کیا یہ ہمارا مشترکہ مسئلہ نہیں؟

کیا یہ ہمارا مشترکہ مسئلہ نہیں؟
کیا یہ ہمارا مشترکہ مسئلہ نہیں؟

  


بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والے معاشرے میں والدین کے لئے بیٹی کی پیدائش سے لے کر اس کی شادی شدہ زندگی تک مسائل، فکر اور پریشانیوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ بیٹی پیدا ہو تو لوگوں کے منہ لٹک جاتے ہیں۔ رشتہ دار، دوست، احباب اور محلے دار ہی نہیں، واقف کار بھی اظہار ہمدردی کرنے لگتے ہیں کہ اللہ کی مرضی!.... دعا ہے، اگلی بار آپ کو بیٹے کی خوشی ملے، یہ دعا صرف اس لئے دی جاتی ہے کہ ہمارے ہاں بیٹے ہی کو باپ کا وارث سمجھا جاتا ہے۔ بیٹیاں تو کسی کے نزدیک اہمیت ہی نہیں رکھتیں۔ غور کیا جائے تو بیٹا صرف باپ کا وارث ہی بنتا ہے، جبکہ بیٹی بڑی ہو کر جب بیاہی جاتی ہے تو وہ ایک خاندان کے اتحاد، نئی نسل کی پرورش اور تربیت کی امین ہوتی ہے۔ یوں بیٹی کی اہمیت، بیٹے سے زیادہ ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ پورے خاندان کی بہتری کی ضامن بن کر زندگی میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔

بیٹی کو لوگ پال پوس کر جوان کرتے ہیں، اس کی تعلیم و تربیت اور گھریلو کام کاج سکھانے پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اس کی شادی کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ اور اچھے سے اچھا جہیز دیا جاتا ہے، پھر اسے سسرال بھیج کر آئندہ زندگی میں ہمیشہ خوشیوں اور بہاروں کی دعائیں کی جاتی ہیں۔ جن والدین کی بیٹیاں اپنے سسرال میں شوہر کے ساتھ سکھی، خوش و خرم اور پُرسکون زندگی بسر کرتی ہیں، ایسے والدین تو اس دنیا میں ہی جنت کا سکون پا لیتے ہیں۔ اس کے برعکس جو والدین کسی بھی وجہ سے بیٹی کی زندگی میں کوئی دُکھ یا غم دیکھتے ہیں تو ان کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر وہ والدین، جنہوں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر بیٹی کا گھر آباد رکھنے کے لئے بہت زیادہ اور قیمتی جہیز دیا ہو، ان کا سُکھ چین تباہ ہو جاتا ہے۔ ایسے والدین کو اس وقت بہت زیادہ صدمہ برداشت کرنا پڑتا ہے، جب انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ سسرال والوں نے ان کی بیٹی کا جہیز ہڑپ کر لیا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ لوگوں نے شادی بیاہ کو کھیل اور جہیز ہڑپ کرنے کا ایک ذریعہ سمجھ رکھا ہے اور اس مکروہ کھیل کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ معصوم، بھولے بھالے اور سادہ لوح والدین کو تلاش کر کے مختلف حیلوں، بہانوں سے جہیز کی طویل فہرست بنائی جاتی ہے ، پھر کچھ عرصے بعد ہی لڑکی کی زندگی اجیرن بنا کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور اس کا جہیز ضبط کر لیا جاتا ہے۔ روزنامہ ”پاکستان“ کی ایک خبر میں ایسے ہی ایک المیے کی تفصیلی نشاندہی کی گئی ہے کہ فیصل آباد میں شریف خاندانوں کی لڑکیوں سے شادی کر کے جہیز لوٹ لینے والے فراڈئیے گروہ کا انکشاف ہوا ہے۔ اس پیشہ ور گروہ کی سرپرستی کے لئے پولیس اور سیاست سے وابستہ بعض اہم لوگ سفارشی بن کر قانونی کارروائی کو روکنے کے لئے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ اس بات سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایسے فراڈئیے کتنے طاقتور، بااثر اور شاطر ہوتے ہیں جو شریف، عزت دار اور سادہ لوح والدین کو پریشان ہی نہیں کرتے ، بلکہ انہیں دھمکیاں دے کر قانونی کارروائی سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس فراڈئیے گروہ کے خلاف اول تو مقدمہ درج نہیں ہوتا، اگر مقدمہ درج ہو جائے تو کارروائی مو¿ثر انداز میں آگے بڑھنے نہیں دی جاتی۔ بتایا گیا ہے کہ اس فراڈئیے گروہ کے خلاف پہلے بھی کچھ مقدمات درج ہیں، مگر وہ آزاد پھر رہے ہیں اور مزید شکار کر کے مزے سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

