وزیر خزانہ پنجاب کی زیر صدارت ڈی جی ڈبلیو ٹی او کے دورہ بارے اجلاس

وزیر خزانہ پنجاب کی زیر صدارت ڈی جی ڈبلیو ٹی او کے دورہ بارے اجلاس

لاہور(کامرس رپورٹر)صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ڈائریکٹر جنرل ورلڈ ٹریڈ آر گنائزیشن (WTO) کے دورہ پاکستان سے قبل تیاریوں کے حوالے سے ایک اجلاس گزشتہ روزمنعقد ہوا ۔ جس کا مقصد ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ڈی جی روبرٹو ایزویڈو (Roberto Azevedo) کی آمد پر دی جانے والی پریزنٹیشن کی تیاری کے لئے سٹیک ہولڈز کی تجاویز کا جائزہ لینا تھا ۔اجلاس میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس کے صدر اور چےئرمین ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن جمیل ناز ، ڈپٹی سیکرٹری منسٹری آف کامرس عدنان لودھی ، ڈائریکٹر پنجاب بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ خرم افضل ملک ، ایم ڈی پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن بلال احمد بٹ ، چیف انڈسٹریز اسلم جاوید ، چیف اکانومسٹ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈاکٹرامان اللہ، ایڈیشنل سیکرٹری زراعت حسین سردار اور صدر باسمتی گروئرز ایسوسی ایشن چوہدری حامد ملہی نے شرکت کی ۔ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے اس موقع پر بتایا کہ وزیر اعلی پنجاب نے صوبائی وزیر خزانہ کی قیادت میں پنجاب میں ڈبلیو ٹی او کی شرکت سے جاری منصوبوں پر نظر ثانی ، نقائص کی نشاندہی اور اصلاحات پر مشاورت کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں وزارت صنعت وتجارت اور بورڈ آف انوسٹمنٹ سمیت تمام سٹیک ہولڈز کو نمائندگی دی گئی ہے ۔؂

انہوں نے کہا کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اپنے ممبر ممالک کو نہ صرف اشیاء اور خدمات کی خرید و فروخت کے حوالے سے مشاورت کے لئے پلیٹ فارم مہیا کر رہی ہے بلکہ ان کے مابین تجارت کے فروغ، تنازعات کے خاتمے اور تجارتی پالیسی کی اصلاح میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔صوبائی وزیر خزانہ نے تمام سٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں ان تمام مصنوعات کی نشاندہی کریں جن کی ایکسپورٹ سے زیر مبادلہ کما یا جا سکتا ہے کیونکہ اس وقت ہماری اولین ترجیح صوبے کے وسائل میں اضافہ ہے ۔ چےئرمین ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ٹی او کی پاکستان آمد سے قبل ضروری ہے کہ ہم جائزہ لیں کہ ہماری درآمدات میں کن کن ممالک کی کون کون سی مصنوعات ہماری مصنوعات کے مقابلہ پر آر ہی ہیں اور ان کی اور ہماری قیمتوں میں کتنا فرق ہے ۔تاکہ ہم اپنی مصنوعات کی فروخت کو بہتر بنا سکیں۔ایڈیشنل سیکرٹری زراعت حسین سردار نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ زراعت ابتک WTOکے ساتھ کسی منصوبے پر کام نہیں کر رہا، ضروری ہے کہ مستقبل میں انہیں بھی نمائندگی دی جائے۔

مزید : کامرس