سیلز ٹیکس کی شرح ہمسایہ ممالک سے زیادہ ہے: پیاف

سیلز ٹیکس کی شرح ہمسایہ ممالک سے زیادہ ہے: پیاف

لاہور(کامرس رپورٹر) پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسو سی ایشنز فرنٹ(پیاف )نے کہا ہے پاکستان میں موجودہ 17% سیلز ٹیکس ہمسایہ ممالک انڈیا ، ملائشیا، تھائی لینڈ، اندونیشیاکے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، زیادہ شرح ہونے سے ٹیکس چوری ، کرپشن اور سمگلنگ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ چیئرمین پیاف عرفان اقبال شیخ نے گزشستہ روزایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس کو سنگل ڈیجیٹ پر لایا جائے۔تمام انڈسٹریز پر جی آئی ڈی سی کو فی الفور ختم کیا جائیتاکہ پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں کی تعداد میں کمی اور ٹیکس اصلاحات سے ہی ٹیکس نیٹ میں اضافہ ممکن ہے اورٹیکس نیٹ میں اضافہ سے ہی حکومت کی ریونیو میں اضافہ ہو گا جس سے ملک کو بیرونی قرضوں سے نجات ملے گی۔

عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ حکومت مالی بحرا ن کے باعث آئی ایم ایف جیسے اداروں سے ان کی شرائط پر قرضے حاصل کرتی ہے جس کے باعث انڈسٹریز اور تاجر برادری پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیلئے آئندہ بجٹ میں بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی اور صنعتوں کو بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ اور ٹیکسوں میں بھی کی جائے تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ ممکن ہوسکے ۔اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ سے ملک خوشحالی و ترقی کی راہوں پر گامزن ہوسکے۔

مزید : کامرس