حلیم عادل شیخ نے چیف سیکرٹری سے تقسیم امداد کی تفصیلات مانگ لیں 

حلیم عادل شیخ نے چیف سیکرٹری سے تقسیم امداد کی تفصیلات مانگ لیں 

  

کراچی (سٹاف رپورٹر)قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ کا چیف سیکریٹری سندھ کو خط کر سندھ میں سیلاب زدگان میں تقسیم کے جانے والی امداد کی تفصیل مانگ لی۔ خط میں حلیم عادل شیخ نے لکھا ہے کہ سیلاب زدگان کے لئے دی گئی ملکی اور غیر ملکی امداد کی غیر منصفانہ تقسیم پر تشویش ہے سندھ حکومت نے لاکھوں خیمے، لاکھوں راشن بیگ و دیگر سامان تقسیم کے اعداد شمار جاری کیئے ہیں سندھ حکومت نے یہ نہیں بتایا امدادی سامان کن علاقوں میں کتنا تقسیم کیا گیا ہے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا ملکی و غیر ملکی تقسیم کی جانے والی امدادی سامان کی تفصیل مہیا کی جائے انہوں نے مزید کہا سیلاب میں 646 افراد جانبحق ہوئے ہیں بتایا جائے کن کے ورثا کو معاضہ یا مالی امداد دی گئی ہے؟ 16 لاکھ کے قریب گھروں کو نقصان پہنچا ان کی بحالی کے لئے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں؟ نہروں، کئنالوں، سیم نالوں میں شگاف پڑنے سے متعدد شہر گاؤں زیر آب آچکے ہیں سیلاب متاثرین بے یارو مددگار بیٹھے ہیں بتایا جائے کیا غفلت کرنے والے ایریگیشن افسران کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں آئی ہے؟ سندھ حکومت نے 7 بلین 23 اضلاع میں جاری کئے ہیں ان کی بھی تفصیل فراہم کی جائے تاکہ سندھ کے عوام کو معلوم ہو کہ فنڈ کا استعمال درست ہوا ہے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا موسمی تبدیلی کی پیشگی اطلاعات کے پر سندھ حکومت نے کیا اقدامات اٹھائے بتایا جائے،؟ پوری دنیا کو معلوم تھا موسمی تبدیلی کے باعث سیلاب آسکتا ہے لیکن سندھ حکومت نے کوئی موثر حکمت عملی نہیں اپنائی جس کی وجہ سے اتنا بڑا سانحہ ہوا ہے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا سیلاب متاثرہ علاقوں میں بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہے سیلاب متاثرین کو بیماریوں سے بچانے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں بتایا جائے؟ عالمی ادارہ صحت نے سندھ میں سیلاب متاثرین میں بیماریوں کے پھیلا کو دوسری تباہی ظاہر کیا ہے، بتایا جائے سیلاب متاثرین کو بیماریوں سے بچاؤ کے لئے سندھ حکومت نے کیا حکمت عملی بنائی ہے؟ خط میں مزید حلیم عادل شیخ نے کہا 14 سالوں محکمہ ایریگیشن کو اربوں کو بجٹ جاری  ہوا ہے، بتایا جائے کتنے کئنالوں، سیم نالوں، جھیلوں کی پشتیں مضبوط کی گئیں؟ کتنا پئسا بھل صفائی پر خرچ ہوا؟۔ منچھر جھیل کی وقت پر صفائی کر کے پانی کے قدرتی راستے کھول دیئے جاتے تو تباہی نہ آتی، بتایا جائے سندھ حکومت نے پیشگی اطلاعات کے باوجود موثر حکمت عملی کیوں نہیں اپنائی۔؟

مزید :

پشاورصفحہ آخر -