جب میں اپنا منہ کھولتا ہوں، موسیقی برآمد ہونے لگتی ہے

جب میں اپنا منہ کھولتا ہوں، موسیقی برآمد ہونے لگتی ہے
جب میں اپنا منہ کھولتا ہوں، موسیقی برآمد ہونے لگتی ہے

  

مترجم:علی عباس

قسط:84

میرے اوپر الزام عائد کیا جاتا تھا کہ میں اپنی نجی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہوں اور یہ درست ہے کہ میں ایسا ہی ہوں۔ لوگ آپ کو گھورتے ہیں جب آپ مشہور ہوتے ہیں، وہ آپ کا مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ اگر آپ مجھ سے پوچھتے کہ میں کیوں لوگوں کے درمیان سن گلاسز پہنتا ہوں جیسا کہ میں اکثر کیا کرتا ہوں تو میں آپ کو بتاتا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میںمسلسل ہر ایک کا مرکز نگاہ بنا رہوں۔ یہ خود کو کسی حد تک پنہاں رکھنے کا طریقہ ہے۔ میری عقل داڑھ ٹوٹنے کے بعد دندان ساز نے مجھے جراثیم سے بچاﺅ کی خاطر گھر میں پہننے کےلئے سرجیکل ماسک دیا۔ مجھے یہ ماسک بہت پسند تھا۔ یہ بہترین تھا۔ سَن گلاسز سے قدرے بہتر۔۔۔ اور مجھے کچھ عرصہ کےلئے اسے سب کے سامنے پہننے کا مزہ آیا۔ میری زندگی کے بہت کم گوشے چھپے ہوئے ہیں کہ اگر میںاپنی زندگی کا تھوڑا سا حصہ پوشیدہ رکھ سکوں تو ایسا کرنا مجھے ان تمام چیزوں سے عارضی طور پر دور کر دیتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اسے عجیب تصور کیا جا سکتا ہے لیکن مجھے اپنی نجی زندگی پسند ہے۔

میں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا کہ مجھے معروف ہونا پسند ہے یا نہیں۔ مجھے مقاصدکا حصول پسند ہے۔ مجھے اپنے لئے تشکیل دی گئی منزل سے آگے بڑھنا پسند ہے۔ اُس سے زیادہ کرنا پسند ہے جو میں نے سوچا تھا کہ میں کر سکتا ہوں۔ یہ فرحت انگیز احساسات ہیں۔ اس سے مماثل کچھ نہیں ہے۔ میں اپنے لئے مقاصد متعین کرنے کو بہت اہم خیال کرتا ہوں۔ اس سے آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کہاں جانا چاہتے ہیں اور وہاںتک کیسے پہنچنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ نے کسی منزل کا تعین نہیں کیا تو آپ کبھی یہ نہیں جان سکتے کہ شاید آپ منزل تک پہنچ سکتے تھے۔

 میں ہمیشہ یہ مذاق کیا کرتا تھا کہ میں گلوکاری اور رقص سے نہیں پوچھتا لیکن یہ درست ہے۔جب میں اپنا منہ کھولتا ہوں، موسیقی برآمد ہونے لگتی ہے۔ یہ میرا اعزاز ہے کہ میں اس صلاحیت کا حامل ہوں۔ میں ہر روز اس پر خدا کا شکر بجا لاتا ہوں۔ میں اسے بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہوں جو اُس نے مجھے ودیعت کیا ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھے یہی کرنے کےلئے بنایا گیا ہے جو میں کر رہا ہوں۔

ہمارے اردگرد بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن پر شکر گزار ہوا جا سکتا ہے۔کیا وہ رابرٹ فراسٹ نہیں تھا جس نے لکھا تھا کہ”دنیا وہ ہے جسے انسان ایک پتے میں دیکھ سکتا ہے۔“ میرا خیال ہے کہ یہ درست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے بچوں کے ساتھ رہنا پسند ہے۔ وہ ہر چیز کو دیکھتے ہیں۔ وہ اُداس نہیں ہیں۔ وہ اُن چیزوں کے بارے میں پُرجوش ہو جاتے ہیں جن کے بارے ہم پُرجوش ہونا بھول چکے ہیں۔ وہ بہت زیادہ خالص بھی ہیں چنانچہ وہ اپنے بارے میں آگاہ نہیں ہوتے۔ مجھے اُن کے ساتھ رہنا پسند ہے۔ ہمیشہ بچوں کا ایک جتھا میرے گھر کے باہر دکھائی دیتا ہے اور اُن کو ہمیشہ خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ وہ مجھے پُرجوش کرتے ہیں۔۔۔ صرف اُن کے قریب رہنا ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز کو نئے سرے اور کُھلے اذہان سے دیکھتے ہیں۔ یہ وہ حصہ ہے جو بچوں کو زیادہ تخلیقی بنا دیتا ہے۔ وہ قوانین کے بارے میں پریشان نہیں ہوتے۔ تصویر کو کاغذ کے ٹکڑے کے وسطی حصے میں نہیں ہونا چاہئے، آسمان کو نیلا نہیں ہونا چاہئے۔ وہ لوگوں کو بھی قبول کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ محض ایک مطالبہ کیا کرتے ہیں کہ اُن کے ساتھ بہتر طریقے سے پیش آیا جائے۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -