”حلاج شہیدِ اناالحق نہ تھا،قتیلِ راہِ سیاست تھا“

”حلاج شہیدِ اناالحق نہ تھا،قتیلِ راہِ سیاست تھا“

 چودھری محمد اسلم سلیمی کا مضمون بعنوان ”تصوف اور روحانیت“ نظر سے گزرا۔مضمون کے ابتدائی حصے سے کوئی بھی مسلمان اختلاف نہیں کرسکتا، لیکن اس کے آخری حصے میں صاحب مضمون نے تحریر فرمایا ہے کہ چوتھی صدی ہجری کے صوفیائے کرام کی کچھ حرکتوں کو خلاف قرآن و سنت قرار دیا گیا ہے۔فقہائے اسلام اور محدثین نے صوفیاء کی ان حرکات و سکنات سے سخت اختلاف کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان کے بعض اقوال و افعال شریعت کے خلاف ہیں،مثلاً حسین ابنِ منصور حلاج نے جواناالحق( مَیں ہی حق ہوں) کا نعرئہ مستانہ بلند کیا اور کسی کو خط لکھا تو اس طرح شروع کیا کہ ”یہ خط ہے رحمان اور رحیم کی طرف سے“۔کسی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے جب کہا کہ یہ توربوبیت کا دعویٰ ہے تو حلاج نے جواب دیا کہ ”مَیں نے دعویٰ نہیں کیا، البتہ یہ وہ چیز ہے جو ہم صوفیوں کے نزدیک ”عین الجمع“ سے تعبیر کی جاتی ہے“۔

افسوس ہے کہ فاضل مضمون نگار نے ہو امیں تیر چلائے ہیں۔صوفیاءپر اتنے سنگین الزام لگانے کے لئے ضروری تھا کہ وہ تاریخی اعتبار سے باقاعدہ حوالے کے ساتھ یہ بیان کرتے کہ حلاج پر مذکورہ اعتراضات کس محدث یا فقیہہ نے لگائے؟ اور ”کسی“ سے کون بزرگ مراد ہیں،یعنی کس بزرگ کو خط لکھا گیا اور کس نے یہ اعتراض کیا کہ یہ دعویٰ تو ربوبیت کا ہے اور کس کتاب میں یہ مذکور ہے کہ حلاج نے یہ کہا کہ صوفیوں کے نزدیک یہ چیز”عین الجمع“ سے تعبیر کی جاتی ہے؟تاریخی اور علمی اعتبار سے تحقیقی طور پر یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ سب مستشرقین کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیاں ہیں ،جن کا مقصد مسلمانوں میں فکری انتشار پیدا کرنا اور باہمی سر پھٹول کا بیج بونا ہے،تاہم فکر و نظر کے بعض فروعی اختلافات سے قطع نظر حضرت علامہ اقبالؒ اپنی عمر، تجربے، وسیع مطالعے ،گہرے فکر و نظر،تدبر و تفکر اور قرآنی فہم و فراست اور حکمت کی بدولت حسین بن منصور علاج کے نعرئہ اناالحق کے بارے میں لوئی مینون کی تحقیقات کا یہ حوالہ اپنی کتاب”تاریخ تصوف“ کے ایک مستقل باب میں نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:”منصور کے خلاف علماءظاہر کی طرف سے چوراسی شہادتیں پیش کی گئیں،جن کی بناءپر اسے پھانسی کی سزاکا حکم دیا گیا۔الفہرست کے مصنف کے حوالے سے پھانسی کا حال بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ لکھتے ہیں کہ موت سے پہلے حلاج نے کہا: ”اے میرے رب! اگر تو ان لوگوں کو بھی وہی کچھ دکھا دیتا جو مَیں دیکھ رہا ہوں تو یہ مجھے کبھی سزا نہ دیتے اور اگر مجھ سے وہ چیز چھپا لیتا جو ان سے چھپا رکھی ہے تو مَیں کبھی ” اناالحق “ کے نعرے نہ لگاتا۔اے میرے اللہ! میرے قاتلوں کو معاف کردے“۔

