میثاق معیشت سے پہلے میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے، عائشہ غوث پاشا 

میثاق معیشت سے پہلے میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے، عائشہ غوث پاشا 

  

لاہور(لیڈی رپورٹر)مکالمہ صرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نہیں ہونا چاہیے بلکہ مختلف طبقات اور اداروں کے درمیان ہونا چاہیے،میثاق معیشت سے پہلے ایک میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے،فوج کا عمل دخل پاکستان کی سیاست میں ہے اس لیے ان کو بھی اس مکالمے میں ہونا چاہیے،نئے ٹیکس دہندگان تلاش کرنے کی بجائے پرانے ٹیکس دہندگان کو ہی نچوڑ ا جارہا ہے،بینکس اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ایف بی آر کو ڈیٹا نہیں دیتے،پاکستانیوں کے 150 ارب ڈالر ملک سے باہر ہیں جبکہ قرضہ 120ارب ڈالر ہے،ٹیکس پالیسی دس سال کیلئے ہونی چاہیے،اگر 50ارب ڈالرز باہر سے نہیں آتا تو دیوالیہ ہونے سے نہیں بچا جا سکتا،ہمارے ٹیکس 6.1ٹریلین روپے ہیں جبکہ خرچ 9ٹریلین روپے ہے،آئی ایم ایف اور بین الاقوامی مالیاتی سامراجی غلامی کے چنگل سے نکلنا ہو گا،میثاق معیشت ہونا چاہیے اس کیلئے مستحکم سیاسی صورتحال کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام منعقد ہ ”سماجی،سیاسی اور معاشی نظام کا ارتقا ء،پاکستان کا ماضی، حال اور مستقبل“کے موضوع پر منعقد سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی معیشت ایک طوفان میں گھری ہے،اقدار کی گراوٹ اور پولرائزیشن ہے،معاشرے میں ایک تقسیم نظر آتی ہے،معاشی صورتحال کافی بہتر ہو چکی ہے، اب ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں،جب تک ہم اپنے گھر کو درست نہیں کریں گے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر تین سال کے بعد ہم کسی مشکل میں ہوتے ہیں اور آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے،مکالمہ صرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نہیں ہونا چاہیے بلکہ مختلف طبقات اور اداروں کے درمیان ہونا چاہیے،میثاق معیشت سے پہلے ایک میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے۔

عائشہ غوث پاشا 

مزید :

صفحہ آخر -