یہ ہے کہ یوکرائن کو آہستہ آہستہ اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ ایک روز ریت کے گھروندے کی طرح گر جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ روس، یوکرائن کے مقابلے میں اتنی بڑی عسکری قوت ہے کہ جس وقت چاہے، دنوں نہیں گھنٹوں میں اس حریف کو خاک میں ملا سکتا ہے۔ مغربی دنیا، یوکرائن کی ہر طرح کی مدد کر رہی ہے۔ دامے اور درمے کے علاوہ جدید ترین اسلحہ، زمین دوز راستوں سے اس کو پہنچایا جا رہا ہے۔ اس کی افواج (بالخصوص گراؤنڈ فورسز) کی اس جدید ترین اسلحہ پر ٹریننگ کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ ایسے میزائل سپلائی کئے جا رہے ہیں جو ہنوز کسی بھی جنگ (یا لڑائی) میں استعمال نہیں کئے گئے۔ امریکہ اپنے جاسوسی سیٹلائٹوں کی مدد سے پل پل کی رئیل ٹائم انٹیلی جنس، یوکرائنی فورسز کو بہم پہنچا رہا ہے۔ ظاہر ہے رشین فورسز کو اس کی توقع نہ تھی۔ وہ سمجھ رہی تھیں کہ یوکرائن فورسز جدید وار ٹیکنالوجی کے استعمال پر اتنی قدرت نہیں رکھتیں کہ روس جیسی سپرپاور (سابقہ ہی سہی) کا مقابلہ کر سکیں۔ لیکن امریکہ نے اپنے مغربی حلیفوں، خاص طور پر برطانیہ کو یہ ٹاسک دے رکھا ہے کہ وہ یوکرائن سپیشل فورسز کو جدید ترین ہتھیاروں پر ٹریننگ دے کر انہیں رشین فورسز کے سامنے لاکھڑا کیا جائے اور اس طرح روس کو مجبور کر دیا جائے کہ وہ ان جدید ہتھیاروں کو کاؤنٹر کرنے کے لئے اپنے جدید اسلحہ جات کو کھلے میدان میں لے آئے۔.

دوسری طرف روس بظاہر یہ تاثر دے رہا ہے کہ اس کی وارٹیکنالوجی ابھی تک دوسری جنگ عظیم کی پروفیشنل سطح سے اوپر نہیں اٹھی۔ قارئین کو معلوم ہوگا کہ دوسری عالمی جنگ 1945ء میں ختم ہو گئی تھی۔ اس وقت روس، اتحادیوں میں شامل تھا یعنی امریکہ کا حلیف تھا۔ لیکن جونہی یہ جنگ ختم ہوئی یہ حلیف، اتحادیوں کا سب سے بڑا حریف بن گیا۔ روس کو سوویٹ یونین کہا جانے لگا اور اس کا سپرپاور کا یہ سٹیٹس اواخر 1990ء تک برقرار رہا۔ 1945ء سے لے کر 1990ء تک کی نصف صدی سرد جنگ کی نصف صدی کہلاتی ہے۔ 1991ء میں سوویت یونین تحلیل ہو گیا اور سوویٹ یونین کی بجائے صرف ’روس‘ بن کے رہ گیا…… وہ آج بھی روس ہی کہلاتا ہے…… امریکہ نے 1945ء سے لے کر 1990ء تک دو بڑی جنگوں میں حصہ لیا۔ یعنی کوریا اور ویت نام کی جنگوں میں۔ ان 45 برسوں میں سوویت یونین دنیا کی دوسری سپرپاور ہونے کے باوجود کسی بھی جنگ میں شریک نہ ہوا۔ جب 1990ء میں گوربا چوف کے دور میں سوویت یونین سکڑ کر روس رہ گیا تو 1991ء سے 2021ء تک امریکہ نے افغانستان، عراق، شام اور لیبیا میں جنگوں کا بازار گرم کئے رکھا۔ لیکن دوسری طرف ان جنگوں میں سے روس نے کسی بھی جنگ میں حصہ نہ لیا۔ یہ 30 سال (1991ء تا 2021ء) روس کے لئے ’عہد ساز‘ سال تھے۔ انہی برسوں میں پیوٹن نے روس کو ’چپکے چپکے‘ اس مقام تک پہنچا دیا کہ وہ نہ صرف امریکہ کے سامنے خم ٹھونک کر میدان میں آ گیا بلکہ ناٹو کی 31 عدد افواج کو آئینہ دکھانے کے قابل ہو گیا!

