قصہ ایک وڈیرے او ر این اے 246 کا

قصہ ایک وڈیرے او ر این اے 246 کا
قصہ ایک وڈیرے او ر این اے 246 کا

  

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی محلے میں ایک وڈیرہ رہتا تھا ۔ وڈیرہ اس محلے میں بھرپور اثر و رسوخ رکھتا تھا اور تمام محلے والے اس کی عزت کرنے سے زیادہ اس سے خوف زدہ تھے۔ وڈیرے کی اچانک موت کے بعد اس کے بڑے بیٹے نے اس کی گدی سنبھالی اور محلہ کے سیاست میں بھرپور حصہ لینا شروع کر دیا ۔ اس کی عادات و اطوار کچھ اچھی نہیں تھیں لیکن اس کے باوجود اس کا کھڑا کیا ہوا امیدوار الیکشن میں واضح اکثریت سے کامیاب ہو جاتا ۔ لوگ اس سے ڈرتے تھے لیکن اس کے باوجود باآسانی اپنا استحصال کروانے کے لیے تیار ہو جاتے تھے ۔ اس کے مقابلے پر آنے والے ہر امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا لیکن چند افراد کو اس کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور کرتے رہتے ۔ اسی طرح وقت گزرتا گیا او ر وڈیرے کے مخالف دھڑوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ اب اس وڈیرے کے خلاف 3 سے 4 دھڑے بن چکے تھے لیکن ابھی بھی صورتحال وہی تھی وڈیرہ الیکشن جیتنے میں آسانی سے کامیاب ہو جاتا ۔ محلہ کے کل ووٹ 3500 تھے اور وہاں کے بزرگوں کا اندازہ تھا کہ وڈیرہ اپنی جیب میں محض 1 ہزار سے 12 سو ووٹ ہی رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود الیکشن جیت جاتا ہے ۔ مخالفین کے دھڑوں کو کسی نے ہوش دلایا اور کہا کہ اگر وہ متحد ہو جائیں تو وڈیرے کو ہرانا آسان ہو جائے گا ۔ 3 کے ذہن میں یہ بات آ گئی اور انہوں نے باہمی اتحاد کے ساتھ اگلا الیکشن لڑنے کی ٹھان لی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ الیکشن تو ہار گئے لیکن وڈیرے کو اس کی سیاست کاسب سے بڑا جھٹکا یہ لگا کہ اس مرتبہ وہ الیکشن بہت کم ووٹوں سے جیت سکا تھا ۔ محلہ کے مبصرین نے اس جیت کو بھی وڈیرے کی شکست ہی کہا اور تبصرہ کیا کہ آئندہ الیکشن میں وڈیرہ سیاست سے بالکل باہر ہو جائے گا ۔ ہوا بھی کچھ یوں ہی کہ اگلے الیکشن میں وڈیرے کو بری طرح شکست ہوئی اور آنے والی نسل اس وڈیرے کے عذاب سے بالکل آزاد ہو چکی تھی ۔ 

اسی طرح کی کچھ صورتحال کراچی کے حلقہ این اے 246 میں دیکھنے کو آئی ہے جہاں گزشتہ 7 الیکشن متحدہ قومی موومنٹ کی فتح کا پیغام لے کر آئیں ہیں۔ اب کی بار ایم کیو ایم کو اس حلقہ میں للکارنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی میدان میں ہیں ۔ ٹی وی چینلز پر بیٹھنے والے معزز صحافی حضرات اپنی اپنی آراءسے قوم کو مستفید کر رہے ہیں اور عوام کا بھی یہ حال ہے کہ جہاں موقع ملتا ہے این اے 246 کا قصہ چھیڑ کر اپنی ماہرانہ رائے سے دوسروں کو نواز رہی ہے ۔ میرے نزدیک اس حلقہ کی حالت بھی اسی محلے جیسی ہے جہاں وڈیرہ ایک عرصہ سے اپنا راج قائم کیے ہوئے ہے اور آئندہ بھی فتح کی خوشخبری سننے کے لیے بے قرار ہے ۔ ذرا غور کیا جائے تو اس حلقہ میں ایم کیو ایم کا مرکز نائن زیرو بھی موجود ہے اور ارد گرد کی آبادی اپنے قائد الطاف حسین کے ایک اشارے پر جان تک قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دیکھا جائے تو اس حلقہ میں ووٹر ہی کی نہیں بلکہ نسلوں کو الطاف حسین سے محبت کرنا سکھایا گیا ہے اور آج بھی اگر کوئی یہ کہے کہ اس حلقہ میں ایم کیو ایم کی پوزیشن کمزور ہے تو شاید میرے نزدیک وہ غلط سوچ رہا ہے ۔

ایک طرف خبریں آئیں تھیں کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی اس الیکشن میں اتحاد کر لیں گے اور کسی ایک جماعت کے امیدوار کو دوسرے کے حق میں دستبردار کروا لیا جائے گا ۔ لیکن دونوں جماعتوں کی جانب سے ایسا تو ممکن نہ ہو سکا اور دونوں نے الگ الگ اپنی طاقت دکھانے کا فیصلہ کیا ۔ اگر ایم کیو ایم کے خلاف دونوں جماعتیں متحد ہو جاتیں تو شاید اس الیکشن میں سخت مقابلہ دیکھنے میں آسکتا تھا۔ اب بھی میرا خیال ہے کہ اگر ایم کیو ایم کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ گیا تو وہ اس کی سیاسی موت ہو سکتی ہے کیونکہ اپنے گھر میں بلی بھی شیر ہوتی ہے۔اگر شیر بھی ہو اور اس کو اس کے گھر آ کر للکار دیا جائے تو اس کی حیثیت بڑے بالوں والے جانور کی سی رہ جاتی ہے جنگل کے بادشاہ کی نہیں ۔

حلقہ این اے 246 میں ضمنی انتخاب کا دنگل صبح سجے گا اور اب دیکھنا یہ کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اپنی اپنی حیثیت سے شیر کو اس کے گھر میں للکارنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں ورنہ جنگل کا بادشاہ تو موجود ہی ہے اور جو گزشتہ 25 سال سے ہوتا آیا ہے کچھ عرصہ اور سہی ۔ کوئی بات نہیں

مزید : بلاگ