دراصل ایسے لوگوں نے دولت کی ہوس اور عیش و آرام کی زندگی ہی کو اپنا مقصد حیات بنا لیا ہے۔ غیرت، انسانیت اور ضمیر نام کی کوئی شے ان کے پاس باقی نہیں، وہ انتہائی مہارت سے معصوم والدین اور ان کی بیٹیوں کو شادی کے نام پر پھنساتے ہیں۔ موجودہ دور میں بیٹیوں کے اچھے رشتے ملنا ویسے بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ لڑکے والے ڈیمانڈ کرتے ہیں کہ لڑکی بے حد خوبصورت، پڑھی لکھی اور اللہ میاں کی گائے کی طرح ہر حکم کی تعمیل کرنے والی ہو۔ اپنے ساتھ لمبا چوڑا جہیز لائے اور پھر سسرال کے جائز و ناجائز سلوک کا شکوہ کئے بغیر زندگی بسر کرے، بچے پیدا کرے۔ خصوصاً بیٹے کی پیدائش یقینی ہو، حالانکہ اس میں لڑکی کا عمل دخل ہرگز نہیں۔ میڈیکل ریسرچ کے مطابق مرد کے جرثومے کی وجہ سے عورت، بیٹا یا بیٹی پیدا کرتی ہے۔ اولاد تو اللہ کی دین اور نعمت ہوتی ہے، مگر عورت کو بیٹی پیدا ہونے پر قصور وار سمجھا جاتا ہے۔ اسے منحوس اور نہ جانے کون کون سے بُرے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ اس ماحول ہیں جب یہ بات بھی سامنے آئے کہ جہیز ہڑپ کر لیا گیا ہے تو اس بے چاری لڑکی اس کے والدین اور بہن بھائیوں کے دلوں پر جو المیے گزرتے ہیں۔ ان کا اندازہ اہل درد اور انسانیت پر یقین رکھنے والے ہی لگا سکتے ہیں۔

فیصل آباد کے اس بدنصیب خاندان نے جہیز ہڑپ کرنے والے فراڈئیے گروہ کے خلاف آواز بلند کی ہے، دیکھئے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ ہر درد مند دل رکھنے والا یہی دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے والدین کی مدد کرے اور انہیں انصاف میسر آجائے۔ اس بدنصیب خاندان نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی سے بھی اپیل کی ہے کہ اس فراڈئیے گروہ کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے۔ اللہ کرے کہ نگران وزیراعلیٰ بھی سابق خادم اعلیٰ کی طرح اس بدنصیب خاندان کی مدد کریں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے واقعات میں جرم کی سزا کو یقینی بنانے میں جو خامیاں موجود ہیں، انہیں دور کرنے کے لئے ارباب اختیار، این جی اوز وغیرہ اور سول سوسائٹی اپنا کردار کس حد تک ادا کر رہی ہیں؟ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے معاملات کو دو خاندانوں کا گھریلو تنازعہ اور لین دین کا معاملہ قرار دے کر زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ شاطر، چالاک اور بااثر لٹیرے عموماً گردش زمانہ سے محفوظ رہتے ہیں اور بدنصیب والدین، بیٹی کی طلاق اور جہیز کے لٹنے کا صدمہ برداشت کر کے آہیں بھرتے رہتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اسمبلی میں ایسے لٹیروں اور فراڈ کرنے والوں کو انجام تک پہنچانے کے لئے مو¿ثر قانون سازی کی جائے۔ صرف یہ تلقین نہ کی جائے کہ والدین جہیز نہ دیں۔ ویسے بھی قانون کے تحت جہیز دینا اور لینا جرم ہے۔ کوئی باپ جو اس کی استطاعت نہیں رکھتا، وہ قرض لے کر بیٹی کی خوشگوار زندگی کی خاطر جہیز دینا قبول کر لیتا ہے، یعنی مجبوراً جہیز دیتا ہے جو والدین امیر ہیں اور قیمتی جہیز دے سکتے ہیں، وہ بھی یہ سوچ کر زیادہ اور قیمتی جہیز دیتے ہیں کہ ان کی بیٹی سسرال میں کسی شے کی کمی کے باعث طعنے نہ سنے، لہذا یہ مسئلہ موثر قانون سازی کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔ اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ بیٹیوں کے رشتوں کے لئے پریشان والدین کو فراڈئیے لوگ مزید نہ لوٹ سکیں اور بے گناہ اور معصوم لڑکیوں کی زندگی تباہ ہونے سے بھی بچ جائے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ مسئلہ صرف بدنصیب والدین کا ہے۔ اس ملک کے سیاستدانوں، قانون ساز اداروں، این جی اوز اور سول سوسائٹیز کی کوئی ذمہ داری نہیںکہ وہ اس معاملے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔     ٭

مزید : کالم