18ویں سالگرہ پر نوجوان لڑکی بے ہوش ہوکر گر پڑی، ڈاکٹر نے کیمرے کے ذریعے دماغ کے اندر کا منظر دکھایا تو ایسا انکشاف کہ زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا

18ویں سالگرہ پر نوجوان لڑکی بے ہوش ہوکر گر پڑی، ڈاکٹر نے کیمرے کے ذریعے دماغ ...
18ویں سالگرہ پر نوجوان لڑکی بے ہوش ہوکر گر پڑی، ڈاکٹر نے کیمرے کے ذریعے دماغ کے اندر کا منظر دکھایا تو ایسا انکشاف کہ زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک لڑکی اپنی سالگرہ کے دن بے ہوش ہو کر گر پڑی، اور جب اسے ہسپتال لیجایا گیا تو ڈاکٹروں نے ایسا انکشاف کر دیا کہ زندگی کاسب سے بڑا جھٹکا لگ گیا ۔ گلوسیسٹرشائر کے قصبے سٹراﺅڈکی رہائشی 19سالہ نرسنگ کی طالبہ میڈی وارنر کو جب ہسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں نے انکشاف کیا کہ اس کے دماغ میں ایک خطرناک رسولی ہے جو انتہائی حد کو پہنچ چکی ہے اور کسی بھی وقت پھٹ کر میڈی کو موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے۔برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ میڈی کے دماغ میں پیدائشی طور پر نسوں کے بگاڑ کی وجہ سے یہ رسولی موجود تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑی ہوتی رہی اور اب اس کا سائز ٹینس بال کے برابر ہو چکاہے۔

’ایک سال تک اپنے والد کو اپنا دودھ پلاتی رہی کیونکہ۔۔۔‘ خاتون نے ایسی وجہ بتادی کہ جان کر شاید آپ کو بھی غصہ نہ آئے

ڈاکٹروں نے فوری طور پر آپریشن کے ذریعے میڈی کے سر سے یہ رسولی نکالنے کا فیصلہ کیا اور اس کے سر کی کھوپڑی کو ایک طرف سے کھول کر انتہائی پیچیدہ آپریشن کے ذریعے اسے نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ”میڈی وارنر پیدائشی طور پر آرٹریووینس میلفارمیشن (Arteriovenus Malformation) کے مرض کا شکار تھی جس میں خون کی وریدیں میں بگاڑ آجاتا ہے اور وہ گچھے کی شکل میں ایک جگہ جمع ہو جاتی ہیں۔“

میڈی وانر کا کہنا تھا کہ ”یہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے کہ میں طویل عرصے سے اس خطرناک بیماری میں مبتلا تھی اور مجھے معلوم ہی نہیں تھا، یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے میرے دماغ میں کوئی ٹائم بم رکھا ہو جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا تھا۔ میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں۔ کئی لوگ اب تک اس مرض کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ اس مرض کی پہلی علامت ایک سال قبل ظاہر ہوئی تھی جب میں ایک صبح سردرد کے ساتھ بیدار ہوئی۔ تب میں ہسپتال گئی مگر ڈاکٹر اس مرض کا سراغ لگانے میں ناکام رہے تھے۔اس کے بعد میرے سر میں مسلسل درد رہنے لگا اور ایک سال بعد میں برین سٹروک آیا اور پھر ڈاکٹروں نے جب میرے دماغ کا سکین کیا تو اس مرض کی تشخیص ہو گئی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس