کوہاٹ، بیسک کمیونٹی سکولز کی خواتین اساتذہ کااحتجاجی مظاہرہ

کوہاٹ، بیسک کمیونٹی سکولز کی خواتین اساتذہ کااحتجاجی مظاہرہ

  

      کوھاٹ (بیورو رپورٹ) سولہ ماہ سے تنخواہوں سے محروم بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز کی خواتین ٹیچرزکا کوھاٹ پریس کلب کے سامنے احتجاج‘تنخواہوں کی بلا مشروط ادائیگی‘ سندھ اور پنجاب کی طرح خیبرپختونخوا کی ٹیچرز کو بھی مستقل کرنے اور تعلیمی مواد کی تسلسل سے فراہمی یقینی بنانے کامطالبہ‘ تفصیلات کے مطابق بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز کی خواتین ٹیچرز نے اپنے مطالبات کے حق میں کوھاٹ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ان سکول ٹیچرز کا تعلق کوھاٹ کے دور دراز علاقوں گمبٹ‘ شکردرہ‘ شیخان‘خواجہ آباد‘ محمدزئی‘ نوے کلے‘لاچی اور مختلف علاقوں سے تھا احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ٹیچر رقیہ‘بینش‘وردہ اور دیگر نے کہا کہ کوھاٹ کے مختلف علاقوں میں کمیونٹی سکول 2002 سے چل رہے تھے 2018 میں 18 ویں ترمیم کے نتیجے میں ان کا انتظام وفاق نے صوبوں کے سپرد کیا جس کے بعد کافی سکول بند ہوگئے اور اب صرف 21 سکول کوھاٹ میں چل رہے ہیں جن میں ہزاروں بچے زیر تعلیم ہیں انہوں نے کہا کہ سولہ ماہ سے ان سکولوں کی ٹیچرز تنخواہوں سے محروم ہیں صوبہ سندھ اور پنجاب میں ان سکولز کی ٹیچرز مستقل ہوچکی ہیں مگر خیبرپختونخوا حکومت نے ان کی تنخواہیں تک بند کررکھی ہیں انہوں نے تنخواہوں کی بندش کی وجہ بتلاتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم نے صوبائی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ طے کررکھا ہے جو ٹیچرز کے مفادات کے خلاف ہے ہمیں یہ معاہدہ قبول نہیں انہوں نے نصابی مواد کی بروقت فراہمی سمیت انہیں مستقل کرنے اور سولہ ماہ کی تنخواہیں فوری طورپر ادا کرنے کامطالبہ کیا بصورت دیگر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا بھی فیصلہ کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -