ضابطہ اخلاق کیخلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن کا اظہار ناراضگی

ضابطہ اخلاق کیخلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن کا اظہار ناراضگی

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) ملک بھر میں کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں معمول بن گئیں۔ الیکشن کمیشن کا اظہار ناراضگی، تمام ریٹرننگ افسروں کو کو ڈ آف کنڈکٹ پر سختی سے عمل درآمد کروانے کی ہدایات جاری کردیں۔معلوم ہواہے کہ ملک بھر کی 42چھاؤنیوں میں 25اپریل کو بلدیاتی انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔ مذکورہ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے 31مارچ 2015کو ضابطہ اخلاق جاری کیا۔ جس کے چیدہ چیدہ نکات کے تحت امیدوار 3x2فٹ سے بڑا پوسٹر ، 9x3فٹ سے بڑا بینر آویزاں نہیں کرسکتا ۔ اسی طرح دیواروں پر لگائے جانے والے ہرطرح کے اشتارات پر پابندی عائد کی گئی۔ جبکہ امیدوار کے لیے انتخابی اخراجات کی زیادہ سے زیادہ حد 2لاکھ روپے مقرر کرنے کے علاوہ ،صدر مملکت ، وزیر اعظم، وزراء اعلیٰ ، وفاقی و صوبائی وزرا ، سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ ، وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ کے مشیران ،سینٹ و قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران اور حکومتی عہدیدار نہ تو کسی بھی انتخابی حلقے میں ترقیاتی کام کا آغاز کرینگے اور نہ ہی کسی وارڈ یا کنٹونمنٹ علاقے کا دورہ کرینگے۔ اور نہ ہی کسی امیدوار کی انتخابی مہم کا حصہ بنیں گے۔ لیکن ذرائع سے معلوم ہواہے کہ ملک بھر کے کنٹونمنٹ ایریاز میں الیکشن کمیشن کیطرف سے جاری ہونے والے اس ضابطہ اخلاق کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جارہا ۔ اور نہ صر ف قومی وصوبائی اسمبلیوں کے اراکین اور وزرا کے ساتھ ساتھ حکومتی عہدیدار انتخابی حلقوں کا دوررہ کررہے ہیں۔ بلکہ کھلے عام انتخابی مہم بھی چلارہے ہیں۔اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن کومتعدد تحریری شکایات بھی موصول ہوچکی ہیں۔ جس پر الیکشن کمیشن کی طرف سے کنٹونمنٹ بورڈ کے ملک بھر کے ریٹرننگ افسروں کو گزشتہ روز ایک خط لکھا گیا ہے۔ جس میں انہیں ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ کہ کمیشن کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی درخواستیں موصول ہورہی لہذا ریٹرننگ افسر ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو ہرصورت یقینی بنائیں۔ ضانطہ اخلاق

مزید : صفحہ آخر