سعودی عرب اور فائر سیفٹی انتظامات!

سعودی عرب اور فائر سیفٹی انتظامات!
سعودی عرب اور فائر سیفٹی انتظامات!
کیپشن:   2 سورس:   

  

سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے، جو ہر اسلامی ملک کی مصیبت کے وقت اس کی ڈھال بن جاتا ہے۔ یوں تو سعودی عرب اسلام کی نمو اور نبی پاکﷺ کے حوالے سے ہر مسلمان کے دل میں بستا ہے، خانہ کعبہ، روضہ¿ رسول ، مسجد نبوی، مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ، حجرِ اسود، مقامِ ابراہیم ؑ اور دیگر ہزاروں ایسے مقامات ہیں، جن کی زیارت کے لئے ہر مسلمان کی آنکھیں ترستی ہیں۔ وہ گلیاں جہاں نبی پاکﷺ کے نقش پا ہوں، وہاں جاں چھڑکنے کی آرزو ہر مسلمان کے سینے میں پلتی رہی ہے، لیکن بحیثیت مسلم میرا یہ پختہ یقین ہے کہ ان مقدس مقامات کی زیارت صرف اسے نصیب ہوتی ہے، جسے بلایا جاتا ہے، بُلاوے کے بغیر وہ زیارت نہیں ہوتی۔ پچھلے دنوں میرے بہت ہی عزیز دوست، بڑے بھائی اور ہر دلعزیز شخصیت ڈاکٹر فواد شہزاد مرزا کو بھی عرب سے بُلاوا آیا یا یوں کہیے لجپال عربیﷺ نے اپنے پیارے بندے کو بُلایا۔ ڈاکٹر فواد شہزاد صاحب محنتی، پُرلگن اور پُرعزم انسان ہیں، ہر وقت اُن کے چہرے پر تسکین اور پُرعزم اُمنگ کا حسین امتزاج ایک مسکراہٹ کی صورت میں نمایاں رہتا ہے۔ کونسلنگ کا ہنر اُنہیں خوب آتا ہے۔ آپ کتنے ہی پریشان حال ہوں یا کام کے بوجھ کی وجہ سے اعصابی تناﺅ کا شکار ہیں، تو آپ کو ڈاکٹر فواد سے ضرور ملنا چاہئے، اس لئے نہیں کہ وہ ڈاکٹر ہیں، بلکہ اس لئے کہ وہ دو منٹ میں آپ کو اپنی باتوں سے موم کر دیتے ہیں اور آپ اپنی پریشانی بھول کر یہ سوچنا شروع ہو جاتے ہیں کہ آپ کس لئے پریشان تھے؟

 اکیس روز بعد جب اُن کی سعودی عرب سے واپسی ہوئی اور احباب و اقارب اُنہیں مبارکباد دینے کے لئے گئے، تو اُن کے ہونٹوں سے جھڑنے والے پھولوں جیسے الفاظ سے محسوس ہوتا تھا کہ خدا اپنے محبوب بندوں سے کتنا پیار کرتا ہے۔ عمرے کے دنوں اور وہاں پر گزارے لمحات کی اُنہوں نے ان الفاظ میں کچھ یوں منظر کشی کی.... ”خانہ کعبہ کا منظر ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ پہلی نظر میں آپ بھول جاتے ہیں کہ آپ کے علاوہ اِس دنیا میں کچھ اور بھی ہے، آنکھوں میں نمی، دل میں گناہوں کا پچھتاوا، خانہ کعبہ کا روح پرور منظر دل پر ہیبت طاری کر دیتا ہے۔ آپ یقین کریں کئی بار ایسے مواقع آتے ہیں کہ آپ اپنی فیملی تک کو بھول جاتے ہیں، ایک روحانی سی تسکین محسوس ہوتی ہے۔ خانہ کعبہ سے نظر نہیں ہٹتی، وہاں سے جب آپ مدینہ منورہ جاتے ہیں، تو وہاں کا سماں ہی کچھ اور ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ سب دیکھ رہے ہیں“۔

یقینا ڈاکٹر فواد کے دلی جذبات کی ٹھیک طرح سے مَیں ترجمانی نہ کر سکوں، لیکن اُن کے خوبرو چہرے پر تسکین اور روحانی مسرت کے تاثرات اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اُس عزت سے نواز دیا ہے، جس کے لئے وہ چُنے گئے تھے۔ ڈاکٹر فواد چونکہ پنجاب ایمرجنسی (ریسکیو1122) کے جزوِ لازم ہیں، اسی لئے کچھ دوستوں نے پوچھا کہ وہاں پر فائر سیفٹی اور بلڈنگ ہائی لاز کی کیا صورت حال ہے؟ کہنے لگے کہ سعودی عرب دیگر کاموں کی طرح اس کام میں بھی بازی لے گیا ہے۔ کوئی ہوٹل ایسا نہیں جس میں فائر سیفٹی انتظامات نہ ہوں، حتیٰ کہ ایک مقررہ مدت کے بعد بلدیہ کے افسران چیکنگ کرتے ہیں اور باقاعدہ تاریخ درج کر دی جاتی ہے۔ اسی طرح بلڈنگ بائی لاز پر بھی سختی سے عمل درآمد کرایا گیا ہے،عمارت کی تعمیر سے پہلے نقشے کی منظوری ہی تب دی گئی، جب اس میں فائر سیفٹی قوانین کو یقینی بنایا گیا۔ اگر آپ ہوٹل کے مالک ہیں، تو آپ کو خود فوڈ کوالٹی کو یقینی بنانا ہوتا ہے، وگرنہ آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ مہینے میں ایک بار بلدیہ افسران آئیں گے اور خوراک کے نمونے لے جائیں گے، جنہیں باقاعدہ لیبارٹری میں چیک کیا جائے گا اور اگر کوئی خوراک معیار کے مطابق نہ ہوئی، تو کوئی سفارش کام نہیں آئے گی، بلکہ ہوٹل سیل کر کے جرمانہ عائد کر دیا جائے گا اور تب تک ہوٹل سیل رہے گا، جب تک جرمانہ ادا نہیں ہوتا اور اس بات کی یقین دہانی کرائی جاتی کہ آئندہ اس طرح کی غفلت نہیں برتی جائے گی۔

ایک اور دوست نے پوچھ لیا کہ ٹریفک قوانین کی کیا صورت حال ہے؟ ڈاکٹر فواد بولے:”سعودی عرب میں ایک شرطہ کھڑا ہوتا ہے، جس کے سامنے کسی کی مجال نہیں کہ وہ قوانین کی خلاف ورزی کر پائے گا۔ وہاں سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے چھوٹے فلائی اوورز اور انڈر پاسز ہیں، جنہیں شاید ”کبُری“ کہا جاتا ہے اگر آپ کوئی غلط ٹرن لینے لگیں، تو آپ کو روک لیا جاتا ہے اور کسی دباﺅ میں آئے بغیر آپ کا چالان کر دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب ہماری بس مدینہ منورہ سے نکلنے لگی تو ڈرائیور کے پاس ”ایگزٹ پرمٹ“ نہیں تھا، جس پر نہ صرف اُس کا چالان ہوا، بلکہ بس بند کر دی گئی اور ہمارے لئے دوسری بس کا انتظام کیا گیا اور سارا کام اتنی مہارت اور نفاست سے کیا گیا کہ مسافروں میں کوئی بدمزگی پیدا نہیں ہوئی، بلکہ اس ایک عمل نے انہیں ٹریفک قوانین کی اہمیت اور انفورسمنٹ کا قائل کر لیا۔ ڈاکٹر فواد کہتے ہیںکہ وہاں نماز کا وقت ہے تو ہر دکان بند ملے گی۔ مَیں بھی یہی کہوں گا کہ جب مسلمانوں کے مقام حرمت پر زندگی سے پیار کے اس قدر انتظامات کئے گئے تو کیا اسلام کے قلعہ پاکستان میں ہیں، زندگی سے پیار نہیں ہے؟ ہمیں بھی انسان اور انسانی زندگی سے پیار کرنا چاہئے اور ایسے انتظامات کرنے چاہئیں، جن سے انسانی زندگی کو محفوظ کر کے پاکستان کا نام دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں لکھا جائے۔

مزید :

کالم -