بچپن کی یادیں

بچپن کی یادیں
بچپن کی یادیں

  

[بچوں کے لئے لکھی گئی کہانی جس میں بڑوں کے لئے بھی دعوتِ فکر ہے، اس لئے وہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔]

حُمیرہ اپنے بچپن کو بہت یاد کرتی تھی۔ کبھی تو وہ سوچتی کہ یہ سارا کچھ خواب ہی ہے مگر پھر اُسے خیال آتا کہ نہیں یہ حقیقت ہے مگر لگتا یوں ہی ہے جیسے بہت حسین اور سہانا خواب ہو! سچی بات یہ ہے کہ اکثر لوگوں کی بچپن کی یادیں عجیب ہوتی ہیں۔ انسان کو تڑپا دیتی ہیں۔ والدین امیر ہوں یا غریب اپنے بچوں کی بہبود و خوشی کے لئے اپنی حیثیت اور طاقت کے مطابق پوری کوشش کرتے ہیں کہ کوئی کمی کوتاہی نہ رہ جائے۔ حُمیرہ نے غریب مگر شریف گھرانے میں آنکھ کھولی۔ وہ چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ اس کے تین بھائی تھے اور دو بہنیں۔ حمیرہ کے والد ایک سکول میں بطور مالی ملازمت کرتے تھے۔ ساتھ تھوڑی سی زمین تھی جس پر کچھ سبزیاں اگائی جاتی تھیں۔ ضرورت سے زائد سبزیاں فروخت ہوجاتی تھیں مگر بہت کم قیمت پر۔ سبزی منڈی میں بیٹھے ہوئے بیوپاری، کسانوں سے بہت کم قیمت پر سبزیاں خریدتے اور پھر بھاری منافع کے ساتھ فروخت کرتے۔

ایک اچھی بات یہ تھی کہ ہر موسم کی سبزیاں گھر میں وافر مقدار میں پکتیں اور حمیرہ کی والدہ اپنی پڑوسنوں کو بھی کبھی پکی ہوئی اورکبھی کچی سبزی بھیج دیا کرتی۔ وہ دل کی غنی تھی۔حمیرہ کے خاندان میں تعلیم کا نام ونشان نہ تھا۔ جو چند ایک لوگ واجبی سالکھنا پڑھنا جانتے تھے وہ بھی مرد تھے ، خواتین اس میدان سے بالکل خارج تھیں۔ سکول کے نئے ہیڈ ماسٹر صاحب بڑے نیک دل اور سمجھدار انسان تھے۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ غریب خاندانوں کے بچوں کو ترغیب دے کر سکول میں لایا جائے۔ ان سے پہلے ہیڈ ماسٹر اگرچہ اسی گاؤں کے ایک زمیندار تھے مگر ان کا ذہن یہ تھا کہ غریب کے بچوں کو تعلیم کی ہوا بھی نہیں لگنی چاہیے۔ اگر یہ غریب غربا بھی پڑھ لکھ گئے تو ہماری خدمت اور چاکری کون کرے گا۔یہ سوچ پاکستان کے وڈیروں کے خاص مزاج کی عکاس تھی۔ نئے ہیڈ ماسٹر صاحب نے سکول کے چپڑاسی ، مالی اور چوکیدار سبھی کو کہا کہ اپنے بچوں کو سکول میں بھجوایا کریں۔ انہوں نے سربراہ ادارہ کی یہ بات سنی تو تعجب بھی ہوا مگر ایک اطمینان بھی کہ چلو ہمارے بچے بھی کچھ پڑھ لکھ جائیں گے تو شاید ہمارے خاندان کی قسمت بدل جائے۔ حمیرہ کے والد نے ایک دن ہیڈ ماسٹر صاحب سے کہا ’’سر آپ ہمارے بچوں کو تو سکول میں داخل کرلیں گے مگر بچیوں کا کیا بنے گا ؟ ‘‘

