جب تک کشمیری قوم اپنا محاسبہ نہیں کرے گی آزادی کی منزل دور رہے گی ‘ علی گیلانی

جب تک کشمیری قوم اپنا محاسبہ نہیں کرے گی آزادی کی منزل دور رہے گی ‘ علی گیلانی

 نارہ بل(کے پی آئی )چیئرمین کل جماعتی حریت کانفرنس (گ)سید علی گیلانی نے قوم کو اپنا محاسبہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک لوگ اپنی کمزوریوں پر قابو نہیں پائیں گے تب تک آزادی کی منزل دور رہے گی اور نارہ بل اور ترال جیسے واقعات میں معصوم جوانیوں کا اتلاف بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے مفتی محمد سعید اور عمر عبداللہ کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت کے برابر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اِن دونوں میں کوئی تفاوت نہیں ہے ۔نارہ بل میں پولیس کے ہاتھوں جاں بحق طالب علم سہیل احمد صوفی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے سرکردہ حریت رہنما سید علی گیلانی،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک 7سال بعد ایک ہی سٹیج پر نظر آئے۔ واضح رہے کہ 2008میں شرائن بورڈ ایجی ٹیشن کے دوران عیدگاہ چلو کال کے موقعے پر تینوں لیڈران ایک ساتھ ایک ہی سٹیج پرموجود تھے۔ نارہ بل میں جلسے سے حریت رہنماؤں نے کہا کہ تحریک آزادی کے حوالے سے تمام آزادی پسندوں کا موقف ایک جیساہے اور الگ الگ ہونے کے باوجود ہم آہنگی ہے۔سید علی گیلانی نے پولیس کے ہاتھوں جاں بحق کئے گئے دسویں جماعت کے طالب علم سہیل احمد صوفی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا جو لوگ ہندنواز افراد کا ساتھ دیتے ہیں اور الیکشن میں ووٹ ڈالتے ہیں، وہ ان بچوں کے خون کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوجاتے ہیں اور وہ قومی مجرم ہیں۔عمرعبداللہ اور مفتی سعید کو ایک جیسا قرار دیتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ اقتدار کے حصول اور کرسی سے چمٹے رہنے کے سوا اِن کا کوئی ہدف نہیں ہے بلکہ انہیں اپنی قوم کے جینے مرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔گیلانی نے کہا جموں کشمیر میں جو قتل عام جاری ہے، یہ اس کے لیے براہِ راست ذمہ دار ہیں اور یہ بھارت کے قبضے کو سندِ جواز عطا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا 2010 میں جتنے بھی معصوم طالب علم مارے گئے، عمر عبداللہ ان کا قاتل ہے اور مفتی سعید نے بحیثیت بھارتی وزیر داخلہ بھی کشمیریوں کا قتل عام کروایا اور اب اقتدار سنبھالنے کے بعد ترال اور نارہ بل میں جوواقعات پیش آئے ان کی ذمہ داری بھی ان کے سر ہے۔اتحاد کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ بھارت کے قبضے اور الیکشن کے حوالے سے تمام آزادی پسندوں کا موقف ایک جیسا ہے اور ان میں الگ ہونے کے باوجود اس حوالے سے ہم آہنگی ہے، پچھلے الیکشن کے موقعہ پر تمام آزادی پسندوں نے الیکشن بائیکاٹ کا نعرہ دیا، البتہ یہ عام لوگ تھے، جنہوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور ان میں سے بعض نے ووٹ ڈالے۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مفتی محمد سعید کی مدد سے جموں کشمیر میں آر ایس ایس کے ایجنڈے کو عملانا چاہتی ہے اور یہاں آبادی کے تناسب کو بھی تبدیل کرنا چاہتے ہیں،جو ایک منصوبہ بند حملہ ہے،جس کا مقابلہ بھی منصوبہ بند طریقے سے کرنے کی ضرورت ہے۔اس موقعہ پر حریت (ع)چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے فورسز کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کو ریاستی دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے اِس کی مذمت کی ۔انہوں نے کہا ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیری عوام کے جذبہ مزاحمت کو توڑنے کیلئے انسان کش قانون افسپاکے نام پر سرکاری فورسز کو یہاں کے لوگوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے میرواعظ نے کہا جہاں بی جے پی اور جموں کشمیر کی ہند نواز جماعتیں کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کو کمزور کرنے کے ایجنڈے پر یکساں طور مصروف عمل ہیں ،وہیںآر ایس ایس جیسی فرقہ پرست تنظیم اپنے ہندتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھا کر ہمارے ملی تشخص اور اسلامی شناخت کو کمزور کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی نوجوان نسل کی تحریک آزادی کے تئیں وابستگی کو طاقت کے بل پر کچلنے کا عمل کبھی بھی ایک باجواز جدوجہد میں مصروف قوم کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکے گا ۔

انہوں نے مزیدکہا کہ کشمیر میں کسی نہ کسی بہانے لوگوں کو قتل کرنے اور مزاحتمی قیادت کی سرگرمیوں پر آئے روز پہرہ بندی کا عمل جاری ہے اور ان سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس قوم کو اپنے جائز جدوجہد سے دستبرار کیا جا سکے۔ محمد یاسین ملک نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معصوم جوانوں کا لہو بہانا فورسز کا ایک معمول بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نونہال اقوام کیلئے طاقت و قوت کا ذریعہ اور سر چشمہ ہوا کرتے ہیں لیکن ہمارے ان نونہالوں کو فورسز بے دریغ قتل کررہے ہیں اور یوں ہماری نسل کشی کی جارہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے قتل عام کو کوئی مہذب معاشرہ تسلیم نہیں کرسکتا۔ملک کے مطابق بھارتی حکمرانوں نے ریاست کی نئی نسل کو پشت بہ دیوار کرنے کی ٹھان لی ہے۔ سہیل احمد صوفی کے قتل ناحق کی مذمت کرتے ہوئے ملک نے کہا ابھی ترال کے شہدا خالد مظفر اور محمد یونس کا خون تازہ ہی تھا کہ ہمارے ایک اور معصوم کا لہو بہایا گیا۔فرنٹ چیئرمین نے جذباتی لہجے میں بھارت اور ریاستی حکمرانوں سے سوالیہ انداز میں کہا آخر یہ قتل و غارت کب تک جاری رہے گی؟کب تک معصوموں کا لہو بے دریغ بہایا جاتا رہے گا؟ کب تک تحقیقات کے نام پر مظالم دبانے کی کوشش کی جاتی رہے گی؟انہوں نے کہا آزادی ہمارا بنیادی حق ہے اور تحریک آزادی کو اسکی مطلوبہ منزل مقصود تک پہنچانے کیلئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ تحریک آزادی کے ساتھ اپنی وابستگی بنائے رکھیں اور یک سو ہوکر بھارت نواز جماعتوں اور لیڈران کی منافقانہ سیاست کاری پر نظر رکھیں۔دریں اثنا فرنٹ چیئرمین نے معروف انسانی حقوق کارکن آسیہ جیلانی کو انکی برسی پر یاد کرتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا ہے۔

مزید : عالمی منظر