امریکہ میں مردوں اور خواتین کی تنخواہوں کا تفاوت

امریکہ میں مردوں اور خواتین کی تنخواہوں کا تفاوت
امریکہ میں مردوں اور خواتین کی تنخواہوں کا تفاوت

  

گزشتہ ہفتے امریکہ میں تنخواہوں میں برابری کا دن منایا گیا۔اس موقع پر ہمارے ایک ٹی وی چینل نے ایک خبر دی اور اس پر اس قدر جوش و خروش کا مظاہرہ کیا کہ بے ساختہ میرے منہ سے نکلا، ’’ہم بھی کتنے گھامڑ ہیں‘‘۔۔۔ خبر تھی کہ ایک سی ای او نے اپنے ملازمین کی تنخواہ اپنی تنخواہ کے برابر یعنی ستر ہزار ڈالر سالانہ کر دی ہے۔ اس پر مجھے ایک پرانی حکایت یاد آ گئی۔ ایک شخص نے ایک مولوی صاحب سے پوچھا: ’’مولوی صاحب وہ کون سے مولوی تھے، جن کی بیٹی کو کتا کھا گیا تھا‘‘؟ مولوی صاحب نے کہا’’ابے او گھامڑ وہ مولوی نہیں پیغمبر تھے، یعقوب علیہ السلام اور ان کی بیٹی نہیں بیٹا تھا۔ یوسف علیہ السلام اور کتا نہیں کھا گیا تھا، بھائیوں کے کہنے کے مطابق انہیں بھیڑیا کھا گیا تھا اور کتا نہ بھیڑیا کھا گیا تھا، بلکہ انہیں خود ان کے بھائیوں نے کنویں میں پھینک دیا تھا‘‘۔

اس خبر کو زیادہ شہرت ایک ویب سائٹ Geek Wireکی وجہ سے ملی ہے اور یہ قصہ ہے Gravity Payکے سی ای او ڈین پرائس (Dan Price) کا۔ موصوف نے ہرگز یہ اعلان نہیں کیا کہ انہوں نے تنخواہ اتنی بڑھا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس پر غور کررہے ہیں۔ اگر ان کے ملازموں کی تنخواہ میں اسی شرح سے اضافہ بھی ہوتا رہا تو ان کی تنخواہ جناب پرائس کے برابر ہرگزنہیں ہوگی، کیونکہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس کے لئے وہ زائد رقم کس مد سے حاصل کریں گے تو انہوں نے کہا کہ مَیں اپنی تنخواہ میں ستر ہزار ڈالر سے لے کر دس لاکھ ڈالر تک کی کٹوتی کرتا رہوں گا۔ اب ذرا انداز کیجئے جس سی ای او کی تنخواہ سے سالانہ ستر ہزار ڈالر سے دس لاکھ ڈالرز کی کٹوتی ہو سکے، اس کی حد تک بے چارے ملازمین تو سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان سب کاتعلق امریکی ریاست آئی ڈاہو IDAHO کے دیہاتی علاقے سے ہے۔19سال کی عمر میں جب ابھی کالج کے طالب علم تھے، انہوں نے اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی۔یہ کریڈٹ کارڈ وصول کرنے والی آئی ٹی کمپنی ہے۔ اس کا خالص منافع دس سال سے کچھ زائد عرصے میں کروڑوں ڈالر تک پہنچ گیا۔ اب یہ کمپنی ہر سال 2.2 ملین ڈالر خالص منافع کما رہی ہے اور موصوف نے اپنے ملازمین کی تنخواہ میں تین سال کے دوران جس اضافے کی نوید سنائی ہے، وہ اس منافع میں سے بھی مدد لے گا۔ یہ منافع اس کی تنخواہ ، اس کے پرائیویٹ جیٹ ، اس کے سیرو تفریح کے اخراجات، ہوٹلنگ اور گھروں کے غیر معمولی اخراجات کے بعد اس کے پاس جمع ہوتا رہتا ہے، کیونکہ مندرجہ بالا تمام اخراجات کمپنی کے اخراجات کی مد میں جاتے ہیں۔

2013ء میں Geek Wire نے ڈین پرائس کو نوجوان سرمایہ کار کے طور پر ایوارڈ دیا تھا اور موصوف نے اس سال اپنے ملازمین کی تنخواہ میں دو فیصد اضافہ کیا تھا، کیونکہ تنخواہوں پر لگنے والا ٹیکس ملازمین کے لئے ایک شدید بوجھ تھا،جسے کچھ کم کرنے کے لئے کمپنی نے یہ سخاوت کی تھی۔ گریویٹی پے میں کل ملازمین ایک سو بیس ہیں۔ ڈین پرائس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ آئندہ تین سال میں ان میں سے کتنے نکال باہر کرے گا۔ آئی ٹی کمپنیوں میں جب ایک سیٹ اپ تیار ہو جاتا ہے تو اس کے لئے زیادہ ملازمین کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ گاہکوں کو اُلٹے سیدھے ہندی انگریزی میں ملے جلے جوابات کے لئے یہ کمپنیاں بھارت میں اپنے کسٹمر سروس کے دفاتر قائم کرلیتی ہیں اور پھر بھی انہیں حکومتی ٹیکس زیادہ لگیں تو جزائر ’’کے مین‘‘ میں اپنا صدر دفتر بنا لیتی ہیں۔

میرا بیٹا نیویارک میں ایک کمپنی کے ساتھ مارکیٹنگ کررہا تھا۔ تنخواہ کوئی تیس پینتیس ہزار ڈالر سالانہ بنتی تھی، جس پر ٹیکسز اس کے ذمہ تھے۔ اسے کمپیوٹر کی معروف کمپنی ایچ پی نے اسی ہزار سالانہ تنخواہ کی آفر کی اور اسے ٹیکساس لے گئی۔ مَیں اس پر اندر سے خوش نہیں تھا، لیکن وہ اسے ایک اچھی کمپنی کے ساتھ کام کرنے اور زیادہ تنخواہ پانے کا سنہری موقع سمجھ رہا تھا، اس لئے مَیں خاموش رہا۔ میرے بیٹے کے ساتھ پانچ دوسرے نوجوان بھی گئے تھے۔ ابھی مہینہ پورا نہیں ہوا اور اب وہاں یہ سنا جا رہا ہے جو سافٹ ویئر ایچ پی نے بنوانے تھے، بنوا لئے، اب ان کے پاس مزید کام نہیں ہے۔ اس لئے کسی بھی وقت سب کو فارغ کردیا جائے گا۔ آئی ٹی کی اکثر کمپنیاں یا تو ٹھیکے پر کام کراتی ہیں یا کام کراکے لوگوں کو فارغ کر دیتی ہیں اور ان کے سی ای او بلکہ کسی بھی کمپنی کے سی ای او اور عام ملازم کی تنخواہ میں تیس گنا فرق ہے۔ یعنی ملازم کی تنخواہ سے سی ای او کی تنخواہ تیس گنا زیادہ ہے۔ یہ اندازہ واشنگٹن پوسٹ کا ہے، لیکن خود Geek Wire کی مضمون نگار Molly Brown کا خیال ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کا اندازہ درست نہیں ہے۔ ایک عام ملازم سے سی ای او کی تنخواہ 350 گنا (جی ہاں تین سو پچاس گنا) زیادہ ہے۔ اب آپ چاہیں تو ڈان پرائس کی تنخواہ کا ایک اندازہ لگا سکتے ہیں۔

امریکہ میں تنخواہوں میں تفاوت ڈان پرائس کی کمپنی جیسے اداروں میں نہیں ہے۔ یہ تفاوت دیکھنا ہوتو وال گرین، ٹارگٹ، میک ڈونالڈ، برگرکنگ وغیرہ میں دیکھئے۔ وال مارٹ سٹور کے ملازمین کی تعداد وفاقی حکومت کے ملازمین یعنی محکمہ ڈاک کے ملازمین سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک جیسے فرائض انجام دینے والے مرد اور خواتین کی تنخواہوں میں فرق ہے۔ ری پبلیکنز جو ہمیشہ ٹیکسوں کے خلاف رہے ہیں، اب کارپوریٹ ٹیکس اور Estateٹیکس کے خاتمے کے لئے بل پیش کرنے والے ہیں۔ وفاقی ٹیکس کی آمدنی میں کارپوریٹ ٹیکس کا حصہ 1952ء میں 33فیصد تھا، اب یہ صرف گیارہ فیصد رہ گیا ہے اور یہ اس امریکہ کی بات ہے، جس کے قومی قرضے کی مالیت 18ٹرلین ڈالر ہے اور جہاں حالیہ بجٹ میں غریبوں اور مڈل کلاس کو ملنے والی مالی امداد یا (خدمات کی صورت میں ملنے والی امداد) میں پانچ ٹرلین ڈالر کٹوتی کر دی گئی ہے۔ ایسٹیٹ ٹیکس 5.3ملین ڈالر سے اوپر لاگو ہوتا ہے اور اس کی زد صرف 770افراد پر پڑتی ہے، لیکن اس کے خاتمے سے قومی بجٹ کو ہر سال 27ملین ڈالر کم ملیں گے۔

ہمارے ہاں عام لوگوں کو تو کیا باخبر دانشوروں کو بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ امریکہ میں مرد اور عورت کی تنخواہ میں فرق ہے۔ خواہ کام کی نوعیت یکساں ہو، خواہ تعلیم، تربیت اور تجربہ بھی یکساں ہو۔ اداکارہ پیٹریشیا آرقیٹ کو جب اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا تو اس نے اس تفاوت کا بطور خاص ذکر کیا۔ اس کے چند دن بعد ہیلری کلنٹن (اب امیدوار برائے صدارت) نے ایک پریس کانفرنس میں اس تفاوت پر نکتہ چینی کی اور پیٹریشیا کو اس کے خلاف آواز اٹھانے پر خراج تحسین پیش کیا۔

خبروں کی ایک ویب سائٹ نے عورتوں اور مردوں کی تنخواہوں میں موازنہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کالج سے فارغ ہوتے ہی عورت کو جو تنخواہ ملتی ہے ، وہ 35296ڈالر سالانہ ہوتی ہے، جبکہ اسی طرح کالج سے تازہ تازہ فارغ ہونے والے مرد کو 42918 ڈالر سالانہ ملتے ہیں۔ عورت اگر MBA کی ڈگری لے لے تو اسے مرد ایم بی اے سے چار ہزار چھ سو ڈالر کم ملتے ہیں۔ویب سائٹ نے اس کی اوسط گیارہ ہزار ڈالر لگائی ہے،یعنی ہر مرد کے مقابلے پر اسی طرح کے فرائض انجام دینے اور مرد کے برابر تعلیمی قابلیت اور تجربے کے باوجود عورت کو گیارہ ہزار ڈالر اوسطاً کم تنخواہ ملتی ہے۔ جی ہاں آپ کو اس پر بھی حیرت ہوگی کہ امریکہ میں خواتین کو زچگی کی چھٹیوں کی کوئی تنخواہ نہیں ملتی۔ وہ جتنے روز کام پر نہیں آئیں گی، ان کی تنخواہ سے اسی حساب رقم کٹ جائے گی۔

جانے ہم کب احساس کمتری سے نکل سکیں گے اور ان ملکوں کے بارے میں خوش فہمی پر مبنی خیالات لئے پھریں گے۔ وہاں سے اگر کوئی خبر آئے گی تو جوش جذبات میں یہ تک نہیں دیکھیں گے کہ حقیقت کیا ہے، بس تعریفوں کے پل باندھ دیں گے۔ ہیلری کلنٹن کے بل ادا نہ کر سکنے کی خبر پر ہمارے ہاں باقاعدہ کالم لکھے گئے تھے اور اپنے حکمرانوں کو شرم بھی دلائی گئی تھی۔ اپنے حکمرانوں کو شرم ضرور دلائیں، لیکن غلط بیانات اور جھوٹے دعووں سے تقابل بھی نہ کریں۔

گزشتہ ہفتے امریکہ میں تنخواہوں میں برابری کا دن منایا گیا۔اس موقع پر ہمارے ایک ٹی وی چینل نے ایک خبر دی اور اس پر اس قدر جوش و خروش کا مظاہرہ کیا کہ بے ساختہ میرے منہ سے نکلا، ’’ہم بھی کتنے گھامڑ ہیں‘‘۔۔۔ خبر تھی کہ ایک سی ای او نے اپنے ملازمین کی تنخواہ اپنی تنخواہ کے برابر یعنی ستر ہزار ڈالر سالانہ کر دی ہے۔ اس پر مجھے ایک پرانی حکایت یاد آ گئی۔ ایک شخص نے ایک مولوی صاحب سے پوچھا: ’’مولوی صاحب وہ کون سے مولوی تھے، جن کی بیٹی کو کتا کھا گیا تھا‘‘؟ مولوی صاحب نے کہا’’ابے او گھامڑ وہ مولوی نہیں پیغمبر تھے، یعقوب علیہ السلام اور ان کی بیٹی نہیں بیٹا تھا۔ یوسف علیہ السلام اور کتا نہیں کھا گیا تھا، بھائیوں کے کہنے کے مطابق انہیں بھیڑیا کھا گیا تھا اور کتا نہ بھیڑیا کھا گیا تھا، بلکہ انہیں خود ان کے بھائیوں نے کنویں میں پھینک دیا تھا‘‘۔

اس خبر کو زیادہ شہرت ایک ویب سائٹ Geek Wireکی وجہ سے ملی ہے اور یہ قصہ ہے Gravity Payکے سی ای او ڈین پرائس (Dan Price) کا۔ موصوف نے ہرگز یہ اعلان نہیں کیا کہ انہوں نے تنخواہ اتنی بڑھا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس پر غور کررہے ہیں۔ اگر ان کے ملازموں کی تنخواہ میں اسی شرح سے اضافہ بھی ہوتا رہا تو ان کی تنخواہ جناب پرائس کے برابر ہرگزنہیں ہوگی، کیونکہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس کے لئے وہ زائد رقم کس مد سے حاصل کریں گے تو انہوں نے کہا کہ مَیں اپنی تنخواہ میں ستر ہزار ڈالر سے لے کر دس لاکھ ڈالر تک کی کٹوتی کرتا رہوں گا۔ اب ذرا انداز کیجئے جس سی ای او کی تنخواہ سے سالانہ ستر ہزار ڈالر سے دس لاکھ ڈالرز کی کٹوتی ہو سکے، اس کی حد تک بے چارے ملازمین تو سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان سب کاتعلق امریکی ریاست آئی ڈاہو IDAHO کے دیہاتی علاقے سے ہے۔19سال کی عمر میں جب ابھی کالج کے طالب علم تھے، انہوں نے اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی۔یہ کریڈٹ کارڈ وصول کرنے والی آئی ٹی کمپنی ہے۔ اس کا خالص منافع دس سال سے کچھ زائد عرصے میں کروڑوں ڈالر تک پہنچ گیا۔ اب یہ کمپنی ہر سال 2.2 ملین ڈالر خالص منافع کما رہی ہے اور موصوف نے اپنے ملازمین کی تنخواہ میں تین سال کے دوران جس اضافے کی نوید سنائی ہے، وہ اس منافع میں سے بھی مدد لے گا۔ یہ منافع اس کی تنخواہ ، اس کے پرائیویٹ جیٹ ، اس کے سیرو تفریح کے اخراجات، ہوٹلنگ اور گھروں کے غیر معمولی اخراجات کے بعد اس کے پاس جمع ہوتا رہتا ہے، کیونکہ مندرجہ بالا تمام اخراجات کمپنی کے اخراجات کی مد میں جاتے ہیں۔

