روس کی پاکستان اسٹیل میں دلچسپی

روس کی پاکستان اسٹیل میں دلچسپی
روس کی پاکستان اسٹیل میں دلچسپی

  

پاکستان میں روسی سفیر الیکس وائی ویدوف کی گزشتہ دنوں ملک کے سب سے بڑے کارخانہ فولاد پاکستان اسٹیل میں آمد اور اس کے سربراہ میجر جنرل (ریٹائرڈ) ظہیر احمد خاں سے ملاقات کو اس لحاظ سے اہم قرار دیا جا سکتا ہے کہ دنیا کی ایک بڑی طاقت کے اسلام آباد میں متعین سفیر کراچی سے چھتیس میل دور واقع بن قاسم کی بندر گاہ سے منسلک دیوہیکل کارخانوں کے جھرمٹ میں نہ صرف بہ نفس نفیس تشریف لائے بلکہ بعد ازاں سندھ اسمبلی کے اسپیکر سے ملاقات کے حوالے سے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ پاکستان اور روس کی حکومتیں پاکستان اسٹیل کے معاملات بہتر بنانے کے سلسلے میں تعاون کے لئے تیار رہیں۔

پاکستان اسٹیل کے قیام کو تیس سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد جبکہ اس کے اکثر کارخانے اپنی عمر بھی پوری کر چکے بہت کم لوگوں کو یاد رہا ہوگا کہ ملک کا یہ مایہ ناز کارخانہ فولاد جس کے قیام کا مقصد ملک میں انجینئرنگ کی صنعت کے فروغ کے ذریعے ملک کو معاشی اور دفاعی طور پر مضبوط بنانا اور فولاد کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنا تھا۔ روس کی مہربانی سے ہی وجود میں آیا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان نے ایٹمی ٹیکنالوجی میں خود کفالت حاصل نہیں کی تھی اور فولاد سازی کی ٹیکنالوجی ایٹمی ٹیکنالوجی سے کم اہم نہیں سمجھی جاتی تھی۔ اور روس نے پاکستان اسٹیل کے قیام کے لئے لاکھوں ٹن مشینری نہ صرف تقریباً مفت فراہم کی تھی بلکہ اپنے کارخانوں میں تربیت دے کر پاکستانی انجینئروں اور ہنر مندوں کو فولاد سازی کا گر بھی سکھا دیا تھا۔

روس کی جو ان دنوں سوویت یونین کے نام سے جانا جاتا تھا اور کمیونزم کا مرکز تھا، پاکستان پر اس مہربانی کو دائیں بازو کے حلقوں کی جانب سے شک و شبہ کی نظروں سے دیکھا جاتا رہا اور اس کے خلاف زبردست پروپیگنڈا مہم چلائی گئی جسے مغربی ممالک اور ان سے فیضیاب ہونے والے فولاد کے درآمد کنندگان کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ اس پراپیگنڈہ مہم کا پاکستان اسٹیل کو شدید نقصان پہنچا اور اس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوا کہ یہ قومی ادارہ جس کی 1985ء میں پیداوار کے آغاز کے دو سال بعد یعنی 1987ء میں پیداوار کو دوگنا کر کے اسے اکانومی آف اسکیل کے ذریعے نفع بخش ہونے کے مرحلے میں داخل ہونا تھا، گیارہ لاکھ ٹن سالانہ پیداوار پر ہی اٹک کر رہ گیا ہے اور جب سے لے کر اب تک اسی آدھے کو پورا ظاہر کرنے کا کرتب دکھانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ روس نے اس زمانے میں پاکستان کو کارخانہ فولاد بلکہ فولاد سازی سکھانے کی مہربانی یہاں کمیونزم پھیلانے کے لئے نہیں کی تھی بلکہ اس نے ایسی ہی مہربانیاں ایران اور ترکی پر بھی کی تھیں جن کا مقصد، ان ممالک میں مغرب سے فولاد کی درآمد کو زک پہنچانا تھا جس پر مغربی ممالک تلملا اُٹھے تھے۔ ان مہربانیوں کا دوسرا مقصد دنیا میں سب سے زیادہ فولاد پیدا کرنے والا ملک ہونے کی حیثیت سے اپنے ہاں فولاد کی فاضل پیداوار کی کھپت کا اہتمام کرنا تھا۔یہ محض اتفاق ہے جسے پاکستان کے لئے ایک دفعہ پھر سنہری موقع بھی قرار دیا جا سکتا ہے کہ روس اب سوویت یونین نہیں رہا لیکن یوکرین کے مسئلے پر اس کی مغرب سے سرد جنگ ایک دفعہ پھر شروع ہو چکی ہے جس کے پس منظر میں پاکستان اسٹیل اور پاکستان کے معاملات میں اس کی دلچسپی سمجھ میں آتی ہے۔ اس کی ایک اور وجہ ہندوستان کی امریکہ سے بڑھتی ہوئی پینگیں بھی ہو سکتی ہیں جسے روس میں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جا رہا ہوگا۔غالباً انہی اسباب کی بنا پر روس نے اپنا خاص نوعیت کا ہیلی کاپٹر ایم آئی پینتیس 35 پاکستان کو فراہم کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے اس کے علاوہ شنگھائی کو آپریشن کونسل میں بھی پاکستان کو شامل کرنے کی حمایت کی ہے۔

اس تناظر میں اس وقت پاکستان اسٹیل کی صورت حال یہ ہے کہ اس کے اکثر بڑے کارخانے اور بھاری مشینری جو نہ صرف اپنی عمر پوری کر چکنے بلکہ معمول کے مطابق سالانہ مینٹیننس نہ ہونے کیو جہ سے خستہ حال ہیں، انتظامیہ اور انجینئروں کی بھرپور کوشش کے باوجود توقع کے مطابق پیداوار نہیں دے پا رہے۔ ادھر اکانومی آف اسکیل سے محروم ہونے کے سبب پیداوار پر فی عدد اخراجات اتنے آ رہے ہیں کہ اسے مارکیٹ کی قیمت کے مطابق فروخت کرنا ممکن نہیں اُدھر وزیر خزانہ اسحق ڈار اٹھارہ ارب روپے کا پیکج دیے کے بعد اسی انتظار میں ہیں کہ کب پاکستان اسٹیل کی پیداوار ایک خاص حد تک پہنچے اور وہ اسے نجی شعبے کے حوالے کر کے اپنی جان چھڑائیں۔ لیکن کیا ان کی تمنا پوری ہو سکے گی؟ کیا ان حالات میں پاکستان اسٹیل کی پیداوا ر کو مطلوبہ حد تک لے جایا جا سکے گا؟ کیا پرائیویٹ سیکٹر بھاری قرضوں کے بوجھ کے ساتھ خستہ حال کارخانوں کو لینے کے لئے تیار ہوگا؟ کیا وزیر خزانہ کو پاکستان اسٹیل کے بالمقابل کھڑا سعودی ادارے الطوارقی کا پاکستان سٹیل سے زائد پیداوار کا حامل جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی وہ کارخانہ فولاد نظر نہیں آتا جسے سات سال قبل 2005ء میں پیداوار کا آغاز کرنا تھا لیکن آج تک نہ چل سکا اور اب اسے لپیٹنے کی باتیں سننے میں آ رہی ہیں۔ کیا پاکستان اسٹیل کے ساتھ بھی بالآخر یہی ہوگا؟ قومی زاویئے سے دیکھا جائے تو ان دونوں ہی کارخانوں کی اہمیت اگر کہوٹہ پلانٹ کے برابر نہیں تو ملکی معیشت کے لئے تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم کے برابر ضرور ہے، کیونکہ کہوٹہ پلانٹ جس طرح ملک کے دفاع کے لئے فصیل کا کام دیتا ہے فولاد ساز کارخانے ملک کی معیشت کے دفاع کی فصیلیں ہیں اور قومی معیشت میں جان ڈالنے کے لئے ان کا عملی کردار کسی طرح بھی تربیلا یا منگلا سے کم نہیں۔

قومی نقطہ نظر سے ایسی پالیسی اپنائی جانی چاہئے جس کے ذریعے یہ دونوں ہی کارخانے بھرپور طریقے سے چلنے لگیں، لیکن اس کے لئے شاید اسی نوعیت کاعزم درکار ہوگا کہ ہم گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ ان قومی تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان اسٹیل کے حوالے سے ایک بیچ کا راستہ بھی سمجھ آتا ہے کہ قومی ادارے کے وہ کارخانے جو ’’ریورس انٹیگریشن‘‘ کے تحت پہلے وجود میں آنے چاہئے تھے مثلاً کولڈ رولنگ مل، ہاٹ اسٹرپ مل، بلٹ مل وغیرہ انہیں ایک ایک کر کے نجی شعبے کو دے دیا جائے تاکہ وہ درآمد شدہ سلیب اور بلوم کے ذریعے اپنی پیداوار جاری رکھ سکیں جبکہ بلاسٹ فرنس اور اسٹیل میکنگ پلانٹ و دیگر کارخانوں کو درست حالت میں لانے اور ان کی پیداواری گنجائش میں توسیع کے لئے روس سے مدد حاصل کی جائے جو کسی اور ملک کی نسبت کم خرچ پر ان کارخانوں کے لئے درکار ساز و سامان فراہم کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہے، کیونکہ پاکستان اسٹیل کا اکثر سازو سامان روس ہی کا تیار کردہ ہے اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ بین الاقوامی سطح پرموجودہ سیاسی ماحول میں روس زیادہ سے زیادہ رعایت پر آمادہ ہو جائے۔ روس کے ساتھ نقد رقم کے علاوہ بارٹر سسٹم کے تحت یعنی سامان کے بدلے سامان کی فراہمی کا امکان اور پاکستان کی برآمد میں اضافے کا پہلو بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں کسی بھی سمجھوتے کے لئے اس نوعیت کی توجہ دھیان اور تعاقب کی ضرورت ہو گی جس کا مظاہرہ ایم آئی 35 کی خریداری کے سلسلے میں کیا گیا۔ آخر پاکستان اسٹیل کی اہمیت کسی لحاظ سے بھی ایم آئی 35 سے کم تو نہیں۔

مزید : کالم