علامہ اقبالؒ اور سید سلیمان ندویؒ (2)

علامہ اقبالؒ اور سید سلیمان ندویؒ (2)
علامہ اقبالؒ اور سید سلیمان ندویؒ (2)

  


جب ”رموزِ بیخودی“ چھپی تو اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سید سلیمان ندوی نے معارف میں لکھا: مصرعوں کی دروبست اور فصل ووصل میں قصور ممکن ہے، لیکن یہ ناممکن ہے کہ جو مصرع ڈاکٹر اقبال کی زبان سے نکل جائے، وہ تیر و نشتر بن کر سننے والوں کے دل و جگر میں نہ اتر جائے۔ شاید اس کا سبب یہی ہے کہ ڈاکٹر اقبال اپنے مخاطب کے احساسات پر مذہب، فلسفہ، تصوف اور شاعری ہر راہ سے حملہ کرتے ہیں، اس لئے اختلافِ مذاق کے باوجود ان مختلف راہوں میں سے کسی ایک سے بھی بچ کر نہیں نکل سکتا۔ 10 اکتوبر1919ءکو علامہ اقبال سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں: شاعری میں لٹریچر بحیثیت لٹریچر کے کبھی میرا مطمح نظر نہیں رہا کہ اس کی باریکیوں کی طرف توجہ کرنے کے لئے وقت نہیں۔ مقصود صرف یہ ہے کہ خیالات میں انقلاب پیدا ہو اور بس۔ اس بات کو مدِنظر رکھ کر جن خیالات کو مفید سمجھتا ہوں، اُن کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ادھر سید صاحب معارف میں رقم طراز ہیں: ایک سال کا عرصہ ہوا، معارف نے یہ اطلاع شائع کی تھی کہ ڈاکٹر اقبال آج کل جرمن شاعر کے مغربی دیوان کے جواب میں ایک مشرقی دیوان مرتب کر رہے ہیں۔ ایک سال کے انتظار کے بعد ماہِ عید ”پیامِ مشرق“ بن کر نظر آیا۔ پیامِ مشرق مواعظ و حکم اور حقائق و معارف کا ایک بحرِ ذخار ہے۔ یقیناً یہ ڈاکٹر اقبال کے دماغ و قلم کا شہکار ہے اور شاید اقبال بھی اس سے بہتر کبھی نہ کہہ سکیں گے۔

5 جولائی1923ءکو علامہ اقبال سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں:”پیامِ مشرق“ پر جو نوٹ آپ نے ”معارف“ میں لکھا، اس کے لئے سراپا سپاس ہوں۔ پروفیسر نکلسن کا خط بھی آیا ہے۔ انہوں نے اسے پسند کیا ہے اور غالباً اس کا ترجمہ بھی کریں گے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ کتاب جدید اوریجنل خیالات سے مملو ہے اور گوئٹے کے ”دیوانِ مغربی“ کا قابلِ تحسین جواب ہے، مگر میرے لئے آپ کی رائے پروفیسر نکلسن کی رائے سے زیادہ قابلِ افتخار ہے۔ ”سیرة عائشہؓ“ چھپی تو سید سلیمان ندوی نے اس کی ایک کاپی علامہ اقبال کو بھی بھیجی۔ اس پر 23 دسمبر1920ءکو انہیں لکھتے ہیں:”سیرة عائشہؓ“ کے لئے سراپا سپاس ہیں۔ یہ ہدیہءسلیمانی نہیں، سرمہءسلیمانی ہے۔ اس کتاب کے پڑھنے سے میرے علم میں بہت مفید اضافہ ہوا۔

14 مئی1922ءکو سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں: رویتِ باری کے متعلق جو استفسار مَیں نے آپ سے کیا تھا، اس کا مقصود فلسفیانہ تحقیق نہیں تھی۔ خیال تھا کہ شاید اس بحث میں کوئی بات ایسی نکل آئے جس سے آئن سٹائن کے انقلاب انگیز نظریہءنور پر کچھ روشنی پڑے۔ اس خیال کو ابنِ رشد کے ایک رسالہ سے تقویت ہوئی جس میں انہوں نے ابوالمعالی کے رسالہ سے ایک فقرہ اقتباس کیا ہے۔ ابو المعالی کا خیال آئن سٹائن سے بہت ملتا جلتا ہے۔ گو مقدم الذکر کے ہاں یہ بات محض ایک قیاس ہے اور مو¿خر الذکر نے اسے علمِ ریاضی کی رو سے ثابت کیا ہے۔

22 اگست1922ءکو انہیں ایک خط میں لکھتے ہیں: جتنی آگاہی آپ نے دے دی ہے، وہ اگر زمانہ فرصت دے تو باقی عمر کے لئے کافی ہے۔ اسی خط میں لکھتے ہیں کہ زمان و مکان و حرکت کی بحث اس وقت فلسفہ اور سائنس کے مباحث میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ میری ایک مدت سے خواہش ہے کہ اسلامی حکماءوصوفیا کے نقطہءنگاہ سے یورپ کو روشناس کرایا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اس کا بہت اچھا اثر ہوگا۔ 4 ستمبر1933ءکو انہیں لکھتے ہیں: دارالمصنفین کی طرف سے ہندوستان کے حکمائے اسلام پر ایک کتاب نکلنی چاہئے۔ اس کی سخت ضرورت ہے۔ عام طور پر یورپ میں سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی کوئی فلسفیانہ روایات نہیں ہیں۔ اسی خط میں لکھتے ہیں کہ علومِ اسلامی کی جوئے شیر کا فرہاد آج ہندوستان میں سوائے سید سلیمان ندوی کے اور کون ہے؟ ....27 اگست1924ءکو سید سلیمان ندوی کے نام ایک خط میں انہوں نے اس بات سے صاف صاف انکار کیا ہے کہ حدیث ناسخ قرآن ہو سکتی ہے: 5 ستمبر1924ءکو علامہ اقبالؒ نے سید سلیمان ندوی کو لکھا کہ آپ (انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں) ضرور آئیں۔ یہاں کے لوگوں کو ختمِ نبوت کے مسئلے سے بڑی دلچسپی ہے اور آپ کی تقریر انشاءاللہ بے حد توجہ سے سنی جائے گی۔ اس کے علاوہ مَیں ایک مدت سے آپ کی ملاقات کا اشتیاق رکھتا ہوں۔ میرے ہی غریب خانے پر ٹھہرئیے، مگر سید صاحب اس جلسے میں شرکت نہ کر سکے۔ اسی خط میں علامہ مشرقی اور ان کے ”تذکرہ“ کے بارے میں لکھتے ہیں: جناب مشرقی امرتسر کے رہنے والے ہیں۔ نوجوان آدمی ہیں۔ کیمبرج سے ریاضی میں اعلیٰ امتحان پاس کیا.... مجھے ان کی قابلیت کا حال زیادہ معلوم نہیں، مگر اس کتاب کے ریویو سے جو کچھ معلوم ہوا، وہ یہ ہے کہ مغربی افکار پر بھی ان کی نظر نہایت سطحی ہے۔ باقی تفسیرِ قرآن و تاریخِ اسلام کے متعلق آپ مجھ سے بہتر اندازہ کر سکتے ہیں.... ”زمیندار“ میں ”تذکرہ“ پر ایک ریویو مفصل شائع ہوا ہے جو مصنف نے محنت و کاوش سے لکھا ہے، مگر سید سلیمان ندوی کا سٹائل اور وسعتِ نظر اس کو حاصل نہیں۔ مجھے تذکرہ کا علم اسی ریویو سے ہوا۔ اسی خط میں سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں کہ آپ قلندر ہیں، مگر وہ قلندر جس کی نسبت اقبال نے یہ کہا ہے:

قلندراں کہ براہِ تو سخت می کوشند

زشاہ باج ستانند و خرقہ می پوشند

بخلوت اند و کمندے بہ مہر و مہ پیچند

بخلوت اند و زمان و مکاں در آغوشند

دریں جہاں کہ جمالِ تو جلوہ ہا دارد

زفرق تابہ قدم دیدہ و دل و گوشند

بروز بزم سراپا چو پرنیاں و حریر

بروزِ رزم خود آگاہ و تن فراموشند

(ترجمہ: قلندر جو تیری راہ میں سخت کوشش کرتے ہیں، وہ خرقہ پہنتے، مگر بادشاہوں سے خراج وصول کرتے ہیں۔ جلوت میں ہوں تو چاند سورج پر کمند پھینکتے ہیں، خلوت میں ہوں تو زمان و مکاں ان کی آغوش میں ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں جہاں تیرے جمال کے بہت سے جلوے ہیں، وہ سراپا دید و دل گوش بن جاتے ہیں۔ بزم کے دن وہ سراپا پرنیاں اور حریر ہوتے ہیں اور رزم کے دن خود آگاہ تن فراموش ہوتے ہیں)

عبداللہ چغتائی لکھتے ہیں کہ آخر سید سلیمان ندوی نے انجمن حمایت اسلام کے اپریل1927ءکے جلسے میں شرکت کی۔ وہ لاہور آئے تو دہلی دروازے کے باہر جہازی بلڈنگ میں مولانا ظفر علی خان کے ہاں ”زمیندار“ کے دفتر میں مہمان ہوئے۔ ان سے ملنے کے لئے 15 اپریل کو علامہ اقبال ”زمیندار“ کے دفتر گئے۔ مولانا سید سلیمان ندوی دفتر کی اوپر کی منزل میں الگ کمرے میں فروکش تھے۔ دونوں حضرات نہایت تپاک اور مسرت سے ایک دوسرے سے ملے۔ ملاقات ایک گھنٹہ تک رہی۔ تمام وقت علمِ دین و فلسفہءاسلام کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ یہ زیادہ تر امام رازی کی ”مباحثِ شرقیہ“ کے متعلق تھی، کیونکہ ان دنوں زمان و مکاں کا موضوع علامہ اقبالؒ کے زیر مطالعہ تھا اور اس کے لئے وہ اکثر علماءو فضلاءسے استصواب کر رہے تھے۔ اسی ملاقات میں علامہ اقبالؒ نے مولانا سید سلیمان ندوی کو اپنے ہاں دعوتِ طعام بعد از نماز مغرب دی اور ساتھ ہی مولانا ظفر علی خاں کو مدعو کیا۔ جب ہم وہاں سے چلنے لگے تو علامہ اقبال سید صاحب کو اپنی موٹر میں بٹھا کر جلسہ گاہ سے باہر چھوڑ آئے۔ اس روز سید صاحب نے ”عہدِ رسالت میں اشاعتِ اسلام“ کے موضوع پر تقریر کی۔

اسی شب مولانا سید سلیمان ندوی کی علامہ اقبال کے مکان پر دعوت ہوئی، جس میں مولانا ظفر علی خاں، محمد دین تاثیر، غلام رسول مہر، عبدالمجید سالک وغیرہ شامل تھے۔ علامہ مشرقی کی تالیف ”تذکرہ“ اور زمان و مکان کے موضوع پر دیر تک مذاکرہ ہوتا رہا۔ شعر و شاعری پر بھی گفتگو ہوئی۔ امام رازی کی کتاب ”مباحثِ مشرقیہ“ میں بحثِ زمان و مکان کے بعد مجلس کا اختتام ہوا۔ 16 اپریل1927ءکو انجمن حمایتِ اسلام کے جلسہءعام میں علامہ اقبالؒ نے The Spirit of Islamic Culture (ثقافتِ اسلامیہ کی روح) کے موضوع پر انگریزی میں تقریر کی۔ 17 اپریل کو خواجہ محمد سلیم نے سید سلیمان ندوی کو دعوتِ طعام دی۔ اس محفل میں علامہ اقبال اور سید سلیمان ندوی سمیت بہت سے اہلِ کمال جمع تھے۔ دعوت میں کافی لطیفے بھی ہوئے۔ ایک موقع پر جب موضوع حدیثوں اور ضعیف راویوں پر گفتگو ہو رہی تھی تو علامہ اقبالؒ نے کہا کہ اب ہمارا راوی (دریائے راوی) بھی ضعیف ہوگیا ہے۔

واپسی پر سید سلیمان ندوی نے اپنے رسالے ”معارف“ میں لکھا کہ ڈاکٹر اقبالؒ سے یہ میری پہلی ظاہری ملاقات تھی اور مراسلت کی باطنی ملاقات تو1914ءسے قائم ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کرم کیا اور ملنے میں پیش دستی فرمائی۔ قیام گاہ میں آئے، متعدد صحبتوں میں ساتھ رہے ، پھر اپنے کاشانے میں مدعو کیا۔ ڈاکٹر صاحب ان تمام صحبتوں میں شمعِ محفل تھے۔ انہوں نے تو ”شمع اور شاعر“ لکھی ہے، لیکن مَیں نے لاہور میں خود شاعر کو شمع دیکھا اور قدر شناسوں کو اس کا پروانہ پایا۔ ان کی صحبت لاہور کے نوجوانوں کی دماغی سطح کو بہت بلند کر رہی ہے۔ ان کے فلسفیانہ نکات، عالمانہ افکار، شاعرانہ خیالات ان کی آس پاس کی دنیا کو ہمیشہ متاثر رکھتے ہیں۔ اس کے بعد سید سلیمان ندوی اپریل1933ءمیں دائرہ معارفِ اسلامیہ کے جلسے کے موقع پر لاہور آئے۔ انہوں نے ایک طویل مقالہ پڑھا جس کا عنوان تھا: ”لاہور کا ایک مہندس خاندان جس نے تاج محل اور لال قلعہ بنایا“۔ علامہ اقبالؒ نے جلسے کی صدارت کی۔ یہ جلسہ پنجاب یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں منعقد ہوا۔

سید سلیمان ندوی کے نام علامہ اقبالؒ کے بعض خطوط سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دل میں قوم کا کتنا درد تھا، مثلاً 24 اپریل 1926ءکو انہیں لکھتے ہیں: مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ممالکِ اسلامیہ کے موجودہ حالات دیکھ کر بے انتہا اضطراب پیدا ہو رہا ہے۔ ذاتی لحاظ سے میرا دل مطمئن ہے۔ یہ بے چینی اور اضطراب محض اس وجہ سے ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ نسل گھبرا کر کوئی اور راہ اختیار نہ کر لے۔ اپنے 12 نومبر1916ءکے خط میں سید سلیمان ندوی کی ایک غزل کی تعریف کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ لکھتے ہیں: آپ کی غزل لاجواب ہے، بالخصوص یہ شعر مجھے بڑا پسند آیا:

ہزار بار مجھے لے گیا ہے مقتل میں

وہ اک قطرئہ خوں جو رگِ گلو میں ہے

عمر خیام پر سید سلیمان ندوی کی کتاب چھپنے پر 9 دسمبر1933ءکو انہیں لکھتے ہیں: عمر خیام پر آپ نے جو کچھ لکھ دیا ہے، اس پر اب کوئی مشرقی یا مغربی عالم اضافہ نہیں کر سکے گا۔ الحمدللہ اس بحث کا خاتمہ آپ کی تصنیف پر ہوا۔23 نومبر1953ءکو اسلامی علوم، تاریخ اور صحافت کا یہ آفتاب جہاں تاب ( سید سلیمان ندوی) کراچی میں غروب ہوگیا۔ علامہ اقبال اور سید سلیمان ندوی کے درمیان خط و کتابت تو 1914ءسے تھی، لیکن پہلی ملاقات اپریل1927ءمیں اس وقت ہوئی، جب سید صاحب انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسے میں شرکت کے لئے لاہور آئے تھے۔ علامہ اقبالؒ شاعر مشرق اور مفکر اسلام تھے اور سید صاحب اسلامی علوم کا بحر بے کراں۔ دونوں حضرات ایک دوسرے کے علم و فضل کے معترف تھے اور ایک دوسرے کا بے حد احترام کرتے تھے۔ انسانی تاریخ میں ہم عصر مشاہیر کے درمیان یہ احترام و محبت کمیاب ہے۔ علامہ اقبال نے سید صاحب کو علومِ اسلامی کی جوئے شیر کا فرہاد کہا اور سید صاحب نے اقبالؒ کو ایسی شخصیت قرار دیا جسے قدرت صدیوں کے بعد پیدا کرتی ہے:

عمر ہا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات

تا ز بزم عشق یک دانائے راز آید بروں

(ختم شد)  ٭

مزید : کالم