وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزراء سے جواب طلب

وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزراء سے جواب طلب

  

خیبرپختونخوا میں سرکاری ہیلی کاپٹر سمیت دیگر مشینری کے ناجائز استعمال کی شکایات نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے اور چیف الیکشن کمشنر نے ضمنی انتخابات میں سرکاری مشینری اور ہیلی کاپٹر کے استعمال اور وزیراعلیٰ  و وزراء  کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا نوٹس بھی لے لیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر  کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ  چیف سیکرٹری اور ایڈووکیٹ جنرل اپنی حکومت کو جاکر بتائیں کہ خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور  الیکشن کمیشن ضمنی انتخاب میں تمام امیدواروں کو یکساں مواقع کی فراہمی یقینی بنائے گا۔خلاف ورزی کی صورت میں تمام جماعتوں،امیدواروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت الیکشن کمشن کی معاونت پر تیار نہ ہوئی تو مجبوراً ضمنی انتخاب ملتوی کرنا پڑے گا۔ الیکشن کمیشن نے معاملے کی باضابطہ سماعت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کرنے کی ہدایت بھی کی۔ قبل ازیں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے وفاقی حکومت مخالف جلسوں اور احتجاج کے لئے وزیر اعلیٰ کا سرکاری ہیلی کاپٹر اور وسائل استعمال کرنے کی شکایات سامنے آئی تھیں جس پر خاصی لے دے ہو چکی ہے۔ اب ضمنی انتخابات میں پیدا ہونے والی صورت حال کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن خیبر کی حکومت مخالف جماعتیں بھی اس پر اعتراضات اٹھا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ضمنی الیکشن میں سرکاری وسائل اور اختیارات کا استعمال قرین انصاف نہیں۔ حکومت مخالف امیدواروں نے اس بارے میں الیکشن کمیشن کی طرف نظریں جما رکھی ہیں اور فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ جہاں تک ضمنی انتخابات کا تعلق ہے تو صوبائی حزب اختلاف کی جماعتیں بھی پہلے سے کہیں زیادہ متحرک دکھائی دے رہی ہیں اور تحریک انصاف کے امیدواروں کو مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی اور دیگر رہنماؤں کی طرف سے اپنے قائدین کے خلاف شکایات بھی بڑھتی جا رہی ہیں جس کا اثر انتخابات پر پڑنا بھی یقینی ہے۔

 سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد بحالی اقدامات تا حال ناکافی دکھائی دے رہے ہیں اور متاثرین کی شکایات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اکثر علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے سے کھلے آسمان تلے بیٹھے متاثرین سیلاب کی پریشانیاں بڑھ رہی ہیں۔ اگر چہ  صوبائی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ مکانات کے سروے کے لئے موبائل اپلیکیشن آئی ٹی بورڈ کے تعاون سے تیار کرلی  ہے لیکن  متاثرین کی بڑی تعداد  اب بھی بے یارو مدد گار پڑی ہے اور کسی ”غیبی امداد“ کی منتظر ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات اطمینان بخش نہیں تاہم غیر ملکی رفاہی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے ریسکیو سرگرمیاں قابل ستائش ہیں۔

 دوسری جانب حکومت کی طرف سے متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ گھروں کا معاوضہ دینے کے لیے 15 ستمبر سے ایک مشترکہ سروے کا آغاز ہو چکا ہے۔ سروے ٹیموں میں ضلعی انتظامیہ، سی اینڈ دبلیو،ایریگیشن،پاکستان آرمی، متعلقہ تحصیلدار،ایجوکیشن مونٹررنگ اتھارٹی،آئی ایم یو/محکمہ صحت کے نمائندے شامل ہیں،یہ بھی کہا گیا ہے کے شہری متاثرہ مکان  یا عمارت کے تمام کوائف آن لائن درج کر کے تباہ شدہ گھر کی تصاویر،شناختی کارڈاور دوسرے ضروری کاغذات  خود اپ لوڈ کر سکتے ہیں، یہ سروے باقاعدہ طور پر ایک منظور شدہ ورک پلان کے تحت کیا جارہا ہے متاثرہ گھروں کے معاوضے بینک آف خیبر سے اے ٹی ایم اور چیک بکس کے ذریعے ادا کئے جائیں گے جبکہ  رقم مرحلہ وار متاثرین میں تقسیم کی جائے گی۔جہاں بینک آف خیبر کی برانچ موجود نہیں وہاں اضافی برانچ اور عملہ تعینات کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں صوبائی حکومت کی جانب سے اس مون سون کے دوران مکمل تباہ شدہ گھروں کے مالکان کو اسپیشل پیکج کے تحت چار لاکھ روپے دئیے جا نے کا اعلان کیا گیا ہے، جزوی  نقصان کی صورت میں ایک لاکھ 60 ہزار روپے دئیے جائیں گے۔

