کرپشن ایک بڑا چیلنج ہے

کرپشن ایک بڑا چیلنج ہے
کرپشن ایک بڑا چیلنج ہے

  

پاکستان میں آج کل ہر سو کرپشن کا چرچا ہے۔ آف شور کمپنیوں کے معاملات کیا سامنے آئے، پاکستان میں بھی بھونچال آگیا۔ حکومت ایک طرف کھڑی ہوئی نظر آتی ہے تو دوسری طرف پیپلز پارٹی، تحریک انصاف سمیت تمام جماعتیں کھڑی ہیں۔ مسلم لیگ(ن) والے اپنے سربراہ کے جو مُلک کے وزیر اعظم بھی ہیں ، دفاع میں ایک سے بڑھ کر ایک دلیل دے رہے ہیں اور دلیل کی اس تجارت میں مخالفین خصوصاً عمران خان کے خلاف ایسی زبان بھی استعمال کی جارہی ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تکلیف زیادہ ہی پہنچی ہے۔ سب ہی بیانات کی دیگ میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ بھلا کون کھل کر اعتراف کرے گا کہ کرپشن ناپسندیدہ عمل نہیں ہے۔ اِسی لئے سب ہی کرپشن کے خلاف بول رہے ہیں۔ وزیراعظم نے نشیب کی جانب مرتے ہوئے پانی کا رخ موڑنے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں گی۔ ان کا بیان بھی مختلف تبصروں میں گم ہو گیا ہے۔ قوم کی رہنمائی کرنے والے اب تک اس بات پر متفق نہیں ہو سکے ہیں کہ پاناما پیپرز سے سلگنے والی آگ پر پانی کون ڈالے گا۔ کون سا ادارہ تحقیقات کرنے کا مجاز ٹہرے گا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے تو تحقیقات کے معاملے ہی سے کنارا کشی اختیار کر لی ہے۔ کرپشن نے اس ملک کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے ہلاکت خیز اثرات کا حقیقی اندازہ اس لئے نہیں ہو پاتا کہ حکومتیں آئی ایم ایف سے قرضے حاصل کر لیتی ہیں، جس کی وجہ سے ملک کی گاڑی رواں دواں رہتی ہے ۔ دولت مند لوگوں کو تو فکر چھوتی ہی نہیں ہے۔ کرپشن کی اس اُلجھی ہوئی داستان کا خمیازہ تو مُلک کے وہ لوگ بھگت رہے ہیں جو سیاست میں کسی اہمیت کے حامل نہیں ہیں سوائے اس روز کے جس روز انہیں ووٹ ڈالنے کے لئے گھسیٹ کر پولنگ سٹیشن پر لے جایا جاتا ہے۔ عوام کی اس نام نہاد عدالت سے عوام کے نام نہاد نمائندے آئندہ پانچ سال حکومت کرنے کا پروانہ حاصل کر لیتے ہیں۔ عوام کے روز و شب بھیانک سے بھیانک ہوتے جارہے ہیں۔ انصاف سے تعلیم تک کے لئے محروم یہ لوگ اپنے بل بوتے پر زندہ رہتے ہیں۔ کہیں انہیں سفید پوش لوٹتے ہیں تو کہیں سیاہ پوش۔انہیں جگہ جگہ چھوٹوؤں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس ملک میں ہر بڑے نے چھوٹے پالے ہوئے ہیں۔ ایسے میں کرپشن سے نجات کیوں کر ممکن ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ مُلک کرپشن سے پاک تھا۔ اس مُلک کے سیاست داں اور بڑ ے سرکاری افسران کرپشن سے محفوظ ہوا کرتے تھے۔ سردار عبدالرب نشتر کو پاکستان کے ابتدائی دِنوں میں اہمیت حاصل تھی۔ وہ پاکستان بنانے والے ان سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں: جو غلط بات کہتے تھے اور نہ ہی سماعت کرتے تھے۔ انہوں نے گورنر پنجاب کی حیثیت سے صوبائی سطح پر محکمہ انسداد رشوت ستانی بھی قائم کیا تھا۔ ان کا ایک واقعہ آج کے سیاست دانوں کی رہنمائی کے لئے کافی ہو گا ۔ خواجہ ناظم الدین کی وزارتِ عظمیٰ میں سردار نشتر وزیر صنعت مقرر ہوئے تھے۔ کراچی میں صنعتکاروں نے مرکزی وزیر کو دھورا جی سوسائٹی کے سنگ بنیاد رکھنے کے لئے دعوت دی تھی۔ اسی تقریب میں منتظمین نے ان سے گزارش کی کہ وہ بھی ایک پلاٹ کے لئے فا رم بھردیں۔ سردار صاحب نے فارم لے لیا اور کہا کہ آئندہ دورے کے دوران جمع کرادیں گے۔ آئندہ دورے کے دوران انہیں نے دھورا جی ہاؤسنگ سوسائٹی کے عہدیداروں کو بغیر بھرا ہوا فارم واپس کیا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ فارم کیوں نہیں بھرا تو ان کا جواب تھا کہ میرے پاس پشاور میں ایک رہائشی پلاٹ موجود ہے اور قانون کے مطابق ایک شہری ایک سے زیادہ پلاٹ نہیں رکھ سکتا اس لئے میں یہ فا رم واپس کر رہا ہوں۔اس وقت کے سیاست دانوں کے ایک نہیں ، سینکڑوں ایسے واقعات موجود ہیں جو یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ دور اوائل میں سیاست دانوں کی ا کثریت کرپشن سے محفوظ تھی۔ سیاست دانوں کی طرح اس دور کے سی ایس پی افسران بھی اس وباء سے دور تھے۔ افسران کی بھاری تعداد ایسی ملے گی، جس نے قدم قدم پر احتیاط برتی۔ ایئر مارشل اصغر خان ، نور خان اور درجنوں فوجیوں کا شمار ایسے افراد میں کیا جاتا ہے، جن کے دامن پر کوئی دھبا نہیں پایا گیا۔ برطانیہ کے ایک سابق وزیراعظم ڈیوڈ لائڈ جارج نے 1935ء میں دارالعوام میں یوں ہی تو نہیں کہا تھا کہ ’’ انڈین سول سروس (آئی سی ایس) اسٹیل کا وہ فریم ہے، جس پر انڈیا میں ہماری حکومت اور انتظامیہ قائم ہے‘‘۔ اس فریم کی اہمیت ہی یہ تھی کہ اس میں کرپشن سے محفوظ لوگ فٹ تھے۔ اور جو لوگ کسی قسم کی کرپشن کا شکار ہو جاتے تھے انہیں یہ فریم خود بخود باہر پھینک دیتا تھا۔

