کتاب، میڈیا کا رجحان اور رویہ!

کتاب، میڈیا کا رجحان اور رویہ!
کتاب، میڈیا کا رجحان اور رویہ!

  

سیر صبح کے بعد آج جو محفل جمی تو ذرا مختصر تھی۔ مرزا منور بیگ، گلزار بٹ اور قریشی صاحب کے علاوہ ہم دو لوگ اور تھے، ابتدا ہی کتاب کے موضوع سے ہوئی۔ قریشی صاحب کا کہنا تھا کہ آج کتاب پڑھنے کے رجحان میں کمی آ گئی ہے اور آج کی نوجوان نسل کتاب خریدنا تو کجا دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتی جبکہ ایک دورآنہ لائبریری کا بھی تھا، جب کتاب پڑھنے کا رجحان بہت تھا۔ مرزا منور حسین بیگ کا جواب تھا کہ جس زمانے میں کتاب پڑھنے کا رجحان تھا، اس دور کی آبادی اور حالیہ آبادی کا موازنہ کیا جائے تو تناسب کے حساب سے تو پڑھنے والوں میں کمی آئی لیکن تعداد کے اعتبار سے صورت حال مختلف ہے۔ پہلے دو سو کتابیں شائع کرکے بھی بیچنے میں مشکل پیش آتی تھی اور آج تو پہلی ہی اشاعت ایک ہزار کتابوں کی ہوتی ہے کہ آبادی میں اضافہ ہوا ۔ ان کے مطابق آج کا دور جدید مواصلاتی دور ہے جس میں ٹیلی ویژن، موبائل اور کمپیوٹر استعمال ہو رہے ہیں، نوجوانوں کو تو موبائل اور ٹیلی ویژن ہی سے فرصت نہیں ملتی۔ اس کے باوجود اسی لاہور میں جو بڑی بڑی دو تین لائبریریاں ہیں وہاں علم کے متلاشی خاصی تعداد میں ہوتے ہیں اگرچہ آبادی کے تناسب کے مطابق نہیں ہوتے۔

ان حضرات کی اس گفتگو کے دوران ہی ہم خود ماضی میں کھو گئے کہ ہماری ابتدائی تعلیم کا ایک مرحلہ ایسی ہی ایک لائبریری سے ہوا جو فلیمنگ روڈ کی ایک دکان میں قائم تھی اور صاحب دکان بچوں کو پڑھاتے بھی تھے۔ ہم اپنے گھر کے قریبی سکول (چوک نواب صاحب) میں دل نہ لگا سکے تو ہمارے والد صاحب نے تعلیمی رجحان پیدا کرنے کے لئے ہمیں استاد محترم غلام نبی کے پاس چھوڑ دیا۔ یہاں ہمارا دل لگ گیا اور پڑھنے کی طرف رجحان بھی ہوا ایک تو استاد مہربان تھے۔ پھر وہ ایک آنہ لائبریری بھی چلاتے تھے، یہاں ہمیں بچوں کی کہانیوں سے کتاب کا چسکا لگا اور پھر ادب، تاریخ اور جاسوسی ناولوں تک یہیں پڑھے اور ایسا چسکا پڑا کہ کتاب کے بغیر چین نہیں تھا۔ سعادت حسن منٹو، محمد اسلم اور کرشن چندر سے قرۃ العین تک کی کتابیں یہیں سے لے کر پڑھیں، جب ہم ہائی سکول (اسلامیہ ہائی سکول شیرانوالہ گیٹ) میں زیر تعلیم تھے تو دلچسپی اور بھی بڑھ گئی تھی چنانچہ استاد محترم کی لائبریری سے ناتا نہ چھوٹا، وہ دور ایسا تھا، جب ہم نے نسیم حجازی کی آخری چٹان ایک ہی وقت میں پوری کی پوری پڑھ ڈالی، اس یاد نے یہ فیصلہ کر ہی دیا کہ آج کی لائبریری کی نسبت ماضی کے دور میں لائبریری کی طرف رجحان زیادہ تھا۔

