چین کے صدر کی وطن واپسی، وزیراعظم نوازشریف کی ریاض روانگی!

چین کے صدر کی وطن واپسی، وزیراعظم نوازشریف کی ریاض روانگی!

تجزیہ چودھری خادم حسین

چین کے صدر شی چن پنگ کا دو روزہ دورہ مکمل ہوا، ہنگامی صورت حال معمول پر آئی۔ اب وزیراعظم محمد نوازشریف دوسرے معروضی حالات کی طرف توجہ مبذول کر رہے ہیں۔ وہ آج سعودی عرب جائیں گے، جہاں سعودی حکمرانوں سے یمن کے مسئلہ پر تبادلہ خیال ہوگا۔ خبر یہ بھی ہے کہ چین کے صدر نے بیجنگ سے پاکستان کے لئے روانہ ہونے سے قبل سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے فون پر بات کی تھی۔ اس خبر یا اطلاع کی روشنی میں یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ ملاقات اور مذاکرات کے دوران یمن کے مسئلہ پر بات ہوئی ہوگی کہ چین نے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل والی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یوں اس مسئلہ پر پاکستان اور چین کے موقف میں یکسانیت ہے کہ حوثی باغی ہیں اور صدر ہادی ہی یمن کے منتخب حکمران ہیں اور حوثیوں کو اسلحہ کی ترسیل بند ہونا چاہیے۔

وزیراعظم محمد نوازشریف کے سعودی عرب روانگی سے قبل ایک نئی صورت حال پیدا ہوئی کہ ایران نے اپنے مطالبے اور تجویز کو دھمکی کی شکل دے دی اور ایران کی اہم فوجی قیادت اور وزرا نے سعودی عرب اور عرب لیگ کی افواج پر زور دیا ہے کہ یمن میں حوثیوں پر فضائی حملے بند کئے جائیں اور مذاکرات کرکے مسئلہ حل کیا جائے۔ ایرانی وزیر کا یہ کہنا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن فضائی کارروائی نہ رکی تو مداخلت پر مجبور ہوگا، یہ واضح دھمکی ہے اور ابہام نہیں رکھا گیا اس سے صورت حال میں بنیادی تبدیلی کا تاثر ہے اور ان تمام معروضی حالات ہی میں سعودی حکمرانوں سے بات ہوگی جو پاکستان سے اسلحہ اور فوج بھی مانگ رہے ہیں، یہ نازک لمحات ہیں اور چین جیسے دوست سے بات ضرور ہوئی ہوگی اور مشورہ بھی، اسی روشنی میں وزیراعظم سعودی حکام سے مستقبل کے بارے میں طے کریں گے، جبکہ پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد ابھی جوں کی توں ہے۔

یمن کا مسئلہ خطے کے لئے بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے اور پاکستان ابھی تک اس سے کلیتاً آزاد نہیں ہو پایا یہ سوال پھر سے موجود ہے کہ ایران کو اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد کے لئے قائل کیا جا سکے گا؟ اور اس کے بعد ہی سیز فائر اور مذاکرات ممکن ہیں؟ اس حوالے سے سعودی حکومت کا موقف اپنا ہے کہ سیز فائر دشمن کے ساتھ جنگ میں ہوتی ہے، حوثی تو باغی ہیں۔ یوں تنازعہ تو ہے۔ ایران اور سعودی حکومت کے درمیان کشیدگی پہلے سے ہے جبکہ خلیج کی ریاستوں کے حکمران بھی شاکی ہیں۔یوں وزیراعظم کا یہ دورہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

چین کے صدر کی دو روزہ مصروفیات اقتصادی اور معاشی حوالے سے تھیں اور وہ زیر التوا معاہدوں اور یادداشتوں کو نمٹا گئے ہیں۔ منصوبوں کی تکمیل ہونے پر حالات میں نمایاں تبدیلی ہوگی، مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس دورے پر بہت زیادہ انحصار کر رہی تھی اور اب اس کے لئے پروپیگنڈہ بھی ہوگا، معاہدے اچھے اور پاک چین دوستی مستحکم ہے، تمام پارلیمانی لیڈروں کو ملاقات کراکے اچھی روایت کا آغاز کیا گیااورپارلیمانی جمہوریت کے لئے یہ ضروری ہے۔اچھی توقعات کوئی بُری بات تو نہیں!

مزید : تجزیہ