پشاور

پشاور

بابا گل سے

افغان فوج کے سربراہ جنرل شیر محمد کریمی کادورہ خیبر پختونخوا اور کاکول پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بحثیت مہمان خصوصی شرکت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے جسے بجا طورپر کی افواج کے درمیان ہم آہنگی خوشگوار تعلقات اوراعتماد سازی کے نئے باب کا نقطہ آغاز قرار دیا جارہا ہے جنرل شیر محمد کریمی کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ پہلے غیر ملکی ہیں جنہوں نے پاکستان ملڑی اکیڈمی (کاکول) ایبٹ آباد کے لانگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بحثیت مہمان خصوصی شرکت کی اور کامیاب کیڈٹس سے خطاب کیا پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت اعلی عسکری قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی پی ایم اے پہنچنے پر جنرل شیر محمد کریمی کا شاندار استقبال کیا گیا جبکہ کیڈٹس کے چاق وچوبنددستے نے مہمان خصوصی کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور سلامی دی جنرل کریمی جوکہ خود پرکش شخصیت کے حامل ہیں اپنے شاندار اسقبال اور پاکستانی کیڈٹس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکے جنرل کریمی نے پاک فوج کی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اسے دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک قرار دیا کیڈٹس سے خطاب کے دوران جنرل کریمی نے کہا کہ پاکستان اورافغانستان کو آج افراد اورگروہوں سے خطرات کاسامنا ہے جو کہ براہ راست سیاست سے منسلک نہیں اسی لیے انہیں نان سٹیٹ ایکٹر کہاجاتا ہے یہ نیا دشمن ہم سب کامشترکہ دشمن ہے یہ دشمن سرحد مذہب اور اخلاقی اصولوں کو نہیں مانتا یہ ریاستوں میں دہشتگردی اور خوف کے ذریعے طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے نان سٹیٹ ایکڑ ز کو شکست دینے کیلئے عوام کے تعاون اور مسلسل حمایت کی ضرورت ہے نئے کیڈٹس سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر امن سیکورٹی اور استحکام کے بارے سوچیں کیونکہ ہم اپنے ملک میں امن قائم نہیں کرسکتے جب تک کہ ہمارا ہمسایہ ملک بدامنی کاشکار ہو میرا یقین ہے کہ پاکستان اورافغانستان میں امن کاحصول ممکن ہے۔

افغان فوج کے سربراہ جنرل کریمی نے پی ایم اے لانگ کورس کی تقریب سے خطاب کو اپنے لیئے اعزاز قرار دیتے ہوئے جنرل راحیل شریف کو اپنا بھائی کہ کر پکارا جنرل کریمی نے تقریب کے دوران زیر تربیت افغان کیڈٹس سے بھی ملاقات کی اس سے قبل حامد کرزئی کے دور حکومت میں افغان کیڈٹس کو انڈین آرمی کے ذریعے تربیت دی جاتی تھی تاہم اشرف غنی نے افغانستان کی قیادت سنبھالنے کے بعد افغان آرمی کی تربیت کیلئے پاکستان کا انتخاب کیا جبکہ پاکستانی عسکری قیادت نے جنرل کریمی کو تقریب کامہمان خصوصی بنا کراس رشتے کو مزید کرنے کی بنیادیں فراہم کیں جو کہ یقیناً افغانستان میں درپردہ بعض ایکڑز کو سخت ناگوار گزری اوراسی کے نتیجے میں جلال آباد میں خود کش حملے کے بعد پے درپے دھماکے اورکئی بے گناہ معصوم لوگوں کی زندگیاں چھین کرداعش نے افغانستان میں اپنی موجودگی اور کاروائیوں کاباقاعدہ آغاز کردیا یہ دھماکے عین اسوقت کئے گئے جبکہ جنرل کریمی پی ایم اے کاکول کی تقریب میں شریک تھے خودکش حملے اور دھماکوں میں افغان حکومت کے ملازمین کو نشانہ بنایا گیا جو بنک کے باہر قطار لگا کراپنی تنخواہیں وصول کرنے کاانتظار کررہے تھے پاکستان اورافغانستان کی عسکری وسیاسی قیادت یقیناکچھ سمجھ کر چلے ہونگے اور پیغام بھیجنے والے ایکڑ (ملک ) کو بھی جان چکے ہونگے تو قع کی جاتی ہے کہ دونوں ممالک کی عسکری وسیاسی قوت مل کر ان دھماکوں کے ماسٹر مائنڈز کو ٹھکانے لگانے کیلئے حکمت عملی وضع کرے گی۔ بصورت دیگر پاکستان میں بھی خدانخواستہ اسی طرح کی کوئی مذموم کاروائی کے ذریعے داعش اپنے وجود کی موجودگی کااعلان کرسکتی ہے جو کہ پاکستان میں ہونے والی چینی سرمایہ کاری کو متاثر کرسکتی ہے خیال ظاہر کیاجارہا ہے کہ دونوں ممالک نے داعش کی اس کاروائی کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اس کے وجود کے خاتمے کیلئے کسی بھی وقت مشترکہ اورفیصلہ کن کاروائی ہوسکتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی گہما گہمی میں درجنوں ایسے افغان مہاجر ین کا انکشاف ہوا ہے جو خود کو قبائلی ظاہر کرکے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں افغانی باشندے حکمران جماعت سمیت اتحادی جماعتوں کے جھنڈوں کے سہارے مہاجرین نے پولٹیکل انتظامیہ سے حلف نامے بنوا کر کلیئر نس حاصل کرلی جبکہ حکومت اورریاستی اداروں کے پاس انکی روک تھام کیلئے کوئی انتظام نہیں اسی طرح مضافاتی علاقوں میں قبضہ مافیا سمیت غیر قانونی دھندوں کی پشت پناہی کرنے والی بااثر شخصیات بھی بلدیاتی انتخابات کے میدان میں اتری ہیں اوراپنے مقابل کو دستبردار کرانے کیلئے مسلسل دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

بلدیاتی انتخابات کیلئے عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی ابھی تک نہ تو کوئی موثر مہم کا آغاز کرسکی اور نہ ہی انکا کوئی مضبوط امیدوار سامنے آسکا اس لیے خیال کیاجاتا ہے کہ تحریک انصاف بلدیاتی انتخابات میں آسانی کے ساتھ اکثریت حاصل کر لے گی تا ہم تحریک انصاف میں بھی ٹکٹوں کی تقسیم پر پائے جانے والے اختلافات شدید ہوگئے ہیں اور ان اختلافات نے پارٹی کے اندر بغاوت کی کیفیت پیدا کردی ہے حکمران جماعت کے اراکین اس بات پر سخت ناراض ہیں کہ جماعت اسلامی نے ضمنی انتخاب میں اپنا امیدوار دستبردار نہ کرایا اسے احسان فراموشی قرار دیتے ہوئے جماعت اسلامی کے کسی بھی امیدوار کو ووٹ دینے سے انکاری ہیں جبکہ بعض زرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کراچی کی صورتحال کے باعث بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی اورتحریک انصاف کااتحاد ٹوٹ بھی سکتا ہے بہرحال جو بھی نتیجہ نکلتا ہے آنے والے ہفتوں میں معاملات واضع ہوجائینگے ۔

بلدیاتی انتخابات کی اس گہما گہمی کے دوران ہی پشاورکی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے تحریک نفاذ شریعت محمدی ؐ سوات کے سربراہ اور مولانا فضل اللہ کے سسر مولانا صوفی محمد کے خلاف دہشتگردی کے16 مقدمات ختم کرنے کا حکم دے دیا وکیل صفائی نے فیصلہ سنائے جانے کے بعد کہا کہ آئین اور عدالتوں کیخلاف سخت بیانات دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتے چنانچہ تمام مقدمات سے دہشتگردی ایکٹ کی دفعات کو خارج کرنے کاحکم سنایا گیا مولانا صوفی محمد کے خلاف بغاوت ،دھرنا کبل تھانے پر حملہ کرنے کے تین مقدمات بھی عام عدالت میں چلانے کاحکم دیا گیا جہاں جرم ثابت ہونیکی صورت میں سزاکی شرح کم سے کم کی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1