چودھری نثار علی خان اور شاہ محمود قریشی ایک جیسی صورت حال کا شکار

چودھری نثار علی خان اور شاہ محمود قریشی ایک جیسی صورت حال کا شکار
چودھری نثار علی خان اور شاہ محمود قریشی ایک جیسی صورت حال کا شکار

  

شاہ محمود قریشی نے کل ٹویٹ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے بلدیاتی ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے پارٹی کی پالیسی کی پابندی نہیں کی اور ان کو ان ٹکٹوں کی تقسیم پر نہ صرف شدید تحفظات ہیں بلکہ وہ اس کی تائید بھی نہیں کرتے۔ یہ ٹویٹ میڈیا میں نظر انداز ہو گیا ۔ لیکن تحریک انصاف کے اندر نظر انداز نہیں ہو ا ۔ دوسری طرف چینی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر پہلے دن پنجاب کے علاوہ باقی تین صوبوں کے وزراء اعلیٰ کی کمی محسوس کی گئی۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ دوسرے دن باقی وزراء اعلیٰ بھی آگئے۔ اسی طرح وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان بھی چینی صدر کے اعزاز میں منعقد کی جانے والی اہم تقریبات سے غائب تھے۔ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں موجود تھے۔ لیکن اس کے بعد ایوان صدر کی تقریب اور ائیر پورٹ پر مہمان کو الواداع کرنے کے لئے موجود نہیں تھے۔ اس طرح شاہ محمود قریشی اور چودھری نثار علی خان اپنی اپنی جماعتوں میں ایک طرح کی صورتحال کا شکار ہیں۔ اور پھنسے بیٹھے ہیں۔ دونوں رہنماؤں میں ماضی میں بھی کا فی چیزیں مشترک رہی ہیں۔ جیسا کہ جاوید ہاشمی۔ جب جاوید ہاشمی مسلم لیگ (ن) میں تھے تو چودھری نثار علی خان کے لئے مسئلہ تھے ۔ اور جب جاوید ہاشمی تحریک انصاف میں تھے تو شاہ محمود قریشی کے لئے مسئلہ تھا۔ لیکن قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں ۔ کہ آج جاوید ہاشمی نہ تو مسلم لیگ (ن) میں ہیں اور نہ ہی تحریک انصاف میں۔ لیکن چودھری نثار علی خان اور شاہ محمود قریشی کے اپنی اپنی جماعتوں میں مسائل کم نہیں ہوئے۔ چودھری نثار علی خان جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بیٹھے چینی صدر اور اپنے وزیر اعظم میاں نواز شریف کا خطاب سن رہے تھے تو ان کے چہرے پر تناؤ صاف نظر آرہا تھا۔ انہوں نے اور وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کوئی سر گوشی بھی نہیں کی۔ حالانکہ جب چودھری نثار علی خان ٹھیک ٹھاک تھے۔ تو وہ اور وزیر اعظم اکثر ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی بھی کیا کرتے تھے۔ سوشل میڈیا پر چودھری نثار علی خان کے حوالے سے بہت سی کہانیاں گرم ہیں۔ ہر کوئی نئی کہانی سنا رہا ہے۔ یہ کہانیاں کتنی جھوٹ ہیں یا صحیح ۔ اس پر تو وقت ہی فیصلہ کرے گا۔ ایک کہانی تو یہ ہے کہ ان کی مریم نواز سے نہیں بن پا رہی۔ اور اب بڑے فیصلوں میں مریم نواز کی شرکت بڑھتی جا رہی ہے۔ دوسری کہانی یہ ہے کہ کابینہ میں دو بڑے گروپ ہیں ایک کی قیادت خواجہ آصف کر رہے ہیں جبکہ دوسرے کی قیادت چودھری نثار علی خان کر رہے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خواجہ آصف گروپ چھا گیا ہے۔ وہ وزیر اعظم کے بھی زیادہ قریب ہو گیا ہے۔ اور اس نے چودھری نثار علی خان کو کمزور کر دیا ہے۔ چودھری نثار علی خان کو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شر یف کی بھی بھر پور حمایت حاصل تھی اور حاصل ہے۔ اور پچھلی بار ان کی وزیر اعظم میاں نواز شریف سے صلح بھی میاں شہباز شریف نے ہی کروائی تھی۔ لیکن اب لگ رہا ہے کہ صلح دم توڑ رہی ہے۔ لیکن چودھری نثار علی خان کے پاس ابھی کوئی آپشن نہیں ہے۔ اس لئے تجزیہ نگاروں کی رائے میں وہ اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے۔ ان کے اور وزیر اعظم کے درمیان فاصلے اس بار جلدی ختم ہوتے بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔تاہم چودھری نثار علی خان کے کریڈٹ میں ایک بات ہے کہ انہوں نے آج تک پارٹی چھوڑی نہیں ہے۔ لیکن ان کو اس سے قبل اتنی بری صورتحال کا سامنا بھی نہیں رہا۔ دوست بتاتے ہیں کہ وہ بہت دکھی اور افسردہ ہیں ۔ اور کہہ رہے ہیں کہ وہ ایسی بند گلی میں ہیں۔جہاں نہ آگے راستہ ہے نہ واپس۔ اور سانس لینا بھی مشکل۔ شاہ محمود قریشی کے لئے پہلے تحریک انصاف میں جاوید ہاشمی ایک مسئلہ تھے۔ وہ چلے گئے اور شاہ محمود قریشی اکیلے ہی چمپیئن بن گئے۔ لیکن اب ان کے ارد گرد گھیرا پھر تنگ ہو گیا ہے۔ وہ چودھری سرورکے آنے سے بھی خوش نہیں ہیں۔ اوپر سے چودھری سرور آتے ہی ۔ علیم خان اور جہانگیر ترین کے گروپ میں شامل ہو گئے۔ اس سے طاقت کا توازن پھر شاہ محمود قریشی کے ہاتھ سے نکل گیا۔ خیبر پختونخوا سے تو وہ پہلے ہی �آؤٹ تھے۔ پرویز خٹک بھی جہانگیر ترین اور علیم خان کے ساتھ ہیں۔ عمران خان بھی ان کے زیادہ قریب ہیں۔جس جس طرح تحریک انصاف کا فوکس پنجاب سے خیبر پختونخوا شفٹ ہو رہا ہے ویسے ویسے شاہ محمود قریشی خود کو بارہواں کھلاڑی محسوس کر رہے ہیں۔ وہ سنیئر وائس چیئرمین تو ہیں ۔ لیکن خیبر پختونخوا میں سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین نے ان کو قدم نہیں جمانے دئے۔ اگر چودھری سرور پلان کے تحت پنجاب کے صدر بن جاتے ہیں تو شاہ محمود قریشی کے لئے پنجاب میں بھی ماحول تنگ ہو جائے گا۔ اسی لئے انہوں نے چودھری سرور کی آمد پر تحفظات کا اظہار کیا تھا ۔ لیکن علیم خان نے جس طرح ان کی استقبالیہ تقریبات منعقد کی ہیں وہ بھی شاہ محمود قریشی کے لئے ایک پیغام تھا۔ چودھری نثار علی خان اور شاہ محمود قریشی دونوں اپنی اپنی جماعتوں میں اہم پوزیشن رکھتے ہیں ۔ لیکن مسئلہ یہی ہے کہ انہیں اپنی اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں مشکل پیش آر ہی ہے۔ دونوں کے خلاف ان کی جماعتوں میں بننے والے گروپ مضبوط ہو گئے ہیں۔ کیونکہ ان کے مخالفین کو اندازہ تھا کہ وہ اکیلے انہیں کارنر نہیں کر سکتے۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ دونوں نے طاقت کے نشہ میں غلطیاں بھی کی ہیں۔ اسی لئے ان کے مخالفین ان کے خلاف اکٹھے ہو گئے ہیں۔ شاہ محمودد قریشی نے جاوید ہاشمی کو باغی کہا۔ اور چودھری نثار علی خان ہی جاوید ہاشمی کو ن لیگ سے نکلوانے میں سب سے زیادہ متحرک تھے۔ اب اگر جاوید ہاشمی واپس ن لیگ میں آتے ہیں تو چودھری نثار علی خان کے لئے مزید مشکلا ت پیدا ہو نگی۔جس طرح چودھری سرور شاہ محمود قریشی کے لئے مشکلات پیداکر رہے ہیں۔

مزید : کالم