35 لاکھ بچے، وبائی امراض کی زد میں ہیں عالمی ادارہ صحت نے خدشہ

 35 لاکھ بچے، وبائی امراض کی زد میں ہیں عالمی ادارہ صحت نے خدشہ

  

شوکت اشفاق 

ملک کے شمالی علاقہ جات سے اندرون سندھ بشمول جنوبی پنجاب اور بلوچستا ن بھر میں آنے والا تاریخ کا بد ترین سیلاب اپنے پیچھے تباہیاں اور المیے چھوڑ گیا ہے،گو دریاؤں میں پانی معمول پر آ رہا ہے لیکن جن علاقوں میں یہ گیا وہاں ابھی اتر ا نہیں ہے جس کی وجہ نکاسی کیلئے سہولتوں کا فقدان ہے مشینری نہ ہونے کی وجہ سے متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالنے کی کوشش میں مصروف ہیں مگر ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے ریلیف ابھی  کچھ علاقوں میں پہنچ نہیں پایا  وبائی امراض وبال جان ہیں اموات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اس لئے عالمی ادارہ صحت نے سیلاب زدہ علاقوں میں پھیلنے والی بیماریوں سے بڑے پیمانے پر اموات کے خدشات کا اظہار کیا ہے اور ساتھ اپنے ذیلی ادارے یونیسیف کو اعداد شمار کے ساتھ متحرک کیا ہے جس نے عالمی برادری اور امداد کرنے والے اداروں سے اس مقصد کیلئے ہنگامی امداد کی اپیل کردی ہے کہ سیلاب میں گھرے لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں جن کی تعداد 35لاکھ سے زیادہ ہوسکتی ہے جن کیلئے فوری امداد کی ضرورت ہے اگر بروقت اقدام نہ کیا گیا تو بچوں کے حوالے سے یہ دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ ہوسکتا ہے ادھر متعدد بین الاقوامی اداروں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے غیر حتمی اعداد و شمار جاری کئے ہیں اس کے مطابق کروڑوں انسانوں کے ساتھ ساتھ لاکھوں جانور اور ایک ملین سے زیادہ گھر تباہ ہوئے ہیں ادھر ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں میں یونیسیف کے تعاؤن سے 9ملین ڈالر کا ریلیف پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کیلئے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ انتظامی تعاؤن کررہا  ہے جس کے تحت متاثرہ علاقوں میں تباہ ہونے والے اسکولوں میں عارضی لرننگ اور کھیل کے سنٹرز قائم کئے جارہے ہیں جہاں بچوں کو کتابیں اور یونیفارم مفت فراہم کی جائیں گی،متاثرہ علاقوں میں خواتین اور مردوں کیلئے الگ الگ بیت الخلاء کی تعمیر سمیت کم غذائیت کا شکار بچوں کے علاج کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں تاہم دوسری طرف دنیا بھر کی انسان دوست شخصیات اپنی اپنی حکومتوں سمیت عالمی اداروں اور مخیر حضرات سے پاکستان کیلئے امداد کی اپیل کررہے ہیں کیونکہ ان کے علم میں ہے کہ سیلاب نے کس قدر تباہی پھیلائی ہے اور اس کے متاثرین کس کسمپرسی کے عالم میں ہیں اگر علم نہیں ہے تو پاکستان کے سیاستدانوں اور اداروں کو نہیں ہے جو ابھی تک مفادات کی عینک پہنے ایک دوسرے پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ کئے ہوئے ہیں اور دوسرے ادارے محض تماشائی ہیں تاہم کچھ ادارے اور تنظیمیں حتی المقدور دن رات سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہیں۔

مملکت خداداد کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف مگر سرکاری دورے پر ہیں جہا ں لندن میں ملکہ الزبتھ IIکی آخری رسومات میں شرکت کے ساتھ ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف سے سیاسی معاملات پر مشاورت کررہے ہیں اور غور کیا جارہا ہے کہ پنجاب میں میاں حمزہ شہباز کو یا پھر کسی اور کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے۔اس ملاقات میں مگر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا کوئی ذکر ہوا اور نہ امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی ”امدادی بات“سامنے آسکی۔

 دوسری طرف ملک کے 80فیصد علاقے پر حکمرانی کرنے والی تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو عام انتخابا ت  کی بہت جلدی ہے ایک طرف وہ موجودہ اسمبلی میں جانے کو تیار نہیں ہیں تو دوسری طرف ضمنی انتخابات میں حصہ بھی لے رہے ہیں ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست جیتنے والے حلف نہیں لے رہے،خود 9سیٹوں پر ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں لیکن اس اسمبلی میں جانے کو تیار نہیں جس میں پونے چار سال تک وزیر اعظم رہے ہیں اسی اسمبلی میں یہی  ”چور،لیٹرے اور ڈاکو“موجود تھے تو تب بھی آپ وزیر اعظم تھے اب کیا ہوا اب کہتے ہیں کہ انقلاب دستک دے رہا ہے جسے عام انتخابات کے ذریعہ روکا جاسکتا ہے،جمہوری نظام میں انتخابات بہت ضروری ہیں جسے روکا نہیں جانا چاہیے لیکن جہاں ملک بھر میں اندھیرے کا راج ہے اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے اور مختلف حکومتیں ہلاکت خیزتباہ کن سیلاب کے بعد بچاؤ کیلئے پریشان ہیں اور عالمی برادری کو سیلاب کے بعد متوقع انسانی المیے کی روک تھام کیلئے اقدامات کی فکر ہے لیکن اکیس بار سلام  ہمارے حکومتی عہدیداروں،سیاستدانوں اور ان کے قائدین کو جو کروڑوں انسانوں کو کسمپرسی کے عالم میں چھوڑ کر ”حقیقی آزادی“دلوانے کیلئے مصنوعی غصے میں ہیں اور دعویدار ہیں کہ عام آدمی ان کے ساتھ ہیں۔لیکن انہوں نے سیلاب سے متاثرہ ان کروڑوں عام لوگوں کے بارے میں سوچا ہے جو زندگی بھر کی جمع پونجی ایسی قدرتی آفت کی وجہ سے گنوا بیٹھے ہیں اجناس اورفصلوں کا جو نقصا ن ہوا ہے وہ 30ارب ڈالر سے زیادہ کا ہے اس کا کیا بنے گا؟کہ آٹا سو روپے فی کلو سے تجاوز کررہا ہے سندھ میں چاول،گنے اور کپاس کی فصل تباہ ہونے سے ملکی ضروریات ہی پورا کرنا مشکل ہوگا برآمد کیا کریں گے ایسے میں قائدین رہنمائی کی بجائے مایوسی پھیلانے میں مصروف ہیں۔

 لاہور میں مقیم امریکی قونصلیٹ جنرل ولیم کے میکانیول اپنی ٹیم کے ہمراہ جنوبی پنجاب کے دورے پر آئے اور چار پانچ روز تک مختلف شہروں میں متعدد تقریبات میں شرکت کی وہاں انہوں نے میاں نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں ٹیکنو کریٹس،زرعی ماہرین اورایوان صنعت و تجارت کے ساتھ جنوبی پنجاب میں خصوصا ً زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبہ میں جوائنٹ ونچر کے امکامات پر مشاورت کی کہ علاقے میں سیلاب سے تباہی کے بعد بحالی میں تعاؤن کیلئے مل کرکام کرنا سب سے بہتر عمل ہوگا اب یہ ملاقاتیں مستقبل میں کیا رنگ لاتی ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

٭٭٭

 تاریخ کا بدترین سیلاب اپنے پیچھے تباہی کی داستانیں چھوڑ گیا دریا معمول پر آ رہے، پانی اترا نہیں 

اتنے بڑے المیہ پر بھی سیاست دان لڑ رہے ہیں، کپتان کو انتخابات کی فکر، ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے، جیت کر حلف نہیں لیں گے!

مزید :

ایڈیشن 1 -