پیوٹن کا یہی روس تھا جس نے فروری 2022ء میں یوکرائن میں ناٹو کی مزید توسیع روک دی۔ یوکرائن جو 1990ء تک سوویٹ یونین کی ایک ریاست تھی اسی ایک ریاست میں سوویت یونین کے مشہور زمانہ بھاری ہتھیار تیار ہوتے تھے۔ سوویت یونین کے ٹینک، طیارے، ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور میزائل اسی یوکرائن میں بنائے جاتے تھے۔ جب 1991ء میں یوکرائن، سوویت یونین سے علیحدہ ہوا تو مغربی دنیا نے اسے گلے لگا لیا اور اس پر مغرب کی وارٹیکنالوجی کی بارش کر دی۔ یہ ایک عبوری دور تھا۔ 1991ء تا 2021ء کے تین عشرے گویا رشین اور امریکن وار ٹیکنالوجی کا ایک ”ملاپی دور‘ تھا۔ لیکن ایک بڑا فرق جو مغرب و مشرق (روس) کے اسلحی ترکش میں دیکھا گیا وہ یہ تھا کہ یوکرائن جوہری قوت کی ڈویلپ منٹ سے دور رہا۔ نیو کلیئر پاور کی یہی دوری تھی جو فروری 2022ء میں روس کے حملے کے آگے کوئی بند نہ باندھ سکی۔

امریکہ کو پیوٹن نے الٹی میٹم دیا کہ اگر کسی مغربی ملک نے یوکرائن کی زمینی سرحد پار کی اور اپنا کوئی سولجر یوکرائن فوج کی مدد کو بھیجا تو تیسری عالمی جنگ نوشتہ ء دیوار ہو جائے گی۔ پیوٹن نے اس الٹی میٹم کو یہاں تک پھیلایا کہ اگر کسی ناٹو ملک نے اپنا کوئی جنگی طیارہ یا مسلح ڈرون یو کرائنی فضاؤں میں داخل کیا توا سے روس کی فضائی حدود پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ مزید برآں یہ بھی کہا کہ اگر کوئی میزائل، یوکرائن سرحد سے باہر کسی بھی جگہ سے فائر کیا گیا اور اس میزائل نے کسی رشین ہدف کو نشانہ بنایا تو روس اس ملک کو جوہری نشانے پر رکھنے کا حق محفوظ رکھے گا!

وہ دن اور آج کا دن کسی مغربی سولجر نے یوکرائنی سرحد پار کرکے اندر آنے کی جرأت کی، نہ کسی سویلین یا جنگی طیارے یا مسلح ڈرون نے یوکرائن کی فضاؤں میں پرواز کرنے کی کوشش کی اور نہ کسی یورپی ملک سے کوئی ایسا میزائل فائر کیا گیا جس کا ہدف کوئی رشین شہر، گاؤں یا ایسا ہدف تھا جس کی جنگی اہمیت یا افادیت قابلِ ذکر تھی!…… ہاں البتہ یہ ضرور ہوا اور اب تک ہوتا بھی رہا ہے کہ یوکرائن کی وہ مغربی سرحد جو پولینڈ اور رومانیہ سے ملحق ہے یا وہ جنوبی بحری سرحد جو اڑیسہ کی یوکرائنی بندرگاہ سے ملی ہوئی تھی اس کے ذریعے چوری چھپے (سرنگیں بنا کر) یوکرائنی فوج کو اسلحہ بارود اور جدید ہتھیار وغیرہ سپلائی کئے گئے۔

میں نے عمداً اس کالم میں مقامات اور اسلحہ جات کے نام نہیں لکھے۔ یہ نام اپنے ہجوں (Spellings) اور تلفظ کے اجنبی پن کی وجہ سے بیشتر قارئین کے لئے لسانی مغائرت کی فضا پیدا کریں گے۔ ہمارے اکثر قارئین کے لئے تو عسکری موضوعات ویسے بھی ’حدود باہر‘ ہیں، ان ناموں کی اجنبیت ان کو مزید مشکل بنا دے گی۔ مثلاً Donetsk، Lviv، Vyuyki اور Zapo ro zhye وغیرہ یوکرائنی شہروں اور قصبوں کے نام ہیں۔ ان کو اردو میں املا کرکے لکھ دیں تو بھی ’مشکل اندر مشکل‘والا معاملا ہو جائے گا۔ رشین اور یوکرائنی جرنیلوں کے نام بھی اردو زبان کی عسکری (یا نیم عسکری) صوتی لغت کی گرفت میں نہیں آتے۔ لیکن امریکی اور دوسرے مغربی میڈیا کی مجبوری ہے کہ ان ناموں کو بولنے اور لکھنے پر مجبور ہیں۔ اس لئے مغربی کالم نگار اپنے کالموں میں نقشوں اور خاکوں وغیرہ کا سہارا لیتے ہیں۔ میرے خیال میں قاری کو یہ نقشے اور خاکے کالم کی تحریر سے کہیں زیادہ تفہیم کی آسانیاں فراہم کرتے ہیں۔

کالم ختم کرنے سے پہلے قارئین سے گزارش ہے کہ وہ روس اور یوکرائن کی جنگی نقشوں پر ایک نظر ضرور ڈالیں۔ گوگل پر یہ سب کچھ موجود ہے، آپ کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ ان نقشوں میں فریقین کی صف بندی (Deployment) ملاحظہ کریں اور پھر فیصلہ کریں کہ کیا روس ہار رہا ہے اور کیا یوکرائن جیت رہا ہے؟

میں قارئین کی توجہ 19ستمبر 2022ء (یعنی صرف دو روز پہلے) ”دی نیویارک ٹائمز“ کے صفحہ نمبر4 پر شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کی طرف دلانا چاہتا ہوں جس کا عنوان ہے: ”امریکہ، یوکرائن کو بھیجے جانے والے اسلحہ جات کو اَپ گریڈ کرنے سے ہچکچا رہا ہے“:

 U.S. reluctant to upgrade arms sent to Ukraine.

اس مضمون میں امریکہ کی اس محدودیت کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکہ، یوکرائن کو ”جدید تر“ اسلحہ جات فراہم کرنے سے کیوں پہلوتہی کر رہا ہے۔ امریکہ ویسے ہی ایک عظیم طاقت نہیں بن گیا۔ اس کو معلوم ہے کہ آج وہ دنیا کی واحد سپرپاور ہے، ناٹو کی مسلح افواج اس کے پیچھے کھڑی ہیں، اس کے خزانے ڈالروں سے معمور ہیں لیکن اس کے باوجود وہ چاروں طرف سے گھرے ہوئے یوکرائن کو بالواسطہ (Indirect) اسلحی امداد فراہم کرنے کی جرأت نہیں کر رہا…… اس مضمون کو پڑھ کر اپنے پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر نظر دوڑائیں …… ہمارے خزانے خالی ہیں، ملک کا دوتہائی حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے، قحط کا خطرہ ہمارے دروازوں پر دستک دے رہا ہے، ملک کی آبادی منقسم ہے، اندھوں کو نظر آ رہا ہے کہ اس معمہ کا واحد حل صرف اور صرف الیکشن ہیں۔ لیکن کیا ہمارے مقتدر حلقے اس طرف متوجہ ہیں؟

گزشتہ 75برسوں سے ہم اسی بحران سے دوچار ہیں۔ ذرا سوچئے اگر 2023ء میں بھی امسال جیسا سیلاب آ گیا تو کیا ہوگا؟ کیا کوئی پیشگوئی کی جا سکتی ہے کہ اگلے برس بارشوں کا عالم وہ نہیں ہوگا جو اس برس ہوا ہے؟؟؟

مزید :

رائے -کالم -