اب تو جاگ جائیں

اب تو جاگ جائیں
اب تو جاگ جائیں

  

مسلمان اور خصوصاً براعظم پاک و ہند یا جنوبی ایشیا کے مسلمان بہت سوتے ہیں،چونکہ اپنے ماضی کو بھولے ہوئے ہیں اور حال کو سمجھ نہیں پا رہے۔ اس لئے اپنے مستقبل سے بھی غافل ہیں۔ بس ان کی ہر چیز خدا کی دین ہی ہوتی ہے۔ دولت خداداد پاکستان بھی تو ایسے ہی خدا نے دے دی تھی۔ بس ایک دو آدمی اقبالؒ اور جناحؒ آ گئے تھے۔ مسلمان گویا بکھرے ہوئے تنکے تھے جو طوفان میں بہے چلے جا رہے تھے۔ مذکورہ دونوں ستونوں میں ایسی کشش تھی کہ سب بہتے ہوئے تنکے ان سے چمٹ گئے تھے اور یہ ملاپ ایسی قوت بن گیا، جس نے تھپیڑوں کا منہ پھیر دیا اور پاکستان بن گیا، مگر وہ دونوں ستون تو اللہ کو پیارے ہو گئے اور وہ تنکے جو اب تعداد میں اٹھارہ بیس کروڑ ہو چکے ہیں، گزشتہ چھ سات دہائیوں سے سوتے ہوئے تھپیڑے کھا رہے ہیں اور اقبالؒ و جناحؒ جیسے ستونوں کی راہ دیکھ رہے ہیں، مگر کوئی سہارا دینے والا اور بازو تھامنے والا نہیں مل رہا!

مگرکتنے تعجب کی بات ہے کہ گزشتہ ستر سال ہی نہیں،بلکہ گزشتہ دو صدیوں سے برہمن اپنی ہندو اکثریت کے زعم میں وہی تلوار لئے کھڑا ہے جو 1857ء میں انگریزی سامراج نے اس کے ہاتھ میں یہ کہہ کر تھمائی تھی کہ ’’پنڈت لبھو رام جی! آپ تو اکثریت میں ہیں، پھر بھی ہزار سال تک مسلمان اقلیت کے غلام بنے رہے!‘‘ اس وقت سے آج تک گھمنڈی برہمن اپنی نام نہاد اکثریت کے نشے میں ہے، مگر یہ خونخوار اکثریت مسلمان کی موجودگی اور اب ایٹمی پاکستان کو دیکھ کر چھی چھی کرکے رہ جاتی ہے اور سیکولرازم اور جمہوریت کے فریب کو بھول کر ایک بار پھر اکھنڈ بھارت اور رام راج کی سڑی ہوئی گندی ٹانک کھا کر مسلمانوں اور دیگر غیر ہندو اقلیتوں کو زبردستی ہندو بنانے یا نابود کر دینے کے دھندے میں لگ جاتا ہے۔کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے اور بھارت کی مظلوم مسلم اقلیت پر ظلم کے پہاڑ توڑنے لگ جاتا ہے، اب تو مسیحی بھی ہندو کی زد میں ہیں، کل کو سکھ بھی برہمن کے فریب اور تلوار کی زد میں ہوں گے!!

بہرحال برہمن اپنا نظریہ اکھنڈ بھارت اور رام راج نہیں بھولا اور نہ سب کو زبردستی ہندو بنانے یا ختم کر دینے کے ایجنڈے سے دستبردار ہو سکتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ اقبالؒ اور جناحؒ کی کرسیوں پر براجمان ہیں، وہ ہندو کے نام نہاد سیکولرازم کا پردہ چاک کرنے کے لئے دنیا کے سامنے زبان کیوں نہیں کھول رہے! سیکولر اندرا گاندھی نے سقوط ڈھاکہ کو ایک ہزار سالہ غلامی کا انتقام نہیں کہا تھا؟اس پر ہمارے ہونٹوں پر تالے کیوں لگ گئے تھے؟

یہ موقع تھا کہ ہم سقوط مشرقی پاکستان کے زخموں سے رستے ہوئے خون کے ساتھ سیکولر اندرا کے اس قول اور جارحانہ اقدام کے حوالے سے حقیقت حال کو دنیا کے سامنے پیش کرتے اور بتاتے کہ ہندو کا دعویٰ جمہوریت ایک فریب اور سیکولرازم جھوٹ اور دھوکا ہے! حقیقت میں نسل پرست برہمن کا اندرون نہایت غلیظ اور تنگ مذہبی جنون سے لبریز ہے، وہ تنگ نظر اور سنگدل ہے جو ایسی ظالمانہ اور بے رحم مذہبی حکمرانی پر تلا ہوا ہے، جس میں پُرامن بقائے باہمی ایک پاپ ہے، وہ تو اکھنڈ بھارت اور رام راج کے لئے سب انسانوں کو متحدہ ہندو قومیت میں جکڑ کر اپنا طبقاتی نظام نافذ کرنا چاہتا ہے، جس نے صدیوں سے اس سرزمین کے اصل مالک دراوڑ اکثریت کو اچھوت بنا رکھا ہے اور اب مسٹر مودی سب کو زبردستی ہندو بنانے کا ارادہ لے کر آیا ہے! مودی کی سیاسی پارتی بی جے پی دراصل نام نہاد سنگھ پریوار یعنی ہندو مہاسبھا، جن سنگھ اور آر ایس ایس کے تمام زہریلے تعصب اور تنگ نظری کا نچوڑ ہے جو برہمن کی نسلی برتری اور باقی تمام انسانوں کی تحقیر اور تذلیل کے نظام کو دنیا پر مسلط کرنا چاہتا ہے! اس زہریلے تصور سے مسلمان کے لئے جو خطرات ہیں، انہیں ایک طرف بھی رکھ دیں تو بھی اس نسل پرستی کے زہر سے نہ صرف ایشیا، بلکہ پوری دنیا کے امن کو خطرہ ہے!

ہم بزدلانہ خاموشی سے اگر اس خطرے سے آنکھیں بند بھی کرلیں تو بھی مودی کا ’’بے تکلف‘‘ دوست امریکی صدر بارک اوباما ہندو برہمن کی حقیقت اور عزائم سے آگاہ ہو چکا ہے اور مودی کو کھلے لفظوں میں جھاڑ بھی پلا چکا ہے کہ سیکولرازم اور جمہوریت زبانی کھوکھلے نعروں کا نام نہیں! اس لئے اپنے ملک میں دوسرے مذاہب کے لوگوں پر مظالم اور زبردستی مذہب چھڑوانے کا مکروہ کھیل بند کرو! دلی اور کشمیر میں منہ کی کھانے کے باوجود مسٹر مودی باز نہیں آ رہا! کشمیر کی مسلم حیثیت کو بدلنے کی مودیانہ بے حیائی پر ہم چپ نہیں رہ سکتے اور نہ ہمیں یہ بات زیب دیتی ہے!

بلوچستان کے احوال کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد ہمارے دلیر اور بلند نظر سپہ سالار جناب جنرل راحیل شریف نے مومنانہ جرات کے ساتھ کسی لگی لپٹی کے بغیر پاکستان کے بدخواہوں کو باز رہنے کی تنبیہ کر دی ہے، اب یہ ہماری سفارتکاری کا فرض ہے کہ یہ تمام حقائق دنیا کے ہر گوشے میں پہنچا دیں اور بتا دیں کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو پُرامن بقائے باہمی کا قائل ہے! تمام مذاہب اور ان کے لیڈروں کا صحیح معنی میں احترام کرتا ہے! اس کے بانی نے تقسیم سے پہلے بھی ہندو کو مذہبی تنگ نظری سے باز رہتے ہوئے سب کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا سلوک مان لینا چاہیے! اسی بنیاد پر ہندوستان کو متحد رکھنے کی بڑی کوشش کی، مگر گھمنڈی برہمن ہندوستان کو اکھنڈ بھارت اور رام راج کے لئے ہندو مت کی بنیاد پر، ہندو توا اور متحدہ قومیت کے جال بچھانے سے باز نہ آیا اور اب بھی اگر دنیا نے نسلی برتری کے زعم باطل میں مبتلا برہمن کو باز نہ رکھا تو ہٹلر کے مظالم سے بھی بڑھ کر ظلم کرنے والی دو نسل پرست قوموں، برہمنی سامراج اور عالمی صہیونیت کے ہاتھوں تباہی کا سامنا ہوگا!یہ نازک گھڑی ہے! اب تو جاگنا اور اٹھنا پڑے گا!

مزید :

کالم -