قیام پاکستان کے بعد ایسے ہی لوگ مُلک چلاتے رہے۔ یہ تو 1958ء میں پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کرنے والے جنرل ایوب خان کا ’’ کارنامہ ‘‘ ہی قرار دیا جاتا ہے کہ انہوں نے سیاست میں کرپشن کو باقا عدہ متعارف کرایا۔ خود بھی محفوظ نہیں رہ سکے۔ اپنوں اور غیروں کو نوازا گیا۔ گوہر ایوب نے ان کے دور ہی میں کاروبار میں قدم جمایا۔ گندھارا انڈسٹریز اسی دور کا تحفہ ہے۔ بیڈ فورڈ ٹرک کی ایجنسی بھی اسی دور کی یاد گار ہے۔ پلاٹ پرمٹ سیاست کی ابتدا بھی اسی دور میں ہوئی۔ کوٹری میں جب صنعتی علاقہ قائم کیا گیا تو سندھ کے تمام سیاست دانوں کو صنعت سازی اور کارخانے لگانے کے لئے پرمٹ دئے گئے اور پلاٹ بھی الاٹ کئے گئے۔ ان سیاست دانوں نے حقیقی صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کو پرمٹ فرو خت کئے جو کرپشن کا درجہ ہی رکھتی تھی۔ یہ سلسلہ ایسا چل نکلا کہ کار اور سیمنٹ کی بوریوں کے پرمٹ تک جاری کئے گئے۔ یہ پرمٹ اپنے حامی سیاسی کارکنوں میں تقسیم کئے جاتے تھے۔ جب سیاست نام ہی سرمایہ کاری کا ٹہر گیا تو پھر تو سیاست دانوں نے تمام بند ہی توڑ ڈالے۔ افسران نے جب سیاست دانوں کو بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتا دیکھا تو انہوں نے بھی وہ کچھ کردیا، جس کا کسی زمانے میں تصور بھی محال تھا۔ حکومت کی جانب سے احتساب اور تاد یبی کارروائی اور پھر لوگوں کی انگشت نمائی کی وجہ سے سرکاری افسران اپنے آپ کو ہر چھینٹے سے دور رکھتے تھے۔ اب تو افسران بھی سیاست دانوں کی طرح کرپشن کے دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ جمعیت علماء پاکستان کے ایک گروپ کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کہتے ہیں کہ حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف، دونوں میں ہی چور جمع ہیں۔

فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو یہ کہنا پڑا ہے کہ ملکی یکجہتی، سالمیت اور خوش حالی کے لئے سب کا احتساب ضروری ہے۔ کرپشن کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے بغیر مُلک میں دا ئمی امن و استحکام نہیں آ سکتا۔ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف پوری قوم کی حمایت سے لڑی جانے والی جنگ اس وقت تک پائیدار امن اور استحکام نہیں لاسکتی جب تک کرپشن کی لعنت کا خاتمہ نہ کیا جائے۔ اس لئے پاکستان کی یکجہتی سالمیت اور خوشحالی کے لئے سب کا احتساب ضروری ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اس سلسلے میں کی جانے والی ہر بامقصد کوشش کی مکمل حمایت کریں گی، جس کے نتیجے میں ہمار ی آئندہ نسلوں کے لئے ایک بہتر مستقبل یقینی بنایا جا سکے ۔ اس تماش گاہ میں حکومتیں بامقصد احتساب سے دانستہ پہلو تہی کرتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے ہی بدعنوان عناصر کی بلے بلے ہے۔

مزید : کالم