آٹا غریبوں کی پہنچ سے دور، سستے پوائنٹس پر دن بھر لائینں، دھکے، گالیاں 

آٹا غریبوں کی پہنچ سے دور، سستے پوائنٹس پر دن بھر لائینں، دھکے، گالیاں 

  

کوٹ ادو،روہیلانوالی،اڈاگل والا،اڈا جھلا رمدینہ،بارہ میل،جہانیاں (تحصیل رپورٹر،نامہ نگار،نمائندہ پاکستان،سپیشل رپورٹر،نمائندہ خصوصی) اقبا ل پارک اور شہر بھر میں سستے آٹاسیل ڈپو پر عوام کارش لگ گیا۔خواتین اور بزرگ گرمی میں سارادن خوار ہوتے رہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے سستا آٹا ڈپو پر10کلو کا آٹا کا تھیلا 490 کا فراہم کیا جا رہا ہے اقبال پارک میں سستا آٹاعوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے آٹا (بقیہ نمبر21صفحہ نمبر6)

خریدنے کیلئے اقبال پارک میں شہری   صبح سویرے  ہی اپنی مزدوری چھوڑ کر سارا۔ دن  لائنوں میں  کھڑا ہونے کے باوجودآ ٹا نہ ملنے پر   خالی ہاتھ گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ   ڈیلر  اپنے من پسند افراد کو ٹا دے کر نوازتے ہیں    اسی طرح بس اڈہ۔  چوک  نورشاہ ۔ بخاری روڈ  و  دیگر جگہوں   پرواقعہ ان سیل پوائنٹ  پر صبح  سے ہی  عوام کی کثیر تعداد خریدنے کے لیے جمع ہوجاتی ہے جن میں خواتین جوان بچے بوڑھے سب شامل ہیں عوام کی لمبی قطاروں میں کھڑے مرد خواتین گرمی کی شدت سے بے حال ہیں اور لمبی لمبی قطاروں سے سستے  آٹا کی خریداری  سے خواتین اور مردوں کی عزت نفس مجروح ہو رہی ہے   بعض آٹا سیل پوائنٹ پر10 کلوکا ٹا حکومتی ریٹ 490 روپے کی بجائے 500 روپے کا فروخت کا انکشاف بھی ہوا ہییہ بھی معلوم ہے کہ آٹا مہنگا داموں تندور اور ہوٹل مالکان کو دیا جاتا ہے  جس سے سیل پوائنٹ آٹا ڈیلرز  ہزار روپے ایکسٹرا  کما رہا ہے عوامی سماجی حلقوں نے اٹا کا کوٹہ بڑھانے اور لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف  پرائس کنٹرول کمیٹی سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہیجبکہ انچارج ضیا اللہ گوندل نے بتایا کہ  اقپال پارک سمیت  سیل ڈپو پر ٹا شفاف طریقے  سے چلایا جارہا ہے۔دریں اثناء اڈا  گل والا، روہیلانوالی شہر میں مہنگائی میں پسی ہوئی عوام کو موجودہ حکومت بھی ریلیف مہیا نہ کر سکی روہیلانوالی میں تمام ضرورت کی اشیا کو  پر لگ گئے ہیں جس میں دالیں۔گھی۔آٹا۔چاول۔بیسن۔مرچ۔ٹماٹر۔پیار ودیگر شامل ہیں مہنگائی کا جن اس قدر بے قابو ہو چکا ہے جس پر شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی کوئی پالیسی نظر نہیں آرہی جس سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات نظر آسکے حالیہ دنوں میں ریکارڈ مہنگائی خاص طور پر آٹے کے ریٹ بڑھنے سے عوام کو ازیت کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے مہنگائی کے اس دور میں دو وقت کا کھانا اپنے بچوں کو کھلانا بہت مشکل ہو گیا ہے اور مہنگائی کے ستائے عوام نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ مہنگائی کا نوٹس لیں تاکہ عام دمی بھی دو وقت کھانا با آسانی کھا سکے۔علاوہ ازیں کبیروالا اورملحقہ علاقوں میں انتظامی نااہلی کے باعث سستا آٹا نایاب ہو نا شروع ہو گیا بازاروں میں دکانوں پرقائم فیئر پرائس شاپس پر محدود مقدار میں فراہمی ضروریا ت پوری کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں، شہری صبح سے شام تک ایک تھیلے کے حصو ل کے لئے کئی کئی گھنٹے لائنیں بنائے کھڑء رہیوتے ہیں مگر مقدار کم ہونے کے باعث باری آنے پر کالی ہاتھ گھر لوٹنا پڑجاتا ہے،صورتحا ل سے آگہی کے باجودمحکمہ خوراک کے اہلکار وں کی کار گزاری فوٹو سیشن تک محود رہ گئی ہیں، نمائندہ شہری،سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر خانیوال سے بازاروں میں سستے آٹے کی وافر مقدار میں فراہمی اورفوڈ اہلکاروں کی مبینہ چشم پوشی/ نااہلی کے فوری نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے۔دریں اثناء جہانیاں،ٹھٹھہ صادق آباد،پل 14، پل 132، پل پنجو علی شیر واہن نواح کے علاقوں میں آٹا گندم بحران شدت اختیار کر گیا ہے، ٹھٹھہ صادق آباد نواح کے علاقوں میں گندم کی قیمت 3200 روپے من جبکہ آٹا 4 ہزار روپے من سے کراس کر گیا ہے، عام مارکیٹ میں دوکانوں آٹا چکیوں پر مہنگے داموں فروخت جاری ہے، جبکہ سرکاری سطح پر قائم سستا آٹا سیلز پوائنٹس اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر آٹا نایاب ہو چکا ہے، جبکہ غریب عوام سستے آٹے سے محروم ہو کر پریشان ہے، ٹھٹھہ صادق آباد نواح کے سیاسی سماجی عوامی شہری حلقوں نے ڈپٹی کمشنر خانیوال اسسٹنٹ کمشنر جہانیاں سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے فلور ملوں کوسرکاری گندم کی قیمت1765سے بڑھاکر2300روپے من مقرر کرنے کے بعدفلور ملز مالکان نے مبینہ طور پر نرخوں میں من مانا اضافہ کرڈالا،بجلی، پٹرول، سبزی اور گوشت کی قیمتوں میں اضافے ساتھ ہی آٹے کی قیمت بھی مزید بڑھا دی گئی مہنگائی کے ستائے شہریوں کیلئے دو وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہوگیا،اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ فلور ملز مالکان نے 20کلو آٹے کا تھیلا330روپے مہنگا کردیا، سبسڈائز20کلو آٹے کی قیمت980سے بڑھاکر1310روپے کردی گئی،دوسری جانب فلورملز مالکان کا موقف ہے کہ سرکاری گندم کی قیمت1765سے بڑھاکر2300روپے من کردی گئی، سرکاری گندم کی قیمت بڑھنے سے سستے آٹے کی نئی قیمت مقررکی گئی ہے،ان کا کہنا ہے کہ فی کلو آٹیکی قیمت16روپے50پیسے بڑھادی گئی ہے، آٹے کی قیمت میں اضافہ بدھ سے نافذالعمل ہوگا،مہنگائی کے اس دور میں سستا آٹا نہ ملنے پر شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اتنا مہنگا آٹا کیسے خریدیں، پہلے عام دکانوں سے کھلا آٹا مل جاتا تھا،اب وہ بھی دستیاب نہیں،شہریوں کا کہنا ہے کہ چکی مالکان اس سے بھی مہنگا آٹا بیچ رہے ہیں، کہتے ہیں کہ گندم 500 روپے فی من مہنگی ہوگئی ہے تو وہ سستا آٹا نہیں بیچ سکتے،دکانداروں اور شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ آٹے کی سپلائی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اسکی قیمت پر بھی نظرثانی کی جائے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -