وردی پوش معصوم نوجوانوں کا خون بہانے کے جرم عظیم کا ارتکاب کرتے ہیں، جماعت اسلامی

وردی پوش معصوم نوجوانوں کا خون بہانے کے جرم عظیم کا ارتکاب کرتے ہیں، جماعت ...

سرینگر(کے پی آئی)جماعت اسلامی، حریت (جے کے)، مسلم لیگ اور پیپلز فریڈم لیگ کے وفود نے نارہ بل جاکر پولیس فائرنگ میں شہیدہونے والے شہری سہیل احمد کے لواحقین سے تعزیت کی۔ اس دوران پیپلز لیگ چیئرمین فاروق عثمان ڈار، تحریک کشمیر صدر جنرل محمد موسی نے نوجوان کی ہلاکت کو کھلی بربریت سے تعبیر کرتے ہوئے مرتکبین کیخلاف کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کا ایک اعلی سطحی وفد ناظم شعبہ سیاسیات ایڈوکیٹ زاہد علی کی سربراہی میں نارہ بل گیا جہاں انہوں نے شہید سہیل احمد صوفی کے لواحقین کے ساتھ تعزیت پرسی کی۔ ایڈوکیٹ زاہد علی نے سہیل احمد کے والدین کو دلاسہ دیتے ہوئے انہیں صبر کرنے کی تلقین کی اور اس موقع پر کہا کہ مقبوضہ کشمیر عملا ایک پولیس اسٹیٹ بن چکی ہے۔ یہاں قانون نام کی کوئی چیز ہی نہیں اور وردی پوش بغیر کسی اشتعال کے معصوم نوجوانوں کا خون بہانے کے جرم عظیم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی جموں وکشمیر چاہتی ہے کہ ایسے واقعات میں ملوثین کو کڑی سے کڑی اور عبرتناک سزا دی جائے تاکہ ظلم و جبر کا یہ سلسلہ بن ہوجائے۔

ادھر حریت (جے کے ) لیڈران بشمول اسلامک پولیٹکل پارٹی چیئرمین محمد یوسف نقاش، مسلم کانفرنس چیئرمین شبیر احمد ڈار، محازِآزادی صدر محمد اقبال میر،مسلم لیگ سینئر لیڈر بلال احمدشاہ، اسلامک پولیٹکل پارٹی جنرل سیکریٹری محمد یوسف میراور دیگر کارکنان جن میں اویس احمد بٹ، محمد عرفان بٹ،آفاق احمد بٹ، محمد ایوب ڈار،وسیم احمد، ارشا د احمد بٹ شامل تھے، ناربل بڈگام گئے اور لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ہمدردی کی۔انہوں نے واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے مفتی محمد سعید حکومت کو ذمہ دار ٹھرایا اور کہا کہ جب تک یہاں کالے قوانین کا خاتمہ نہ ہوتا تب تک معصوم انسانی جانوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری رہیگا۔انہوں نے سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں بے کار تنظیمیں قرار دیا اور کہا کہ یہ دونوں انسانی حقوق تنظیمیں یہاں ہزاروں لواحقین کو انصاف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں اور ان اداروں نے انسانی حقوق کی پامالیوں کا ارتکاب کرنے والے کسی بھی ملزم کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ انہوں نے بھارتی میڈیا کی شدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا وہ صحافت کے تمام قوائد و ضوابط کو مد نظر رکھ کر اپنے آقاوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایک پروپیگنڈا کے تحت کام کررہے ہیں اور معروضی صحافت کے ساتھ ان کا دور تک کا کوئی واسطہ نہیں۔مسلم لیگ جموں کشمیرکا ایک اعلی سطحی وفد قائمقام جنرل سیکرٹری عبدلاحد پرہ کی قیادت میں نارہ بل بڈگام شہید سہیل احمد صوفی کے گھر گیا جہاں پر انہوں نے شہید موصوف کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور ان کی ڈھارس بندھائی ۔ان کے ہمراہ لیگ کے صدر ضلع بڈگام محمد رفیق رعنا ،صدر ضلع سرینگر طاہر الاسلام ،بشیر احمد بڈگامی ،محمد فاروق غوتہ پوری،پیر عبدالمجید ،ریاض احمد بڈگامی اور دیگر کارکنان لیگ تھے ۔اس موقعہ پرتعزیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عبدالاحد پرا نے شہید سہیل احمد کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا اور کہا کہ بھارت اخلاقی سطح پر یہ جنگ ہار چکا ہے اور اب فوجی طاقت کی بنیاد پر نہتے عوام کا قتل عام کر رہا ہے اور ریاست جموں کشمیر میں مظلوم عوام کے جان ومال کا کوئی تحفظ نہیں ہے ۔ پیپلز فریڈم لیگ کا اعلی سطحی وفد امتیاز احمد شاہ کی قیادت میں وفد ناربل گیا اور والدین کی ڈھارس بندھائی۔ امتیاز احمد نے کہا کہ شہدا ہمارے قوم کا عظیم سرمایا ہے ۔انہوں نے کہا بھارت کو زمینی حقایق تسلیم کرتے ہوے مسلہ کشمیر کو حل کرنے کی سعی کرنی چاہیے اور قتل و غارت گری بند کرنی چاہیے تاکہ بر صغیر میں امن قایم ہو سکے۔فاروق عثمان ڈار نے طالب علم سہیل احمد صوفی کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جارحیت اور بربریت کی بدترین مثال جس سے صاف طور پر بھارت کے زیروہ ٹالرنس کے دعوے کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں ۔ انہوں نے عہد کیا کہ شہداکشمیر کو مشن کو اپنے منزل مقصود تک لے کر ہی کشمیری قوم دم لیں گی اور کسی بھی فرد چاہے وہ آزادی پسند خیمے سے تعلق رکھتا ہو یا ہندنواز سیاسی جماعتوں سے ،کو شہداکے مشن اور عظیم قربانیوں کو رایگاں نہیں ہونے دیا جائے گا۔ تنظیم کے ایک وفد جس میں پارٹی سینر لیڈران بشمول امتیاز احمد ریشی، غلام احمد میر، طہور احمد صدیقی اور شاہد احمد شامل تھے ،ناربل جاکر شہید طالب علم کے افراد خانہ کے ساتھ تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے فاروق عثمان ڈار اور سرپرست اعلی شیخ محمد یعقوب کا تعزیتی پیغام پہنچایا۔جنرل موسوی نے کہاکہ خون معصوماں ضائع نہیں ہوگا اور ہر قطرخون ہمیں منزل آزادی سے ہمکنارکرے گا۔انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ مسئلہ ہے اور اقوام متحدہ کے ٹیبل پر موجود ہے۔ جنرل موسی نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کی یہ بد قسمتی رہی ہے کہ وہ ادھر ادھر کے مسائل اٹھا کر سمجھ رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو سرد خانے کی نظر کرکے کشمیریوں کو وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دبا سکتے ہیں۔لیکن شاید وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ تاریخ کتنی بے رحم ہے وہ کسی کو در گزر نہیں کرتی۔اگر ایسا ہوتا تو شاید ہند پاک کا وجود بھی نہ ہوتا ۔آپ نے خبر دار کیا کہ اگر مسئلہ کشمیر کو جلد اپنے تاریخی پس منظر میں حل نہ کیا گیا تو یہ تباہ و برباد کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔آپ نے حال ہی میں دو معصوم جوانوں کے قتل عام کو سفاکیت قرار دیتے ہوئے اللہ سے ان کے بلند درجات اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اللہشہداکے طفیل اس قوم کو آزاد فرمائیں گے۔

مزید : عالمی منظر