کراچی ایکسپو سینٹر میں پہلی 3 روزہ پلاسٹک پروڈکٹ شو اختتام پذیر

کراچی ایکسپو سینٹر میں پہلی 3 روزہ پلاسٹک پروڈکٹ شو اختتام پذیر

کراچی(این این آئی)ایران کی جانب سے پاکستانی پلاسٹک انڈسٹری کو جوائنٹ وینچر کے تحت مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبے قائم کرنے پیشکش کردی گئی ہے۔ یہ بات پاکستان میں تعینات ایرانی کمرشل اتاشی مراد نعمتی نے پاکستان پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے تحت کراچی ایکسپوسینٹر میں پہلے 3 روزہ پلاسٹک پروڈکٹ شوکے آخری روزدورے کے موقع پرکہی۔آخری روز نمائش میں شہریوں کا جم غفیر، شہریوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر خریداری کی گئی۔اختتامی روز ایرانی کمرشل فونصلیٹ،فیڈریشن کے نائب صدر عبدالرحیم جانو اور دیگر نے نمائش کا دورہ کیا۔ پی پی ایم اے کے سرپرست اعلیٰ ذکریا عثمان، چیئرمین ظفر سعید، نمائش کمیٹی کے چیئرمین علی محمد کنجی، صدیق آدم، اخلاق احمد، ایس ایم طارق، غیور ہاشمی، تاج الدین، شعیب منشی، سلیم الدین، شوکت احمد، عمران غنی، راشد محمود، سید احسن علی اور دیگر کی جدوجہد نے ایونٹ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ ایرانی کمرشل اتاشی مراد نعمتی نے پاکستان میں تیار ہونے والی پلاسٹک مصنوعات کے بلند معیار کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستانی انڈسٹری کیلیے خام مال کی درآمدات کو سہل بنانے کی غرض سے علیحدہ تجارتی بینک قائم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے جس سے دونوں ممالک کے تاجروں وصنعت کاروں کیلیے درآمدی وبرآمدی سرگرمیوں میں ادائیگیوں کا نظام بہتر ہوجائے گا۔اگرادائیگیوں کا نظام بہتر ہوگیا تو پاکستان کی پلاسٹک انڈسٹری اپنا85 فیصد خام مال جن میں ایچ ڈی پی ای، ایل ڈی پی اور پی پی شامل ہیں ایران سے سستے فریٹ پر درآمد کرسکے گی۔ اس موقع پر پاکستان پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفرسعید نے بتایا کہ پاکستان سے سالانہ45کروڑ ڈالر مالیت کی پلاسٹک مصنوعات مشرق وسطی، افغانستان، دبئی اور افریقی ممالک کو برآمد ہورہی ہیں لیکن پاکستان میں سیلزٹیکس ریفنڈ کے ناقص نظام اور کرپشن کی وجہ سے پلاسٹک انڈسٹری اپنی بھرپور صلاحیت رکھنے کے باوجود اپنی مصنوعات کی بیرون ملک مارکیٹنگ اور برآمدات میں دلچسپی نہیں رکھتی،   یہی وجہ ہے کہ پاکستانی پلاسٹک مصنوعات کی برآمدات طویل دورانیے سے محدود ہیں۔انہوں نے وفاقی وزارت خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر پر زور دیا کہ وہ سیلزٹیکس ریفنڈکے رائج نظام میں حقیقی بنیادوں پر شفافیت متعارف کرائیں تاکہ انڈسٹری پراعتماد انداز میں اپنی برآمدی سرگرمیوں کو فروغ دے سکے۔ انہوں نے ادائیگیوں کے نظام میں بہتری لانے کیلیے ایران کے علیحدہ تجارتی بینک کے قیام میں دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگرادائیگیوں کا نظام بہتر ہوجائے تو پاکستان کی پلاسٹک انڈسٹری ایران سے بنیادی نوعیت کا خام مال درآمد کرکے اپنی پیداواری لاگت میں یکدم5 فیصد کی کمی کر سکتی ہے۔ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی ایم اے ظفر سعید نے ایونٹ کی کامیابی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے چیئرمین نمائش کمیٹی علی محمد کنجی و دیگر ممبران کو مبارکباد دی۔ ظفر سعید نے کہا کہ تمام تر مسائل و مشکلات کے باوجود پلاسٹک صنعت اپنی مدد آپ کے تحت سالانہ 10فیصد ترقی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک صنعت کی مزید ترقی کے لیے ایس آر کلچر ختم اور صنعتی شعبے میں موجود کالی بھیڑوں کا خاتمہ کیا جائے۔ ظفر سعید نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دیگر شعبوں کی طرح اس صنعت کے فروغ کے لیے بھی پلاسٹک سٹی کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ ملک معاشی و اقتصادی طور پر مستحکم ہوسکے۔ آخری روز نمائش میں شہریوں کا جم غفیر، بڑے پیمانے پر خریداری نے ایونٹ کو یادگار بنا دیا۔ ملک میں پہلی پلاسٹک مصنوعات کی وسیع رینج دیکھ کر نمائش میں آنے والے ہی دنگ رہ گئے۔ نمائش میں تمام پلاسٹک مصنوعات 25فیصد رعایتی نرخوں پر فروخت کی گئیں۔ نمائش میں 65کمپنیوں کی جانب سے 125اسٹالز قائم کیے گئے۔

مزید : کامرس