ہیڈ ماسٹر صاحب نے سکول کے مالی کا یہ سوال سنا تو انہیں بڑی خوشگوار حیرت ہوئی۔ انہوں نے کہا ’’تم لوگ اگر بچیوں کو پڑھانا چاہتے ہو تو ہم ان شاء اللہ اس کا بھی انتظام کرلیں گے۔ بچیوں کے لئے الگ کلاسیں شروع کردیں گے اور آغاز میں ان کلاسوں کو مرد اساتذہ پڑھایا کریں گے مگر بہت جلد ہم لیڈی ٹیچرز کا بھی انتظام کرلیں گے۔ ‘‘مالی برکت علی یہ سن کر از حد خوش ہو ا۔ اس نے کہا ’’ سر میری اپنی تین بیٹیاں ہیں۔ میرے تینوں بیٹے تو آپ کی مہربانی سے سکول میں داخل ہوگئے ہیں۔ میں اپنی تینوں بیٹیوں کو بھی داخل کرانا چاہتا ہوں۔ میں اپنے دیگر ساتھیوں اور رشتہ داروں کو بھی اس کارِ خیر کے لئے ترغیب دوں گا۔۔۔‘‘

ہیڈماسٹر جناب چوہدری احسان اللہ صاحب بڑے عظیم انسان تھے۔ انہوں نے بچیوں کے داخلے کا اعلان کیا تو ان کی بیگم نے کہا کہ وہ بلا معاوضہ بچیوں کو پڑہایا کرے گی۔ ان کی دیکھا دیکھی ایک اور سینئر استاد ماسٹر نورمحمد، جن کی اہلیہ بھی کچھ پڑھی ہوئی تھیں، نے بھی اپنی اہلیہ کی بلامعاوضہ خدمات کی پیش کش کردی۔ یوں ہیڈ ماسٹر صاحب نے دو استانیوں کے ساتھ خود اپنی نگرانی میں بچیوں کی تعلیم کا آغاز کیا۔ یہ بات بہت حوصلہ افزا تھی کہ پہلے ہفتے ہی میں چالیس بچیاں داخلے کے لئے آگئیں۔ معمولی داخلہ فیس اور برائے نام ٹیوشن فیس کے ساتھ یہ تعلیمی جہاد شروع کیا گیا۔ بچیوں کو تین حصوں میں ان کی عمر اور ذہانت و صلاحیت کے مطابق تقسیم کردیا گیا۔ سینئر کلاس کی طالبات کے بارے میں طے ہوا کہ سال کے دوران وہ تین کلاسوں کا کورس مکمل کریں گی۔ اس کلاس میں ۹بچیاں تھیں۔ دوسرے نمبر کی کلاس کو سال میں دو کلاسوں کا نصاب مکمل کرنا تھا۔ اس میں 13 طالبات منتخب ہوئیں۔ باقی اٹھارہ بچیاں چھوٹی تھیں۔ ان کو پہلی کلاس مکمل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ 

حمیرہ نمبر ایک کلاس میں تھی۔ ذہین اور محنتی ہونے کے علاوہ اس کی عمر بھی تیرہ سال تھی۔ اس نے بڑی آسانی سے تین کلاسوں کا نصاب سال میں مکمل کرلیا تھا۔ دیگر بچیوں کی کارکردگی بھی بہت اچھی تھی۔ استانیاں اور خود ہیڈ ماسٹر صاحب بچیوں پر اتنی توجہ دیتے تھے کہ حمیرہ کو آج تک وہ سارا منظر یاد تھا۔ حمیرہ نے اسی سکول میں دس کلاسیں مکمل کیں۔ اس نے میڑک میں بورڈ کے امتحان میں بہت اچھے نمبر لئے ۔ پھر پرائیویٹ ایف اے کرلیا۔ کئی دیگر بچیوں نے بھی یہی راستہ اپنا یا۔ اب اس گاؤں میں کم و بیش تما م بچیاں تعلیم یافتہ تھیں۔ کئی بچیوں نے ایف اے اور ایف ایس سی کے بعد ٹیچر ٹریننگ کورس مکمل کیے اور پورے علاقے میں ہر بڑے قصبے میں سرکاری یا پرائیویٹ سکول قائم ہوگئے۔ حمیرہ آج ایک مشہور ہائی سکول کی پرنسپل تھی۔ اس سکول میں ایک ہزار سے زاید طالبات زیر تعلیم تھیں۔ حمیرہ ہمیشہ سکول میں اپنے بچپن اور تعلیمی زند گی کے تجربات اساتذہ اور بچیوں کے سامنے پیش کیا کرتی تھی۔ ا س کے نزدیک چودھری احسان اللہ ایک آئیڈیل شخصیت تھے ، جن کی انقلابی اور اسلامی سوچ کی وجہ سے پورا علاقہ زیور تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہوگیا تھا۔

اب اس پسماندہ دیہاتی علاقے کے ہر گھر میں روشنی تھی اورکوئی برکت علی مالی، بہادرخان چوکیدار یا علی احمد چپڑاسی ایسا نہ تھا جس کے بچے تعلیم کی بجائے مزدوری میں اپنا معصوم بچپن ضائع کررہے ہوں۔ سچ ہے کہ ایک مردِ دانا پوری بستی اور علاقے بلکہ قوم اور ملک کی قسمت بدل سکتا ہے۔ لوگ چودھری احسان اللہ کو علاقے کا سرسیّد کہتے تو وہ عاجزی و انکسار کے ساتھ ہر ایک سے فرماتے ’’ بھائی سر سیّد تو ایک بڑے آدمی تھے ، میں ایک معمولی سا انسان ہوں۔ وہ تاریخ میں مشہور بھی ہیں اور بدنام بھی مگر میں تو چاہتا ہوں ، نہ شہرت ملے نہ بدنامی ، مجھے اللہ گم نام ہی رکھے تو اسی میں میرا بھلا ہے۔‘‘حمیرہ کو یاد تھا کہ ایک دن اس نے اپنے استادِ محترم سے، جن کا وہ باپ سے زیادہ احترام کرتی تھی، پوچھ لیا: ’’محترم ! آپ سر سیّد کی شہرت کی جو بات کرتے ہیں وہ تو سمجھ میں آتی ہے مگر ان کی بدنامی کا معاملہ ناقابل فہم ہے۔ ‘‘

چودھری صاحب نے اپنی ہونہار شاگرد کو بڑے پیار و محبت سے سمجھایا: ’’بیٹی سرسیّد مرحوم کی عظمت و شہرت یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں ہندوؤں اور غیر مسلموں کے برابر لاکھڑا کیا اور علی گڑھ کی تاریخی یونیورسٹی قائم کردی۔ مگر المیہ یہ ہے کہ وہ خود بھی انگریزوں اور ان کی بے خدا تہذیب سے بہت متاثر و مرعوب تھے اور ان کی اس سوچ نے جدید تعلیم یافتہ طبقے کی بھاری اکثریت کو بھی اسی سانچے میں ڈھال دیا۔ ہمار ایہ المیہ آج بھی موجود ہے اگرچہ علامہ اقبالؒ ، مولانا محمد علی جوہرؒ ، اکبرالٰہ آبادی اور سیّد مودودی ؒ جیسے مفکرین نے کافی حد تک اپنی تحریروں اور افکار سے اس کا اثر زائل کردیا ہے۔ ‘‘

حمیرہ نے ان مفکرین کو پہلے بھی پڑھا ہوا تھا مگر اب خاص سوچ کے ساتھ دوبارہ پورے غور اورترتیب سے پڑھا تو وہ اپنے روحانی باپ کے تجزیے کی قائل ہوگئی۔ یہی فکر وہ اپنی طالبات میں راسخ کرنے کی کوشش کرتی رہتی تھی کہ ایک مسلمان کو ہر میدان میں اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی چاہیے مگر اسے کسی غیر اسلامی تہذیب یا غیر مسلم شخصیت سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔ ہر مسلمان کو ذہنی غلام ہونے کی بجائے سربلند ہو کر زندہ رہنا چاہیے۔ اسے فخر ہو تو محض اس بات پر کہ وہ مسلمان ہے۔ پھر یہ بھی کہ مسلمان ہونے کے تقاضے پورے کرے۔

مزید : کالم