حضرت علامہ طویل بحث و تمحیص کے بعد کہتے ہیں کہ منصور حلاج اور اس کے انجام کے متعلق علامہ سید سلیمان ندویؒ کا یہ قول حرفِ آخر کی حیثیت رکھتا ہے کہ ”حلاج شہیدِ اناالحق نہیں تھا۔ قتیل راہِ سیاست تھا۔اس کی حیثیت مذہبی گنہگار کی اتنی نہیں، جتنی ایک پولیٹیکل مجرم کی تھی۔اس کی بے گناہی کا خون علماءکے قلم پر نہیں، بلکہ سلاطین کی تلوار پر ہے“۔حضرت علامہ زبورِ عجم میں حلاج کو صدیقِ خودی تسلیم کرتے ہیں،لیکن ہم یہ عرض کرنے میں حق بجانب ہوں گے، اس لئے کہ تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ جن 84علمائے ظاہر نے حضرت حسین بن منصور حلاج کے خلاف شہادتیں قلمبند کرائی تھیں، انہوں نے سلاطین کی تلواروں کے خوف ہی سے اس گناہِ بے تقصیر کا ارتکاب کیا اور حلاج کے خلاف فتویٰ دیا تھا، تاہم شیخ فرید الدین عطارؒ تو حلاج کو ”قتیل فی سبیل اللہ کہتے ہیں اور مشہور صوفی عالم اور مفتی حضرت ابوبکر شبلیؒ کا بیان ہے:”مَیں اور حلاج ایک ہی چیز ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ لوگوں نے مجھے دیوانہ سمجھ کر چھوڑ دیا اور حسین کو اس کی عقل نے ہلاک کر ڈالا“.... جبکہ حضرت گنج بخش علی ہجویریؒ کا قول ہے کہ ”ہم اہلِ طریقت کے لئے حسین امام کا درجہ رکھتے ہیں“۔

واضح رہے کہ 1915ءتا1919ءکے دوران حضرت علامہ ”تاریخ تصوف“ لکھنا چاہتے تھے، لیکن اس کتاب کے مضامین سے اخذ شدہ کچھ پہلوﺅں پر جب حضرت علامہ نے ایک مضمون امرتسر سے شائع ہونے والے رسالے ”وکیل“ میں لکھاتواس پر دہلی سے حضرت خواجہ حسن نظامیؒ کی طرف سے شدید تنقیدی مہم کا آغاز کردیا گیا،چنانچہ علامہ اقبالؒ نے اس صورت حال سے پیدا شدہ ممکنہ ہنگامہ آرائی سے بچنے کے لئے اس کتاب کا نامکمل مسودہ طاقِ نسیاں میں ڈال دیا اور بیس برس کی طویل مدت گزرجانے کے باوجود 1938ءمیں اپنی وفات تک اسے شائع کرانے سے گریز کیا۔لیکن 1985ءمیں پروفیسر صابر کلوروی نے فرزندِ اقبال، جسٹس جاوید اقبال کی اجازت سے اسے شائع کردیا۔

چودھری محمد اسلم سلیمی نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ تصوف کے نام سے یونانی فلسفیانہ مباحث کو اہلِ تصوف نے اختیار کرتے ہوئے تصوف کے پاک چشمے کو گندا کردیا۔علاوہ ازیں ایران کی زردشتی تہذیب کے کچھ مظاہر کا اثر بھی قبول کرلیا گیا۔ہندوانہ تہذیب کے کچھ عجیب و غریب طورطریقوں پر تصوف کا نام چسپاں کردیا گیا،جن کی کوئی اصل قرآن و حدیث میں موجود نہیں۔پھر اس قسم کے لوگوں نے اپنے آپ کو شریعت کی پابندیوں سے بھی آزاد کرلیا۔یہ بے بنیاد دعویٰ بھی کردیا گیا کہ تصوف کو شریعت سے کوئی واسطہ نہیں وغیرہ وغیرہ“.... جہاں تک اس پیراگراف میں آخری دعوے کا تعلق ہے تو علمی دیانت کا تقاضا تھا کہ چودھری محمد اسلم سلیمی کسی ایک ہی جید اور قابل ذکر صوفی کا نام لکھ دیتے جو یہ دعویٰ رکھتا ہو کہ تصوف کو شریعت سے کوئی واسطہ نہیں“....تاہم اس کا مختصر سا جواب حضرت سلطان باہوؒ نے دے رکھا ہے، فرماتے ہیں....”ع علمے باہجھ کوئی فقر کماوے کافرمرے دیوانہ ہُو“....اُدھر حضرت علامہ محمد اقبال نے اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے میں مذکورہ تمام امور کا سیر حاصل تجزیہ کر رکھا ہے۔اس مقالے کا عنوان ہے....The Development of Metaphysics in Persia....یعنی ایران میں مابعد الطبیعات کا ارتقائ).... البتہ اس کا ترجمہ حضرت علامہ کی اجازت سے میر حسن الدین بی اے ایل ایل بی(عثمانیہ) نے ”فلسفہءعجم“ کے عنوان سے کیا تھا۔

اس مقالے میں حضرت علامہ جدید مستشرقین سے اتفاق نہیں کرتے۔جیسا کہ فان کریمر اور ڈوزی نے ایران میں تصوف کے نظریات کا مآخذ ہندی ویدانت کو ٹھہرایا تھایا نکلسن اس کو نوفلاطونیت سے ماخوذ سمجھتا تھا،جبکہ پروفیسر براﺅن کا خیال تھا کہ یہ غیر جذبی سامی مذہب کے خلاف آریائی ردعمل ہے۔حضرت علامہ ان سب کے خلاف حتمی طور پر یہ خیال رکھتے ہیں کہ یہ سب قطعاً غلط ہیں۔اقبال کے نزدیک ہندو ویدانتی اور صوفی کے نظریات میں زبردست اختلاف ہے....(دیکھئے مذکورہ کتاب کا صفحہ 142) ....اقبال کی حتمی رائے یہ ہے کہ صوفی اپنے نظریات کا جواز قرآن سے پیش کرتے ہیں۔صوفیائے کرام کا یہ دعویٰ ہے کہ پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی تعلیمات میں روحانیات(حکمت) اور”علم لدنی“ کو بھی شامل کیا ہے۔جیسا کہ سورة البقرہ کی آیت 151میں فرمایا گیا:”جیسا کہ ہم نے ایک رسول بھیجا تم ہی میں سے ،تاکہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت کرے اور تمہارے نفس کا تزکیہ کرے اور تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور تمہیں وہ تعلیم دے ،جس کا تمہیں علم نہیں“(یعنی علم لدنی)۔علامہ مزید فرماتے ہیں۔ قرآن حکیم میں حکمت کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔علامہ اس آیات کریمہ کے علاوہ پانچ دیگر آیات کا بھی اپنے مقالے میں خاص طور پر ذکر کرتے ہیں، جو یہ ہیں :البقرہ 3:۔الذاریات-21:ق-15النور -35: الشوریٰ-11 حضرت علامہ کہتے ہیں کہ یونانی منطق و فلسفے میں الغزالی، الرازی، ابوالبرکات اور آمدی سمیت بعض جید نامور صوفیہ جیسے شہاب الدین سہروردیؒ نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔حضرت سہروردیؒ نے اپنی کتاب ”کشف الفضائج الیونانیہ“ میں فلاسفہ کا ابطال کرکے عقل کی خالص بیچارگی کو ثابت کیا ہے۔حضرت علامہ کا دعویٰ ہے کہ نوفلاطونیت کے زیر اثر ہی پہلے یونانی فلسفے میں تصوف کی آمیزش ہوئی۔وہ نکلسن کے اس نظریے کی تردید کرتے ہیں کہ تصوف نوافلاطونیت سے ماخوذ ہے۔گویا حضرت علامہ کے نزدیک یونانی فلسفے میں تصوف کی آمیزش ہوئی اور توحید کے عقیدے کو فلسفیانہ رنگ دیا گیا تو یہ وحدت الوجود کا پیچیدہ رنگ اختیار کر گیا، لہٰذا یہ کہنا کہ تصوف کے نظریات میں یونانی، ایرانی، یاہندی طریقِ تزکیہ ءنفس کی آمیزش ہوئی انتہائی لغو اور بیہودہ فکری دیوالیہ پن ہے۔

حجتہ الاسلام حضرت امام غزالیؒ نے اپنی شہرئہ آفاق سوانح”المنقذمن الضلال“(جس کا ترجمہ مولانا محمد حنیف ندوی نے ”سرگزشتِ غزالی“ کے عنوان سے کیا) میں فرماتے ہیں: ”مجھے قطعیت کے ساتھ معلوم ہوا کہ صوفیائے کرام ہی کا گروہ ہے، جو خصوصیت سے اللہ کی راہ پر گامزن ہے، انہی کی سیرت سب سے بہتر ہے، انہی کا طریقہ زیادہ صاف ہے اور انہی کے اخلاق زیادہ پاکیزہ اور بلند ہیں،بلکہ اگر تمام عقلاً و حکماءکی عقل و حکمت کو جمع کرلیا جائے اور واقفانِ شریعت کے اسراروعلوم کوملا لیاجائے ،تاکہ ان سے بہتر سیرت تشکیل پا سکے۔تب بھی ان کے اخلاق و سیرت کے ڈھانچے کو بدلنا ضروری نہ ہو،کیونکہ صوفیائے کرام کی حرکات و سکنات چاہے ظاہری ہوں، چاہے باطنی، مشکوٰةِ نبوت ہی سے تو مستنیر ہیں اور نور نبوت سے بڑھ کر اور کوئی نور روئے زمین پر اس لائق نہیں کہ اس سے روشنی حاصل کی جائے۔آگے چل کر امام غزالی لکھتے ہیں کہ جس نے تصوف کی بہرہ مندیوں سے اپنا دامن طلب نہیں بھرا، اس نے حقیقت نبوت کی بو بھی نہیں سونگھی اور بجز نام اور اسم کے اس کو کچھ حاصل نہیں ہوا“۔   ٭

مزید : کالم