فلپائن کے مقبول ترین صدارتی امیدوار کا گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی کے بارے میں ایسا خوفناک ’لطیفہ‘ کہ سننے والوں کو کانوں پر یقین نہ آئے

فلپائن کے مقبول ترین صدارتی امیدوار کا گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی کے ...
فلپائن کے مقبول ترین صدارتی امیدوار کا گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی کے بارے میں ایسا خوفناک ’لطیفہ‘ کہ سننے والوں کو کانوں پر یقین نہ آئے

  

منیلا(نیوز ڈیسک) فلپائن کے صدارتی الیکشن کے مضبوط ترین امید وار نے حیا اور اخلاقیات کی تمام حدود پھلانگتے ہوئے اندوہناک ظلم کا نشانہ بننے والی خاتون کے متعلق ایسی بات کہہ دی کہ ہر طرف سے ان پر لعنت برسنا شروع ہو گئی ہے، اور اب ان کے صدارتی دوڑ سے باہر ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

اخبار دی انڈی پینڈنٹ کے مطابق سابق مئیر راڈریگو ڈی گونک گوٹرٹ کی ایک ویڈیو یوٹیوب پر سامنے آئی ہے جس میں وہ 1989 کا ایک واقعہ سناتے نظر آتے ہیں، جب وہ ٹواﺅ شہر کے میئر تھے۔ اس شہر کی جیل میں قیدیوں نے بغاوت کر دی اوراہلکاروں سے اسلحہ چھین کر متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا، جن میں 36 سالہ آسٹریلوی خاتون جیکولین بھی شامل تھیں۔ اغواءکاروں نے جیکولین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے کے بعد ان کا گلا کاٹ دیا تھا۔ سابق مئیر راڈریگو کا کہنا تھا کہ انہوں نے اغواءکاروں کے خلاف آپریشن کا حکم دیا، جس میں تمام اغوا کاروں کو مار دیا گیا۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا،” جب لاشیں باہر لائی گئیں تو میں نے اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ ایک خوبصورت امریکی اداکارہ کی طرح نظر آتی تھی۔ میں نے سوچا کیسی چیز ضائع کر دی۔ میرے ذہن میں جو بات آئی وہ یہ تھی کہ ان سب نے ملکر اس کے ساتھ زیادتی کی۔ میں غصے میں تھا کہ انہوں نے اس کے ساتھ زیادتی کی، لیکن یہ ایک علیحدہ بات ہے۔ وہ اس قدر خوبصورت تھی کہ اس کے ساتھ زیادتی کا پہلا حق شہر کے میئر کا ہونا چاہئیے تھا۔ “

راڈریگو کی انسانیت سے گری ہوئی بات سامنے آنے پر آسٹریلوی حکومت نے سخت افسوس کا اظہار کیا ہے۔ فلپائن میں بھی ان کے خلاف نفرت کا اظہار جاری ہے اور انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ان کے مخالف صدارتی امیدواروں کا کہنا ہے کہ عصمت دری اور قتل جیسے ظلم کا شکار ہونے والی خاتون کے بارے میں اس قسم کے شرمناک الفاظ استعمال کرنے والا شخص کسی بھی طرح ملک کی صدارت کا حق دار نہیں۔ سیاسی تجزیاکاروں کا کہنا ہے کہ راڈریگو صدارت کے مضبوط امیدوار تھے مگر اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد ان کا صدارتی دوڑ میں شامل رہنا بھی مشکل نظرآرہا ہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس