انڈرویئر کا شوق نوجوان کو بہت مہنگا پڑا ،بینک پیچھے پڑ گئے

انڈرویئر کا شوق نوجوان کو بہت مہنگا پڑا ،بینک پیچھے پڑ گئے
انڈرویئر کا شوق نوجوان کو بہت مہنگا پڑا ،بینک پیچھے پڑ گئے

  

لندن (نیوز ڈیسک) برطانوی شہر برسٹول سے تعلق رکھنے والے ایک ریسٹورنٹ منیجر کو روزانہ نیا انڈرویئر پہننے کے شوق نے دیوالیہ پن کے کنارے پر پہنچادیا۔ تفصیلات کے مطابق کرٹ آلمنڈ نامی 26 سالہ نوجوان برطانیہ میں ایک ’نئیڈوز‘ ریسٹورنٹ کا منیجر ہے۔ مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ اسے ہر روز نیا انڈرویئر خرید کر پہننے کی عادت سابقہ محبوبہ سے علیحدگی کے بعد پڑی۔ اس نے علیحدگی کا غم بھلانے کیلئے یہ طریقہ اپنایا۔ ابتداءمیں اس نے پہلی مرتبہ نئے زیر جامہ خرید کر پہنے تو بے حد اچھا محسوس ہوا، یہاں تک یہ عادت ہی بن گئی۔ کرٹ کا کہنا ہے کہ محبوبہ سے علیحدگی کے بعد وہ اپنی ماں کے ساتھ رہنے لگ گیا، اس کا کرایہ کم ہوگیا تھا لہذا اضافی کیس بھی میسر تھا۔ یہاں تک کہ وہ ہر ہفتے 40 پاﺅنڈ مہنگے انڈرویئروں پر خرچ کرنے لگا۔ وہ ایک مرتبہ انڈرویئر پہن لیتا تو دوبارہ اسے ہاتھ نہ لگاتا۔ اس طرح ایک سال میں 2 ہزار پاﺅنڈ (قریباً 3 لاکھ پاکستانی روپے) اس نے اس کام میں اڑادئیے۔

مزیدپڑھیں:لباس کے انتخاب میں چھوٹی سی غلطی نے عرب رقاصہ کو جیل پہنچا دیا

دوسری جانب اس کی ماں نے بھی کرائے میں 100 پاﺅنڈ اضافہ کردیا۔ پھر اسے کریڈٹ کارڈ کی رقم ادا کرنا پڑی تو احساس ہوا کہ اپنی تمام جمع پونجی وہ اس عجیب و غریب شوق پر لٹاچکا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اب اس کے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ اس شوق سے نجات حاصل کرے یا دیوالیہ ہوجائے۔ بالآخر اس نے ہمت پکڑی اور فیصلہ کیا کہ ایک سال میں 1365 انڈرویئروں کی خریداری حد سے زیادہ ہے اور بینکوں کا سامنا کرنے سے بہتر ہے کہ ان پر ہی گزارہ کرلیا جائے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس