چینی صدر کا خطاب

چینی صدر کا خطاب

چینی صدرشی چن پنگ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو چین کا ’آئرن برادر ‘اور اپنا دوسرا گھر قرار دیا۔انہوں نے اپنے خطاب کے دوران شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کا حوالہ بھی دیاکہ انہوں نے1930ء میں کہہ دیا تھاکہ چین ایک عظیم ملک بن کر ابھرے گا۔انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کو اعزاز مانا اور پاکستانیوں کی مہمان نوازی کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے یہ نسلوں کی دوستی ہے اور ان کی نسل پر لازم ہے کہ پاکستان سے دوستی کو مزید مضبوط بنائیں۔ پاکستان اور چین کی دوستی باہمی تعاون پر مبنی ہے،چینی عوام پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گے ۔چین اور پاکستان کی ثقافتی روایات ایک جیسی ہیں،شاہراہ قراقرم دو تہذیبوں کے درمیان ایک بندھن ہے۔ چینی صدر نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے سلسلے میں پاکستان کی قربانیوں کو ناقابل فراموش قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بڑے خطرات میں اپنی خودمختاری اورجغرافیائی حدودکادفاع کیا،پاکستان عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کا ملک ہے، آرمی پبلک سکول پشاورمیں دہشت گردی ایک عظیم سانحہ ہے۔انہوں نے سکیورٹی کے معاملے پر کہا کہ پاکستان اور چین کو مل کران چیلنجز سے نمٹنا ہو گا۔ ایشیاء میں اقتصادی ترقی پاکستان اور چین کی منزل ہے، چین پاکستان کی افغان پالیسی کی بھرپور حمایت بھی کرتا ہے۔انہوں نے خطاب کے دوران پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی کے بارے میں کہا کہ انہیں یاد ہے کہ پاکستان نے چین کے لئے اس وقت فضائی راستہ کھولا اور مدد کی جب چین بالکل تنہا تھا، پاکستان چین کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے والا پہلامسلم ملک اور نئے چین کو تسلیم کرنے والے ابتدائی ملکوں میں تھا،چین کوجب بھی ضرورت پڑی پاکستان نے بہت محبت سے مدد کی۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ پارلیمنٹ کے لئے بڑا دن ہے، پاکستان اور چین مل کر دہشت گردی ختم کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی سلامتی پاکستان کی سلامتی ہے۔ اقتصادی راہداری دونوں ملکوں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے، اس سے پا کستان کے تمام علاقے مستفید ہوں گے۔چینی صدر نے قومی اسمبلی میں شمسی توانائی کے منصوبے کا بھی افتتاح کیا،اب پارلیمنٹ ہاؤس کی بجلی شمسی توانائی پر منتقل کر دی جائے گی۔یہ چین کی طرف سے ایک یاد گار تحفہ ہے۔ چینی صدرکوگزشتہ روز ایوان صدر کی ایک تقریب میں ’ نشان پاکستان‘ سے بھی نوازا گیا۔سوموار کو پاکستان اور چین کے درمیان سدا بہار سٹرٹیجک تعاون کے تحت 46 ارب ڈالرزکے 51 سمجھوتوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ وزیراعظم نواز شریف اور چینی صدر شی چن پنگ نے وزیراعظم آفس میں 8 منصوبوں کی نقاب کشائی کی ،جبکہ دونوں رہنماؤں نے ویڈیو لنک کے ذریعے توانائی کے 5 بڑے منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا،بیس نکات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا۔دونوں سربراہان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔شی چن پنگ نے وہاں بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو سٹرٹیجک پارٹنر شپ میں بدلنا چاہتے ہیں۔ شی چن پنگ نے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور پاک افواج کے سربراہان سے بھی ملاقات کی، انہوں نے خطے اور عالمی امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور بالخصوص دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ضربِ عضب میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں کی تعریف کی۔ چینی صدر شی چن پنگ نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کو ’گیم چینجر‘ قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ اس کے نتیجے میں ترقی کا راستہ کھلے گا کہ ملکی استحکام کے لئے اقتصادی ترقی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کے عزائم قابل ستائش ہیں اورآپریشن ضربِ عضب کے نتائج قیام امن کے لئے موثر ہیں۔

چین کے صدر کا دورہ تاریخی اور کامیاب ترین رہا ،یہ چینی صدر کی پاکستان کے ساتھ مثالی محبت ہی ہے کہ انہوں نے اپنا دورہ منسوخ ہونے کے چھ ماہ بعدبھی پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا، ورنہ ایسے دورے دوبارہ طے ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ان کے اس دورے سے پاکستان کی اقتصادی ترقی کا ایک نیا درکھل گیا ہے، پاکستان میں چینی سرمایہ کاری ہو گی، دوسرے بیرونی سرمایہ کاروں کا بھی حوصلہ بڑھے گا اور پاکستانی معیشت مستحکم ہو گی۔پاکستان ہمیشہ چین کے ہم قدم رہا ہے تو آج چین بھی پاکستان کے معاشی استحکام اور امن کے لئے پوری قوت سے ساتھ کھڑا ہے۔ چین کے صدر کے دورے سے پاکستان کواقتصادی سہارا تو ملا ہی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ صدر شی چن پنگ نے پوری دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان بالکل تنہا نہیں ہے، چین اس کے دائیں بازو کی حیثیت سے موجود ہے۔اپنے دورے کے دوران وہ کسی موقع پر بھی پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کئے گئے اقدامات کو سراہنا نہیں بھولے، انہوں نے بھرپور طریقے سے نہ صرف آپریشن ضربِ عضب کی حمایت کی، بلکہ اپنے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔رواں سال کے آغاز میں جب جنرل راحیل شریف نے چین کا دورہ کیا تھا تب بھی چین نے پاکستان کی پیٹھ تھپکی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کا فیصلہ بھی ہوا تھا۔اب بھی چین کی طرف سے خطے کی صورتت حال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی مکمل تائید بہت حوصلہ افزا ہے۔پاکستان دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ و مخلص ہے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں چین اس کے ساتھ ہے۔ اس سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔چینی صدر کے دورے کے بعدپاکستانی عوام کے دل امید سے بھر گئے ہیں، روشن مستقبل کی دستک سنائی دے رہی ہے لیکن ہما رے اہل سیاست کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اقتصادی استحکام کے لئے ملک میں امن اورسیاسی اتفاق رائے ہو نا بھی از حد ضروری ہے، یہاں بدگمانیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سب کو’مل جل‘ کر اندرونی و بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنا ہو گا تاکہ اس نادر موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

مزید : اداریہ