کپتان آؤٹ ۔۔۔!

کپتان آؤٹ ۔۔۔!
کپتان آؤٹ ۔۔۔!

  

سنا ہے کہ آج کل بنی گالا میں ریحام خان چائے یا کافی میں جتنی بھی میٹھاس گھولے کپتان کو وہ کڑوی اور بے ذائقہ لگتی ہے ،کیونکہ جس ہزیمت سے کپتان پارلیمنٹ کے اجلاس میں دوچار ہوئے اس کی تلخی دیر تک کپتان کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتی رہے گی ۔پارلیمنٹ کے اجلاس میں تحریک انصاف کی واپسی کے موقع پر سیالکوٹی خواجہ نے کپتان کو جو باؤنسر مارے وہ ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے بیٹسمین واسٹن کو وہاب ریاض کی طرف سے کھلائے جانیوالے باؤنسروں سے زیادہ جارحانہ تھے ۔واسٹن کی تو قسمت اچھی کہ اس کا کیچ ڈراپ ہو گیا ،لیکن عمران خان کی بدقسمتی کہ کراچی والوں نے اس کا کیچ بھی ڈراپ نہیں ہونے دیا ۔خواجہ آصف نے آٹھ ماہ کی گالم گلوچ کا حساب صرف چند منٹ میں ایسا چکایا کہ صرف وہ نہیں،بلکہ پوری ن لیگ اس کے دیر تک مزے لیتی رہے گی ۔حیرانگی کی بات ہے کہ طویل ترین دھرنے کے بعد تحریک انصاف کے لیڈر وں نے ایک لمحے کے لئے بھی پلاننگ نہیں کی کہ وہ جس طرح پارلیمنٹ پر پتھروں کی بارش کرکے واپس آ رہے ہیں ،وہاں ان پر کوئی پھول نہیں برسائے گا اور اس وقت جب خواجہ صاحب انصاف کے متلاشیوں کو شرمندگی اور بیچارگی کی اتھاہ گہرائیوں میں پہنچا رہے تھے۔

کپتان کوخود اور نہ ان کے کسی جانثار کو یہ جرأت ہوئی کہ وہ فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر کرتے۔لگتا تھا کہ انہیں کوئی سانپ سونگھ گیا ہے، بلکہ عمران خان جو دوسروں کو زندہ لاشوں کا طعنہ دیتے ہیں۔ خود ان کے اپنے گھوڑے زندہ لاشیں نظر آرہے تھے۔یہ توبھلا ہو اعتزاز احسن کا کہ انہوں نے ایک دو جملے بول کر ان کے مردہ جسم میں ہلکی سی جنبش پیدا کی ورنہ یہ سارے تو مٹی کے مادھو بن چکے تھے۔اصولاً تو خواجہ صاحب کی طرف سے پھینکے جانیوالے تیروں کے مقابل کپتان کو خود کھڑے ہوکر باوقار انداز میں اس کامقابلہ کرنا چاہئے تھا اورپارلیمنٹ کے اجلاس میں ان کی پارٹی کی شمولیت کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کرنا چاہئے تھا ،لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ،مختصر سی پریس ٹاک کی اور گھر چلے گئے ۔عمران خان کی اس دن پریس کانفرنس کرنا اور اسمبلیوں کو جعلی کہنا بھی ان کی فاش غلطی تھی۔ انہیں اس حوالے سے میڈیا کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دینا چاہئے تھا۔ دوسری طرف عمران خان کی ٹیم میں ذرا سی بھی فہم و فراست ہوتی تو وہ پارلیمنٹ میں واپس آنے کے فیصلے کے بعد سب سے پہلے سپیکر کے چیمبر میں جاتے اور استعفوں کے حوالے سے اپنی پوزیشن کو کلیئر کرتے، تاکہ انہیں پارلیمنٹ میں اجنبی ہونے کے طعنے نہ دیئے جاتے ۔

اب توکپتان کے اپنے ورکربھی کہنے لگے ہیں کہ پتہ نہیں کپتان کس سے سیاسی مشورے لیتے ہیں کہ ہرروز انہیں سیاسی سفر میں دھچکے لگ رہے ہیں۔دیکھا جائے توعمران خان کی جو سیاست ہے اس کا انجام اسی طرح ہوتا رہے گا ،کیونکہ عمران خان دوستوں کی بجائے دشمن بنانے میں مسلسل کامیاب ہورہے ہیں۔پتہ نہیں وہ کون سے سیاسی نظریے پر عمل پیرا ہیں۔کپتان کو سراج الحق سے سیکھنا چاہئے جن کے پاس کوئی سیاسی قوت نہیں ہے، لیکن وہ اپنی شیریں زبان سے وزیراعظم ہاوس میں معتبر ہیں ،زرداری ہاؤس میں بھی ان کے لئے جگہ ہے ، مولانا فضل الرحمان بھی ان سے بغل گیر ہوتے ہیں ۔اے این پی اور ایم کیو ایم بھی ان سے نالاں نہیں ۔ان کی رائے اور مشورے میڈیا اور عوامی سطح پر سراہے جاتے ہیں ۔

عمران خان جن کا شاندار ماضی ہے ان کی شخصیت میں گلیمر ہے، پڑھے لکھے ہیں قوم مستقبل میں انہیں ایک بڑے لیڈر کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔لوگ ان کے اشارے پر نکلتے ہیں، عالمی سطح پر ان کی ایک پہنچان ہے۔ پھر کیا وجہ ہے ؟۔۔۔کہ وہ ہر روز زوال کی طرف جا رہے ہیں ،انہیں ان حالات میں اپنی پوری سیاسی حکمت عملی کو ازسرنو ترتیب دینا چاہئے ۔شخصیات پرتنقید کرنے کی بجائے سیاسی بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔عمران خان کے شایاں شان نہیں کہ وہ ہر لیڈر کے خلاف گھٹیا الفاظ استعمال کریں ،کیونکہ جب وہ کسی دوسرے لیڈر کا تمسخر اڑائیں گے تو دوسرے بھی ان کی شان میں ایسے ہی قصیدے گائیں گے ۔ عمران خان آپ کھلاڑی ہیں آپ جانتے ہیں کہ گیم جیتنے کے کچھ اصول اورپلاننگ ہوتی ہے اور پھر میدان میں اترا جاتا ہے ۔ پریس گیلری میں بیٹھ کر گیم نہیں جیتی جاتی ۔گراونڈ میں جانا پڑتا ہے ،پھر کھلاڑی اچھے ہوں یا برے ۔۔۔کھیل کے اصول و ضوابط کے مطابق کھیلنا پڑتا ہے ۔عمران خان اگر آپ نے سیاست کے کھیل میں آئین اور قانون کے مطابق رویہ اختیار نہ کیا تو پھر آپ کو ذلت اور رسوائی کے ایسے کئی منظر دیکھنے پڑیں گے ۔

مزید : کالم