نیو انرولمنٹ پالیسی کے تحت 45لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کرنیکا فیصلہ

نیو انرولمنٹ پالیسی کے تحت 45لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کرنیکا فیصلہ

 لاہور(ذکاء اللہ ملک)محکمہ سکولز ایجوکیشن نے نیو انرولمنٹ پالیسی کے تحت 45لاکھ آؤٹ سکول بچوں کو صوبہ بھر کے سرکاری سکولوں میں داخل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سرکاری سکولوں کی مکمل تفصیلات طلب کر کے محکمہ ایجوکیشن کے افسران پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں جبکہ بوگس انرولمنٹ کرنے والے سکول سربراہان کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت سخت کاروائی کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم نے پنجاب کے تمام اضلاع میں سال 2015-16 انرولمنٹ پایسی لاگو کرتے ہوئے حکمت عملی تیار کر لی ہے جسکے مطابق رواں سال 45لاکھ آؤٹ آف سکول بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کیا جائے گا جبکہ انرولمنٹ کے حوالے سے جدید انسپکشن و مانیٹرنگ کا نظام وضع کرتے ہوئے بچوں کے داخلہ اور اخراج کا آن لائن ریکارڈ مرتب کرنے کے احکامات جاری کر دئے ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ داخل ہونے والے بچوں کی مکمل تفصیلات روزانہ کی بنیاد پر آن لائن مرتب کر کے محکمہ ایجوکیشن کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا جبکہ محکمہ تعلیم کے افسران جنہیں صوبہ کے تمام اضلاع میں قائم سرکاری سکولوں میں وزٹ کر کے مانیٹرنگ کرنے اور انرولمنٹ میں غفلت کے مرتکب سکول سربراہان کے خلاف محکمانہ کارروائی کے باضابطہ احکامات دیئے گئے ہیں نیز مذکورہ افسران پر مشتمل کمیٹیاں سرکاری سکولوں میں تعلیمی سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں گی تاہم سکولوں سے غیر حاضر اساتذہ اور بوگس انرولمنٹ کرنے والے سکولز سربراہان کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے انکی پروموشن اور تقرر و تبادلے روک لئے جائیں گے۔اس حوالے سے رابطہ کرنے پر سیکرٹری سکولز ایجوکیشن پنجاب عبدالجبار شاہین نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر شعبہ تعلیم پر تمام تر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے قلیل مدت میں سرکاری سکولوں کی کارکردگی میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔انرولمنٹ پالیسی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ رواں سال کیلئے 45لاکھ آؤٹ سکول بچوں کو داخل کیا جائے گا جبکہ اس نظام کو تیز اور شفاف بنانے کیلئے محکمہ ایجوکیشن کے افسران کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں انکا مزید کہنا تھا کہ 1لاکھ 30ہزار ایجوکیٹرز کی شفاف بھرتیوں کی بدولت سرکاری سکولوں میں میعار تعلیم بلند ہوا ہے جبکہ لوگوں کے اذہان میں سرکاری سکولوں پر اعتماد پیدا ہوا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1