پشاور یونیورسٹی کی تحقیقاتی کمیٹی نے مرادسعید کے امتحان کو فرضی، سرٹیفکیٹس کو جعلی قرار دے دیا

پشاور یونیورسٹی کی تحقیقاتی کمیٹی نے مرادسعید کے امتحان کو فرضی، سرٹیفکیٹس ...
پشاور یونیورسٹی کی تحقیقاتی کمیٹی نے مرادسعید کے امتحان کو فرضی، سرٹیفکیٹس کو جعلی قرار دے دیا

  

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے رہنماءمراد سعید کے فرضی امتحان اور جعلی ڈگری کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی یونیورسٹی آف پشاور کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں مراد سعید کی دستاویزات کو متنازعہ اور مشکوک گردانتے ہوئے جعلی قرار دے دیا۔

ڈین یونیورسٹی آف پشاور فیکلٹی آف نمیریکل اینڈ فزیکل سائنسز پروفیسر گلزار علی خان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس امر کی بھی تصدیق کی کہ مراد سعید نے ایک دن میں تین پرچوں کا امتحان دیا اور صرف ایک گھنٹے میں تینوں پرچے حل کر لیے۔رکن قومی اسمبلی نے یونیورسٹی آف پشاور سے ڈگری کے اجراءکے لیے پشاور ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے۔مراد سعید 2005سے 2009ءتک یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف انوائرنمنٹل سائنسز کے طالب علم رہے ہیں۔وہ انٹروڈکشن ٹو انوائرنمنٹل سائنس کے پرچے میں غیر حاضر تھے لیکن جو سرٹیفکیٹ انہوں نے عدالت میں پیش کیا اس کے مطابق انہوں نے 60نمبر حاصل کیے ہیں۔

فیکلٹی ممبران کے بیانات کے مطابق مراد سعید کے لیے ہنگامی طور پر امتحان کا انعقاد کیا گیا، ایک ہی دن میں پرچے ترتیب دیئے گئے، امتحان ہوا اور اسی دن نتیجے کا اعلان کر دیا گیا۔تحقیقاتی کمیٹی نے 9صفحات پر مشتمل رپورٹ میں معاملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔

مزید : پشاور