فخرو بھائی کے نام

فخرو بھائی کے نام
فخرو بھائی کے نام

  


فخرو بھائی ! میں ایک عام پاکستانی ہوں، اچھاکھاتا اور اچھا پہنتا ہوں، اچھی جگہ پر نوکری کرتا اور میرے بہت سارے رشتے دار اچھے خاصے کاروباری ہیں، ہمارے گھروں میں گاڑیاں یا کم از موٹر سائیکل تو ضرور ہیں ، دو چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہم میں سے کچھ یوپی ایس اور کچھ جنریٹرز کے ذریعے بھی برداشت کرلیتے ہیں، یقین کریں کچھ عرصہ پہلے بجلی، گیس اور فون وغیرہ کے بل جب صرف بنکوں میں ہی جمع ہوتے تھے تو ہماری زندگی کے مشکل ترین کاموںمیں ایک ان بلوں کا جمع کروانا بھی تھا کیونکہ بنکوں کے باہر لگی ہوئی طویل قطاروں میں وقت ضائع کرنا بہت اذیت ناک لگتا تھا، کئی مرتبہ تو چھوٹا موٹا بل صرف اس لئے اگلی دفعہ پر ڈال دیتے کہ کون لائن میں لگے ، جرمانے کے ساتھ ادا کر دیں گے ،بلوں کی ادائیگی کریڈٹ کارڈز سے ہونے لگی، اے ٹی ایم مشینوں پر سہولت آئی یا ای سنٹرز بنے تو یقین مانیں ، معمول کی زندگی کا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہو گیا۔

فخرو بھائی ٓ ، اصل میں یہ تو بات کا بیک گراو¿نڈ اور اس اصل ایشو کی تمہید ہے جسے میں اب بیان کرنے لگا ہوںاور وہ یوں ہے کہ آپ سب کی نصیحتیں سن سن کے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مرتبہ ووٹ کا حق نہ صرف خود استعمال کروں بلکہ اپنی فیملی کے ہر فرد کو بھی ایسا کرنے پر مجبور کروں۔ مجھے بتایا جا رہا ہے کہ جعلی ووٹ ختم ہو چکے ہیں اور اس مرتبہ امکان موجود ہے کہ ننانوے فیصد فئیر اینڈ فری الیکشن ہوں، مجھے یہ احساس بھی ہو رہا ہے کہ اگر ہم گیارہ مئی کے دن اپنے گھر میں بیٹھے لوڈو کھیلتے ، فلمیں دیکھتے اور مہمانوں کو انٹرٹین ہی کرتے رہے تو ہو سکتا ہے کہ اگلے پانچ سالوں تک اس ایک روز کی تفریح کی قیمت نااہلوں اور مفادپرستوں کی حکومت کے عذاب کی صورت میں ادا کرتے رہیں لیکن میں نے اخبارات میں پڑھا ہے کہ ملک بھر میں ووٹرز کی تعداد آٹھ کروڑ 61 لاکھ89 ہزار ہو چکی ہے، پنجاب میں چار کروڑ92 لاکھ59 ہزار اور اسی طرح میرے شہر لاہور میں بیالیس لاکھ ووٹرز ہیں اور مجھے بہت سارے لوگ ڈر ارہے ہیں کہ اگر میں ووٹ ڈالنے کے لئے گیا توگیارہ مئی کی گرم دوپہر میں مجھے گھنٹوں قطار میں کھڑے ہونا پڑے گا،ووٹ ڈالنے کے شوق میں پسینہ بہے گا، تھکاوٹ ہو گی اور میرے کپڑے بھی خراب ہوجائیںگے۔

فخرو بھائی میں اس مرتبہ ووٹ اس لئے بھی ڈالنا چاہتا ہوں کہ ایک شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق انیس سو اٹھاسی سے لے کر سن دو ہزار آٹھ تک کے انتخابی نتائج پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا کہ ووٹ ڈالنے کی شرح کی اعتبار سے لاہور کا شمار پنجاب کے سب سے کم ووٹ ڈالنے والے اضلاع میں ہوتا ہے۔ان چھ انتخابات میں یہاں ووٹنگ کی کل شرح چالیس فیصد بنتی ہے جبکہ مقابلتاً پنجاب کے کم سے کم چھ اضلاع ایسے ہیں جہاں ووٹنگ کی شرح پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔جیسے بھکر میں ان چھ انتخابات میں ووٹنگ کی شرح انسٹھ اعشاریہ گیارہ فیصد رہی۔ لاہور میں ووٹنگ کی سب سے زیادہ شرح انیس سو نوے میں 48اعشاریہ 75فیصد تھی جب یہاں نو کی نو نشستوں(2002میں قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد نو سے بڑھا کر تیرہ کر دی گئی تھی) پر اسلامی جمہوری اتحاد کو کامیابی ملی تھی۔اس شہر میں سب سے کم ووٹ 2002میں ڈالے گئے جب صرف 32اعشاریہ 31فیصد لوگوں نے یہاں ووٹ ڈالا۔ ان انتخابات میں ن لیگ نے چار، پیپلزپارٹی نے تین، متحدہ مجلس عمل اور ق لیگ نے دو دو اور پاکستان عوامی تحریک(مولانا طاہرالقادری) نے ایک نشست جیتی تھی۔ اس کے علاوہ ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا تھا۔2008کے انتخابات میں لاہور میں 38اعشاریہ 62فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالا اور کامیابی حاصل کرنے والی جماعت ایک بارپھر نواز لیگ تھی جس نے تیرہ میں سے گیارہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔1988 کے انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 46اعشاریہ 11 فیصد تھی اور ان انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی تھی جس نے نو میں سے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔اب سن دو ہزار تیرہ میں لاہور میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے علاوہ پاکستان تحریکِ انصاف بھی میدان میں ہے۔ سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ کیا اس بار بھی لاہور والے سیاسی طور پر دیگر پنجاب کے مقابلے میں غیر متحرک نظر آتے ہیں یا اس نئے ماحول میں نئی تاریخ رقم کریں گے۔ اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد تو میں اور زیادہ چاہتا ہوں کہ لاہور میں ووٹنگ کی شرح کم ازکم پچاس فیصد سے تو اوپر ہونی ہی چاہئے تاکہ پتا لگ سکے کہ لاہورئیے جمہوریت کے ساتھ ہیں مگر اس کا مطلب بھی یہی ہوگا کہ بائیس ، چوبیس لاکھ لاہوریوں کو قومی اور صوبائی اسمبلی کا ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے پولنگ اسٹیشنوں پر لایا جائے، ایک طرف یہ خواہش ہے اور دوسری طرف یہ ڈر ہے کہ اتنے رش اور گرمی میں گھنٹوں انتظار کرنے کا خوف ووٹ کاسٹ کرنے کی میری خواہش کا گلا ہی نہ گھونٹ دے۔

فخرو بھائی ! لاہور بارے کہا جاتا ہے کہ یہ زندہ دلوں کا شہر ہے اور ملک بھر کی سیاسی فکر اور تحریکوں کی رہنمائی کرتا ہے لیکن اگر لاہورئیے ہی ووٹ کاسٹ کرنے میں دلچسپی نہ لیں تو کیا یہ پاکستانیوں کا سیاست اور جمہوریت پر عدم اعتماد نہیں ہو گا۔ اس حوالے سے میری پہلی اور طویل المیعاد قسم کی تجویز تو یہ ہے کہ ووٹنگ کے لئے نادرا کے تعاون سے کوئی الیکٹرانک ڈیوائس بنا لی جائے اور وہاں رجسٹرڈ فون نمبرز کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم بڑی سیاسی جماعتوںکے حق میں ووٹ لے لئے جائیں، یہ سہولت کم از کم ان شہریوں کو تو پہلے مرحلے میں فراہم کر دی جائے تو الیکٹرانک چپ والے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ استعمال کر رہے ہیں،میں جانتا ہوں کہ یہ بہت مشکل اور لمبا کام ہے اور اب انتخابات جب تین ہفتوں کی دوری پر کھڑے ہوں اسے پایہ تکمیل تک نہیںپہنچایا جا سکتا مگر ایک دوسری تجویز یہ ہے کہ کسی طرح پولنگ اسٹیشنوں پرووٹ ڈالنے کے لئے جانے والوں کے لئے ٹوکن سسٹم شروع کروا دیں جیسے بنکوں میں کسی بھی ٹرانزیکشن کے لئے جانے پر ٹوکن مل جاتا ہے، ہر شخص شناختی کارڈ دکھا کے صرف اپنے لئے یا اپنی فیملی کے کسی ایک اور فرد کے لئے ٹوکن حاصل کرے، اسے اندازہ ہو کہ ووٹ ڈالنے کے لئے اس کی باری دو، تین یا چار گھنٹوں کے بعد آسکتی ہے،وہ اپنے کام نمٹائے اوروقت آنے پر پولنگ اسٹیشن پر ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے پہنچ جائے۔ ٹوکن کا یہ نظام پولنگ افسران اور ایجنٹوں کی معاونت سے ملک بھر میں شروع کیا جا سکتا ہے۔

فخرو بھائی ، ایک دو ایشوز اور ہیں، میرے ایک دوست ایک بڑی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں، وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے مطابق کھمبوں اور سڑکوںپرہورڈنگز اور بینرز لگانے کے لئے کئی کئی سو روپے فی بینر فی ہفتہ کی بھاری فیس مقرر کر دی گئی ہے ، اس کاکہناہے کہ وہ خدمت کے جذبے سے سیاست کر رہا ہے کاروبار تو نہیں، اگر آپ ہدایت کریں کہ انتخابی امیدواروں کو ماضی کی طرح مفت پبلسٹی کی سہولت دی جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پی ایچ اے اور ضلعی حکومت پانچ، دس ہزار وپے کی علامتی فیس کے ذریعے ہر امیدوار کو اپنے اپنے حلقے میں سڑکیں اور کھمبے استعمال کرنے کی اجازت دے دے۔ اسی طرح امیدواروںپر پابندی ہے کہ وہ ووٹروں کو گھروں سے لانے ، لے جانے کے لئے ٹرانسپورٹ مہیا نہیں کرسکیں گے،کیااس طرح ووٹروں کی شرح مزید گرنے کا خدشہ نہیںہے۔ ویسے ایک تجویز اس سے الگ بھی ہے کہ آپ تمام صوبائی حکومتوں کو حکم جاری کریں کہ تمام سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں میں ووٹ کی اہمیت پر مضامین اور تقاریر کے مقابلے کروائیں، بچے اپنے والدین کو بتائیں کہ اگر انہوں نے ووٹ کاسٹ نہ کیا تووہ کل حکمرانوں سے یہ گلہ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے کہ ان کے مسائل حل نہیں کئے، جواب میں سیاستدان اور حکمران ان سے پوچھ سکیں گے کہ کیا آپ نے اپنی ذمہ داری ادا کی تھی جو ہم سے جواب طلبی کی جا رہی ہے۔ دوسرے ان انتخابات سے ہٹ کر ہم بچوں کے ذہن میں ووٹ کی اہمیت کو راسخ کر سکیں گے اور وہ آنے والے کل میںخود ووٹرز بنیں گے تو انہیںبچپن کا سبق یاد ہو گا۔

مزید : کالم