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں مسلسل شورش بڑھنے اور بدامنی کے خوف سے شہری نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں، متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ماہرین   نفسیات کے پاس  آمد و رفت  بھی شروع ہوگئی ہے بالخصوص سوات اور گرد و نواح سمیت مالا کنڈ ڈویژن میں طالبان کی مبینہ موجودگی کی اطلاعات سے خاصے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر سعدیہ شفیق نے نجی چینل  کے پروگرام میں بتایا کہ طالبان کے دوبارہ سامنے آنے اور ان کے خوف نے شہریوں کو نفسیاتی طور پر شدید متاثرکیا ہے اب تک تین اضلاع کرم، جنوبی وزیرستان اور سوات کے شہری نفسیاتی طور پر دباؤ میں آنے کے بعد علاج کی غرض سے ان سے رابطہ کرچکے ہیں۔  اگرچہ یہ تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے تاہم خوف  کے اثرات بہت زیادہ  دکھائی دے رہے ہیں، جس  وجہ سے شہری خودکشی اور راست اقدام  پر بھی مجبور ہو سکتے ہیں۔انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ انکی زندگی کا اب کوئی مقصد نہیں ہے اس لئے وہ ختم کردینی چاہئے  اگرچہ اس مرتبہ یہ خوف زیادہ لوگوں کو متاثر نہیں کر رہالیکن بیشتر شہری متاثر ضرور ہونگے۔ جہاں تک طالبان کا تعلق ہے تو ان کی سرگرمیاں خیبر کے کئی علاقوں میں زیر زمین اور بعض میں نمایاں ہیں۔ یہ اطلاعات ہیں کہ ضلع ہنگو کے علاقے دوآبہ، سر زمکہ، زرگری، نریاب، چرگو کلے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے پیغامات اور اعلانات کئے جا رہے ہیں جن میں خواتین کا پردہ، جہاد فی سبیل اللہ اور چندہ وغیرہ کو موضوع بنایا  جا رہا ہے جس سے  علاقے میں خوف و ہراس کی فضا ہے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان کے آبائی علاقے مٹہ ضلع سوات اور صوبائی وزیر سیاحت شوکت یوسف زئی کے انتخابی حلقے شانگلہ میں بھی طالبان کی موجودگی سے مقامی شہری پریشانی میں مبتلا ہیں اور یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ مالا کنڈ ڈویژن کو طالبان کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ 

کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل سردار حسن اظہر حیات نے اس قسم کی خبروں کی تردید کی ہے اور کہاہے کہ خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کچھ واقعات ضرور رونما ہوئے ہیں لیکن مالاکنڈ ڈویژن کو کسی طور طالبان کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ہم نا صرف اس کی نفی کرتے ہیں بلکہ ہر حال میں ریاست کی رٹ بحال کریں گے۔ سوات، بونیر اور مردان کے عمائدین کے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے مالاکنڈ ڈویڑن میں امن کی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا واضح حکم دیا ہے،علاقے کے لوگوں سے درخواست ہے کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے سے گریز کریں یہ تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ جیسے فوج نے ان دہشت گردوں کو صلح کے عمل کی آڑ میں واپس آنے کی اجازت دے دی ہو، ہم اس کی پر زور تردید کرتے ہیں، اس طرح کے منفی خیالات عوام میں خوف اور عدم اعتماد پیدا کرتے ہیں، ہم انہیں آڑے ہاتھوں لیں گے، مقامی لوگ تعاون کریں،یہ 2009ء نہیں بلکہ 2022 ء ہے، حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف  قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے بھی ایکشن لیں گے۔

سرکاری ہیلی کاپٹر اور حکومتی مشینری کے استعمال پر  الیکشن کمیشن کا نوٹس،  کر لیا گیا

سیلاب متاثرین کے لئے صوبائی حکومت کی موبائل ایپ 

طالبان کی سوات سمیت دیگر علاقوں میں موجودگی کی اطلاعات 

کور کمانڈر پشاور نے مالا کنڈ کو طالبان کے حوالے کرنے کی تردید کر دی

مزید :

ایڈیشن 1 -