سیلاب متاثرین کیلئے زندگی آئے روز مشکل تر، وبائی امراض سے مزید 12افراد جاں بحق

    سیلاب متاثرین کیلئے زندگی آئے روز مشکل تر، وبائی امراض سے مزید 12افراد ...

  

       کراچی، دادو،کندھ کوٹ (این این آئی) سیلاب نے بستیوں کی بستیاں اجاڑ دیں، متاثرہ علاقوں میں ہر جگہ صرف تباہی ہی تباہی، اکثر مقامات پر تاحال کئی کئی فٹ پانی موجود ہے، تعفن اور وبائی امراض سے متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ خوراک اور ادویات کی بھی شدید قلت ہے۔دادو اور کندھ کوٹ کشمور اضلاع کے مختلف علاقوں میں گیسٹرو اور ملیریا سے مزید 12سیلاب متاثرین چل بسے، جس کے بعد ابتک  مرنیوالوں کی مجموعی تعداد 1571 ہو گئی ،لاکھوں افراد بے گھر ہیں جبکہ ریلیف کیمپوں اور کھلے آسمان تلے ڈیرے لگائے بے یار و مدد گار بیٹھے ہیں،دوسری جانب بلوچستان میں بھی ہر طرف تباہی کی داستان ہیں، سیلاب کے بعد بیماریوں سے اموات میں اضافہ ہو گیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ دونوں بیماریاں اب تک امدادی کیمپوں اور سیلاب زدہ علاقوں میں ناگفتہ بہ حالت میں رہنے والے بے گھر افراد میں اموات کی بڑی وجہ ثابت ہورہی ہیں۔ذرائع نے بتایا میہڑ شہر کے قریب سیتا گاؤں میں گیسٹرو اور ملیریا سے مرنیوا لے دو سیلاب متاثرین کی شناخت اکبر سولنگی اور امتیاز قمبرانی کے نام سے ہوئی،شفیع محمد کالونی میں آئی ڈی پیز کیلئے بنائے گئے ٹینٹ سٹی میں تین سالہ مصری کھوسو اور 10سالہ رحیم چانڈیو میہڑ ٹان میں بائی پاس کے قریب کیمپ میں دم توڑ گیا۔ایک مقامی فنکار شاہ رخ خان اور ایک تاجر عطا محمد چانڈیو میہڑ میں گیسٹرو اور ملیریا سے جاں بحق ہو گئے اور واہی پا ند ھی قصبے کے نواحی گاؤں بخار جمالی میں دو خواتین امانت جمالی اور بدھی جمالی ملیریا سے چل بسیں۔ این شاہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ان دو بیماریوں سے مرنیوالوں کی تعداد گز شتہ پانچ دنوں میں آٹھ جبکہ میہڑ تعلقہ میں گزشتہ 30دنوں میں اموات کی تعداد 20تک پہنچ گئی۔دادو کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر احمد علی سمیجو نے بتایا محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کی چھ ٹیمیں میہڑ اور ضلع کے دیگر 16حصوں میں کام کر رہی ہیں، ٹیموں نے گزشتہ 19دنوں میں کل ایک لاکھ 35ہزار مریضوں کا علاج کیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ ضلع میں شدید بارشوں اور سیلاب کے دوران بیماریوں اور سیلاب سے 39بچوں سمیت کل 80افراد ہلاک ہوئے۔ادھر ایک رپورٹ میں کہا گیا بلوچستان اور دریائے سند ھ سے آنیوالے سیلابی پانی سے 8لاکھ 49ہزار380افراد براہ راست متاثر ہوئے جن میں ایک لاکھ 72ہزار 799خاندان اور 4لاکھ 53ہزار 163بچے شامل ہیں۔ضلع کندھ کوٹ کشمور کے گاؤں سلیم جعفری میں دو سالہ سرداری جعفری اور تین سالہ نیاز جمال جعفری گیسٹرو کی وجہ سے انتقال کر گئے جبکہ یعقوب گاؤں میں تین سالہ عزیز اللہ بکرانی پیر کو اسی بیماری سے انتقال کر گئے۔دیہاتیوں نے شکایت کی کہ کئی بچے بارشوں کی وجہ سے پھوٹنے والی بیماریوں گیسٹرو اور ملیریا میں مبتلا ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی طبی ٹیم نے بیمار بچوں کے علاج کیلئے ان علاقوں کا دورہ نہیں کیا۔دوسری طرف سیلاب متاثرین کیلئے دنیا بھر سے امدادی سامان کی ہوائی راستے سے آمد کا سلسلہ جاری ہے، اس سلسلے میں عمان سے بھی امدادی سامان لیکر 2پروازیں منگل کی دوپہر کراچی پہنچیں۔ایوی ایشن ذرائع کے مطابق رائل عمانی ایئر فورس کے خصوصی طیاروں کے ذریعے امدادی سامان پاکستان بھیجا گیا،کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر قونصل جنرل عمان، پاکستان آرمی کے فائیو کور کے افسران، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور موفا کے نمائندوں نے پرواز کا استقبال کیا۔ایوی ایشن ذرائع کے مطابق عمان حکومت اور عوا م کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان کے متاثرینِ سیلاب کیلئے بھیجے گئے سامان میں کھانے پینے کی اشیا اور دیگر ضروریات کا سامان شامل ہے۔

سیلاب متاثرین 

مزید :

صفحہ اول -