مہمند‘ طورہ خوا ماربل پہاڑ کی لیز رضا مندی سے دی گئی

      مہمند‘ طورہ خوا ماربل پہاڑ کی لیز رضا مندی سے دی گئی

  

ضلع مہمند(نمائندہ پاکستان) تحصیل بائیزئی تورہ خوا ماربل پہاڑ کے لیز ہم ملنگ کور بابازئی نے رضامندی سے ٹھیکیدار نواب کو دیا ہے. سید رحمان نے بدمعاشوں کو لاکر کام زبردستی بند کر رکھا ہے، انتظامیہ فوری ایکشن لیں بصورت دیگر ناخوشگوار صورتحال کی زمہ داری ان پر ہوگی. مہمند پریس کلب میں تحصیل بائیزئی کے بابازئی قوم ملنگ کور کے درجنوں افراد مشران و کشران  نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ خاموش تماشائی نہ بنیں اور بندوق اٹھانے والوں کے خلاف فوری ایکشن لیں.  پریس کانفرنس کے دوران حاجی خانزادہ، عبد العزیز، اور سکندر خان نے کہا کہ ہم نے تورہ خوا ماربل پہاڑ کا لیز حاجی نواب حلیمزئی کو پہلے سے دیا تھا اور اب بھی دیا ہے ہمیں ان سے کوئی شکایت نہیں اور ہم سب کھلم کھلا اقرار کرتے ہیں کہ ہمارا پہاڑ کا لیز کسی دوسرے بندے کے ساتھ نہیں فقط حاجی نواب کے ساتھ ہیں. انہوں نے کہا سید رخمان نامی شخص نے بندوق والے لوگوں کو لا کر تورہ خوا ماربل پہاڑ کو زبردستی بند کر رکھا ہے اور انتظامیہ نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہے. جو کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعے کا سبب بن سکتا ہے. انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ تمام دستاویزات اور کاغذات موجود ہیں اور ہم اپنے ماربل پہاڑ کسی کو زبردستی اور بدمعاشی پر نہیں دے سکتے  بابازئی ملنگ کور کے لوگوں نے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں اور ہمارے پہاڑ پر کا بند کرکے ہمارے گھروں کی چولہے ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں. اس موقع پر نواب حاجی ٹھیکیدار کے ساتھیوں ایدران ولد عمر نے کہا کہ ہم نے 2004 سے مذکورہ ماربل پہاڑ پر کروڑوں روپے سرمایہ کاری کی ہیں. اور  اب فیاض خان اور سید رحمان نے غنڈوں اور بدمعاشوں کو بلاکر کام زبردستی بن کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے عدالت میں بھی کیس جیتا ہے ساتھ ہی منرل ڈیپارٹمنٹ نے بھی کام کرنے کا اجازت نامہ دیا ہے. اور انتظامیہ نے بھی کام چالو کرنے کی اجازت دے رکھی ہے مگر اب غنڈہ گردی کے ذریعے اور زبردستی ہمارا کام بند کیا گیا ہے جس پر پولیس اور انتظامیہ نے معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ہم کاروباری لوگ ہیں سرمایہ کاری کرکے کام کرنا چاہتے ہیں اور فیاض خان ولد سید رحمان نے زبردستی کام بند کر رکھا ہے. ہم انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے احکامات کو نافذ العمل کر کے غنڈوں کو وہاں سے اٹھالیں. بصورت دیگر ہم بھی روڈ پر نکل سکتے ہیں اور ان کو بند کر سکتے ہیں. مگر ہم تنازعہ بڑھانا نہیں چاہتے. اور اگر مجبورا ہم اور مقامی لوگوں نے کوئی اقدام کیا تو ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -