دہشت گردی اور بیرونی ایجنسیاں

دہشت گردی اور بیرونی ایجنسیاں
دہشت گردی اور بیرونی ایجنسیاں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان میں جاری دہشت گردی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں، 9/11کے بعد جب افغان امریکہ جنگ میں ہم نے امریکہ کے لئے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کیا تو صلہ میں ہمیں دہشت گردی کی کارروائیاں اور خودکش بم دھماکے ملے جو روزمرہ کے معمول کا حصہ بنتے گئے ، گزشتہ 15برسوں میں بم دھماکوں میں سات ہزار کے قریب افراد جاں بحق ،جبکہ دہشت گردی اور خودکش دھماکوں میں مجموعی طور پر 50ہزار سے زائد پاکستانی لقمہ اجل بن چکے ہیں صرف یہی نہیں پاکستان تقریباً سو ارب کا معاشی نقصان بھی برداشت کر چکا ہے۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے گزشتہ برس جب پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو ایک عرصہ تک پوری قوم نے سکھ کا سانس لیا ، لیکن کچھ نادیدہ قوتوں کو ایسا ہرگز اچھا نہ لگا کہ پاکستان میں امن و آشتی قائم رہے۔آپریشن ضرب عضب کے بعد واہگہ بارڈر پر ہونے والے خودکش بم دھماکے سے دہشت گردی کی ایک نئی لہر امڈ آئی اور سال 2014کے آخر میں رونما ہونے والے سانحہ پشاور نے تو پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ۔اس روح فرسا واقعہ کے بعد پوری قوم تذبذب کا شکار ہو گئی چیف آف آرمی سٹاف نے افغانستان کا ہنگامی دورہ کیا ،جس میں اس حملے کے ماسٹر مائند ملا فضل اللہ کی حوالگی کا مطالبہ کیاگیا۔دو سال کے لئے ملٹری کارٹس کا قیام عمل میں لایا گیا ،جن کا مقصد دہشت گردوں کو سزائیں دینا تھا ۔اس کے علاوہ وزیراعظم کی قیادت میں تمام سیاسی جماعتیں بھی اکٹھی ہو گئیں اور دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان بنایا گیا ،جس پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے۔

دہشت گردی کی جڑیں کاٹنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جس کے لئے ہمیں اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ نائن الیون کے بعد پا کستان میں دہشت گردی کو پروان چڑھانے والے دہشت گردوں کے پیچھے کون ہے تو اس میں کچھ شک نہیں کہ ان دہشت گردوں کے تانے بانے پاکستان مخالف ایجنسیوں ؛رااورموسادسے جا کر ملتے ہیں۔پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے میں ان ایجنسیوں کے کردار کو کسی صورت بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔بلوچستان میں را کی کاروائیوں سے کون واقف نہیں ۔گزشتہ دنوں رونما ہونے والے سانحہ تربت میں بھی را کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں جس پر آرمی چیف نے بھی واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی میں بیرونی ایجنسیاں ملوث ہیں۔ پشاور واقعہ کا منصوبہ افغانستان میں بنا، جس میں را ملوث تھی اور ویسے بھی اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کی آگ ہمسایہ ملک نے لگائی ہے ۔

پاکستان نے امریکہ، برطانیہ اور بھارت کو ثبوت بھی فراہم کئے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو بیرونی فنڈنگ ہوتی ہے جسے روکنا نہایت ضروری ہے ،لیکن انڈیا اس وقت پاکستان دشمنی میں پیش پیش ہے جو نہ صرف ملک دشمن عناصر کی سرپرستی کر رہا ہے ،بلکہ مشرقی محاذ پر جان بوجھ کر مسلسل حالات خراب کر رہا ہے تا کہ مغربی سرحدوں پر جاری آپریشن میں پاک فوج کی توجہ منقسم ہو سکے۔اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان عالمی برادری پر انڈیا کے اس مکروہ فعل کوعیاں کرے ۔یہاں ایک اور اہم بات کہ اب یہ ایجنسیاں اور ان کے آلہ کار پاکستان میں فرقہ واریت اور لسانیت کو ہوا دینے کے لیے حملے کروا رہے ہیں تا کہ قوم آپس میں دست وگریبان ہو تو اس حوالے سے بھی ہم سب کو حا لات کی نزاکت کو سمجھنا ہو گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کی ہمیں دہشت گردی کے خلاف کیا کرنا چاہیئے؟ سب سے پہلے تو ہمارے سیکیورٹی وقانون نافذ کرنے والے اداروں ااور ایجنسیوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان حالات میں اپنے دائرہ کار کو مزید وسعت دیں ، کیونکہ دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کی اطلاع تو پہلے دے دی جاتی ہے ،لیکن ان لوگوں کے سہولت کاروں اور ٹریننگ دے کر بھیجنے والوں کو قابو کرنا نہائت ضروری ہے ۔

ہمارے ادارے ہر سمت سے دہشت گردوں کے خلا ف گھیرا تنگ کر رہے ہیں اور کامیابیوں سے ہمکنار آپریشن ضرب عضب میں نوے فیصد سے زائد علاقہ دہشت گردوں سے پاک کیا جا چکا ہے پاک فوج نے دہشت گردوں کے مرکزی علاقوں اوردرہ مستول کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس سے دہشت گردوں کا افغانستان میں فرار ہونے کا راستہ بند ہو چکا ہے جو کافی خوش آئند ہے ا سرحد کے آر پار دہشت گردوں کو قابو پانے کی لئے پاکستان اور فغانستان میں مفاہمت ہو چکی ہے، جس کے دور رس نتائج ملیں گے اور وہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں خوشحالی وسلامتی ہو گی ۔اس وقت پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف دہشت گردی کے خلاف نہایت پرجوش ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا انہوں نے مزید بتایا کہ ملک میں امن کی فضاقائم کرنے کے لئے دہشت گردوں کا ہر جگہ پیچھا کریں گے ۔ جہاں تک عوام کی بات ہے تو دہشت گردی فوج یا حکومت کا مسئلہ نہیں ،بلکہ بقول آرمی چیف عوام اپنی صفوں میں چھپے ملک دشمن عناصر کی نشاندہی کریں اور فوج کے شانہ بشانہ چلیں، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ now or never والے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جسے ہر حال میں جیتنا ہے ۔

مزید :

کالم -