مرزا منور حسین بیگ کی دلیل اپنی جگہ معقول ہے اور یہ یوں بھی سچ ہے کہ کتاب تو آج بھی پڑھی جاتی ہے لیکن نسبتاً بہت کم رجحان ہے لیکن اسے یوں بھی انحطاط نہیں مانا جا سکتا کہ آج کے دور میں ای بکس کا بھی رواج ہو گیا اور بہت سے نوجوان کمپیوٹر ہی سے مستفید ہوتے ہیں کہ اس ذریعہ معلومات نے بھی تو وسیع کینوس کھولا ہے۔ تاہم ہمیں جو تحفظات ہیں وہ بھی اسی دور سے متعلق ہیں کہ اب کتاب خریدنے کی بجائے اس کے ای ایڈیشن پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور ضرورت کے مطابق جستہ جستہ پڑھ لی جاتی ہے۔ اس کے باوجود کتاب میں دلچسپی حقیقتاً کم ہوئی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ خود ہمارے اس پیشہ صحافت میں بہت کم لوگ کتاب سے مستفید ہوتے ہیں، روائت کے مطابق چند لوگ ہی ایسے نظر آتے ہیں جن کا رشتہ کتاب سے ہے اور وہ آج بھی کتاب پڑھتے ہیں اگرچہ مجموعی طور پر ان سب کا موڈ آف ہو گیا ہے، اب ذرا خود ہمارے پیشہ صحافت کی طرف نظر ڈال لیں تو احساس ہوگا کہ آج کے نوجوان میں کتاب تو درکار خود نئے دور کے تقاضوں کے مطابق کمپیوٹر ٹریننگ میں بھی کچھ نہیں سیکھا گیا، اسی سبب بہت کچھ خلط ملط ہو کر رہ گیا ہے۔

حالانکہ اس مواصلاتی سہولت نے بچوں سمیت تمام والدین کو بیک وقت مستفید ہونے کا موقع بہم پہنچایا ہے کہ کسی بھی مسئلہ پر کمپیوٹر سے ریفرنس تلاش کرکے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہمارے تو علم میں یہ بھی ہے کہ یورپ کے ممالک میں متعین ہمارے نامہ نگار حضرات تو یہ تک کرتے ہیں، ای لائبریری سے ریفرنس ڈاؤن لوڈ کرکے اسے جوں کا توں اپنے ڈسپیچ کا حصہ بنا لیتے ہیں اور اس سے پہلے چند سطور اپنی طرف سے کمپوز کرکے باقی مواد ای لائبریری سے ڈاؤن لوڈ کر دیتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ کتاب لائبریری سے پڑھی جائے یا ای بک لائبریری سے پڑھنا ضرور چاہیے۔ علم کے کنیوس کا وسیع ہونا لازمی ہے اور سب کو اس پر عمل کرنا ہوگا۔

بہرحال کتاب سے چلی بات سیاست پر آ گئی اور ہمارے سامنے ہی ہماری اخباری اور مواصلاتی صنعت کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا گیا۔ حاضرین کا خیال تھاکہ میڈیا نے ہر معاملے کو اچھالا، ایشو بنا کر غلط فہمیاں پیدا کیں اور پھر وہی ہوتا رہا کہ ہر مسئلہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا اور پھر کوئی نیا مسئلہ ڈھونڈھ لیا گیا۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ پاناما لیکس اور حال ہی میں جنرل راحیل شریف کے بیان پر سب متفق تھے کہ کرپشن کا خاتمہ اور تحقیقات ضروری ہے لیکن اسے اختلاف اور تنازعہ بنائے بغیر بہتر عمل یہ ہے کہ اصل مسئلہ پر توجہ دی جائے اور ذاتیات سے بالاتر معاملات کو طے کرنا چاہیے۔

ہم کہ بوڑھے ہوئے اور زندگی بھر رپورٹنگ کی معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ پہلے تحقیق اور ریفرنس ضروری جانا جاتا تھا اور حتی الامکان یہ کوشش کی جاتی کہ غلطی نہ ہو، ان دنوں تو موقف لینے کا بھی رواج نہیں تھا، کسی بہت بڑی (دور جدید کی بریکنگ نیوز نہیں) خبر کا معاملہ ہوتا تو متعلقہ حضرات سے ان کا موقف معلوم کیا جاتا ورنہ اپنی خبر کی صحت کو پرکھ کر فائل کرنا ہی بہتر جانا جاتا تھا اور اگر پھر کوئی وضاحت بھیجتا تو اس کا حق اور اگر تردید کی جاتی تو رپورٹر کی ذمہ داری ہوتی کہ وہ جوابی تحقیق کرے، آج تو یہ کوشش کی جاتی ہے کہ ایک رہنما کا بیان لے کر دوسروں سے مخالفانہ موقف لیا جائے یوں تنازعہ بڑھتا رہتا ہے۔

وزیراعظم محمدنوازشریف اور عمران خان کے حوالے سے بہت کہا گیا لیکن مجموعی تاثر یہ تھا کہ کسی کی بیماری پر طعن کرنے کی بجائے اس کی صحت کے لئے دعا کرنا چاہیے اور محاز آرائی کی بجائے دلائل و برہان سے اپنا موقف پیش کیا جائے تو بہتر ہو کہ کسی بحران کا شائبہ نہ ہو، بہرحال یہاں محاذ آرائی کو برا ہی جانا گیا۔

مزید : کالم