2013ء میں Geek Wire نے ڈین پرائس کو نوجوان سرمایہ کار کے طور پر ایوارڈ دیا تھا اور موصوف نے اس سال اپنے ملازمین کی تنخواہ میں دو فیصد اضافہ کیا تھا، کیونکہ تنخواہوں پر لگنے والا ٹیکس ملازمین کے لئے ایک شدید بوجھ تھا،جسے کچھ کم کرنے کے لئے کمپنی نے یہ سخاوت کی تھی۔ گریویٹی پے میں کل ملازمین ایک سو بیس ہیں۔ ڈین پرائس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ آئندہ تین سال میں ان میں سے کتنے نکال باہر کرے گا۔ آئی ٹی کمپنیوں میں جب ایک سیٹ اپ تیار ہو جاتا ہے تو اس کے لئے زیادہ ملازمین کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ گاہکوں کو اُلٹے سیدھے ہندی انگریزی میں ملے جلے جوابات کے لئے یہ کمپنیاں بھارت میں اپنے کسٹمر سروس کے دفاتر قائم کرلیتی ہیں اور پھر بھی انہیں حکومتی ٹیکس زیادہ لگیں تو جزائر ’’کے مین‘‘ میں اپنا صدر دفتر بنا لیتی ہیں۔

میرا بیٹا نیویارک میں ایک کمپنی کے ساتھ مارکیٹنگ کررہا تھا۔ تنخواہ کوئی تیس پینتیس ہزار ڈالر سالانہ بنتی تھی، جس پر ٹیکسز اس کے ذمہ تھے۔ اسے کمپیوٹر کی معروف کمپنی ایچ پی نے اسی ہزار سالانہ تنخواہ کی آفر کی اور اسے ٹیکساس لے گئی۔ مَیں اس پر اندر سے خوش نہیں تھا، لیکن وہ اسے ایک اچھی کمپنی کے ساتھ کام کرنے اور زیادہ تنخواہ پانے کا سنہری موقع سمجھ رہا تھا، اس لئے مَیں خاموش رہا۔ میرے بیٹے کے ساتھ پانچ دوسرے نوجوان بھی گئے تھے۔ ابھی مہینہ پورا نہیں ہوا اور اب وہاں یہ سنا جا رہا ہے جو سافٹ ویئر ایچ پی نے بنوانے تھے، بنوا لئے، اب ان کے پاس مزید کام نہیں ہے۔ اس لئے کسی بھی وقت سب کو فارغ کردیا جائے گا۔ آئی ٹی کی اکثر کمپنیاں یا تو ٹھیکے پر کام کراتی ہیں یا کام کراکے لوگوں کو فارغ کر دیتی ہیں اور ان کے سی ای او بلکہ کسی بھی کمپنی کے سی ای او اور عام ملازم کی تنخواہ میں تیس گنا فرق ہے۔ یعنی ملازم کی تنخواہ سے سی ای او کی تنخواہ تیس گنا زیادہ ہے۔ یہ اندازہ واشنگٹن پوسٹ کا ہے، لیکن خود Geek Wire کی مضمون نگار Molly Brown کا خیال ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کا اندازہ درست نہیں ہے۔ ایک عام ملازم سے سی ای او کی تنخواہ 350 گنا (جی ہاں تین سو پچاس گنا) زیادہ ہے۔ اب آپ چاہیں تو ڈان پرائس کی تنخواہ کا ایک اندازہ لگا سکتے ہیں۔

امریکہ میں تنخواہوں میں تفاوت ڈان پرائس کی کمپنی جیسے اداروں میں نہیں ہے۔ یہ تفاوت دیکھنا ہوتو وال گرین، ٹارگٹ، میک ڈونالڈ، برگرکنگ وغیرہ میں دیکھئے۔ وال مارٹ سٹور کے ملازمین کی تعداد وفاقی حکومت کے ملازمین یعنی محکمہ ڈاک کے ملازمین سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک جیسے فرائض انجام دینے والے مرد اور خواتین کی تنخواہوں میں فرق ہے۔ ری پبلیکنز جو ہمیشہ ٹیکسوں کے خلاف رہے ہیں، اب کارپوریٹ ٹیکس اور Estateٹیکس کے خاتمے کے لئے بل پیش کرنے والے ہیں۔ وفاقی ٹیکس کی آمدنی میں کارپوریٹ ٹیکس کا حصہ 1952ء میں 33فیصد تھا، اب یہ صرف گیارہ فیصد رہ گیا ہے اور یہ اس امریکہ کی بات ہے، جس کے قومی قرضے کی مالیت 18ٹرلین ڈالر ہے اور جہاں حالیہ بجٹ میں غریبوں اور مڈل کلاس کو ملنے والی مالی امداد یا (خدمات کی صورت میں ملنے والی امداد) میں پانچ ٹرلین ڈالر کٹوتی کر دی گئی ہے۔ ایسٹیٹ ٹیکس 5.3ملین ڈالر سے اوپر لاگو ہوتا ہے اور اس کی زد صرف 770افراد پر پڑتی ہے، لیکن اس کے خاتمے سے قومی بجٹ کو ہر سال 27ملین ڈالر کم ملیں گے۔

ہمارے ہاں عام لوگوں کو تو کیا باخبر دانشوروں کو بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ امریکہ میں مرد اور عورت کی تنخواہ میں فرق ہے۔ خواہ کام کی نوعیت یکساں ہو، خواہ تعلیم، تربیت اور تجربہ بھی یکساں ہو۔ اداکارہ پیٹریشیا آرقیٹ کو جب اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا تو اس نے اس تفاوت کا بطور خاص ذکر کیا۔ اس کے چند دن بعد ہیلری کلنٹن (اب امیدوار برائے صدارت) نے ایک پریس کانفرنس میں اس تفاوت پر نکتہ چینی کی اور پیٹریشیا کو اس کے خلاف آواز اٹھانے پر خراج تحسین پیش کیا۔

خبروں کی ایک ویب سائٹ نے عورتوں اور مردوں کی تنخواہوں میں موازنہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کالج سے فارغ ہوتے ہی عورت کو جو تنخواہ ملتی ہے ، وہ 35296ڈالر سالانہ ہوتی ہے، جبکہ اسی طرح کالج سے تازہ تازہ فارغ ہونے والے مرد کو 42918 ڈالر سالانہ ملتے ہیں۔ عورت اگر MBA کی ڈگری لے لے تو اسے مرد ایم بی اے سے چار ہزار چھ سو ڈالر کم ملتے ہیں۔ویب سائٹ نے اس کی اوسط گیارہ ہزار ڈالر لگائی ہے،یعنی ہر مرد کے مقابلے پر اسی طرح کے فرائض انجام دینے اور مرد کے برابر تعلیمی قابلیت اور تجربے کے باوجود عورت کو گیارہ ہزار ڈالر اوسطاً کم تنخواہ ملتی ہے۔ جی ہاں آپ کو اس پر بھی حیرت ہوگی کہ امریکہ میں خواتین کو زچگی کی چھٹیوں کی کوئی تنخواہ نہیں ملتی۔ وہ جتنے روز کام پر نہیں آئیں گی، ان کی تنخواہ سے اسی حساب رقم کٹ جائے گی۔

جانے ہم کب احساس کمتری سے نکل سکیں گے اور ان ملکوں کے بارے میں خوش فہمی پر مبنی خیالات لئے پھریں گے۔ وہاں سے اگر کوئی خبر آئے گی تو جوش جذبات میں یہ تک نہیں دیکھیں گے کہ حقیقت کیا ہے، بس تعریفوں کے پل باندھ دیں گے۔ ہیلری کلنٹن کے بل ادا نہ کر سکنے کی خبر پر ہمارے ہاں باقاعدہ کالم لکھے گئے تھے اور اپنے حکمرانوں کو شرم بھی دلائی گئی تھی۔ اپنے حکمرانوں کو شرم ضرور دلائیں، لیکن غلط بیانات اور جھوٹے دعووں سے تقابل بھی نہ کریں۔

مزید : کالم