سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کا ماسٹر مائنڈ بری

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کا ماسٹر مائنڈ بری
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کا ماسٹر مائنڈ بری

  

پاکستان کے خلاف سازش اور اپنی فوج کے ذریعے مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث بھارت کے مکروہ چہرے کی ایک اور مثال سامنے آ گئی۔ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث، سڑسٹھ افراد کی ہلاکت کے ماسٹر مائنڈ اور مرکزی کردار بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل پرساد سری کانت پروہت کو نہایت ڈھٹائی سے کلیئر کر دیا گیا۔بھارت نے نو سال تک جو سازش چھپا کر رکھی وہ سب کے سامنے آ گئی۔

اٹھارہ فروری 2007ء کو سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین دھماکے میں 68 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی۔ اس سانحہ کا ماسٹر مائنڈ لیفٹیننٹ کرنل پرساد سری کانت پروہت تھا۔ بھارت کی ریاست مہاراشٹر کی پولیس کے اینٹی ٹیرر سکواڈ نے کرنل پروہت پر چارج شیٹ جاری کی کہ وہ دھماکے کی سازش کا ماسٹر مائنڈ تھا اور اس نے دھماکا خیز مواد فراہم کیا اور دھماکے کے لئے آر ڈی ایکس فراہم کیا۔مہاراشٹر کی عدالت کو بتایا گیا کہ لیفٹیننٹ کرنل پروہت نے ہی دھماکے کے لئے تین لاکھ اٹھانوے ہزار روپے حوالے کے ذریعے فراہم کئے اور فنڈز اکٹھے کئے۔سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کی سازش 2006ء میں تیار ہوئی ،جس میں لیفٹیننٹ کرنل پروہت شامل تھا۔ اسی فوجی افسر نے ہندو شدت پسندوں سے مل کر دہشت گردوں کو تربیت بھی دی۔

اب نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے نہایت ڈھٹائی سے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل پروہت کا سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے میں کوئی کردار نہیں تھا۔ ایک اور عجیب منطق یہ پیش کی گئی ہے کہ بھارتی ادارے لیفٹیننٹ کرنل پروہت کے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے میں کردار کی ابھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل شرت کمار نے بتایا کہ سمجھوتہ ایکسپریس مقدمے میں وہ کبھی ملزم نہیں رہے۔ انہیں پتہ نہیں سمجھوتہ دھماکہ مقدمے سے کرنل پروہت کو کیوں جوڑاگیا ہے۔ بم دھماکے کے مقدمے کے اصل ملزم سوامیآسم آنند ضمانت پر رہا ہیں۔ اس واقعے کے 11 اہم سرکاری گواہ گذشتہ چند ہفتوں میں منحرف ہوچکے ہیں۔وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ میں سوامی کی رہائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ این آئی اے کے پاس ان کی ضمانت کی درخواست کو چیلنج کرنے کی کوئی بنیاد نہیں تھی۔دو مہینے قبل مالی گاؤں بم دھماکے کے مقدمے کی سرکاری وکیل روہنی سالیان نے این آئی اے پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان پر دبا ؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ہندو شدت پسندوں کے خلاف نرم رویہ اختیار کریں،جس کے بعد روہنی نے ضمیر کی آواز پر استعفا دے دیا ہے۔

یہ بات سامنے آچکی ہے کہ سمجھوتہ ٹرین میںآتش زدگی منظم دہشت گردی اور تخریب کاری تھی، جسے ہندوؤں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے بعد پایہئتکمیل تک پہنچایا۔ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کی تفتیش کے دوران اس بات کاانکشاف ہوا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس، حیدر آباد کی مکہ مسجد اور درسگاہ خواجہ معین الدین چشتی پر بم دھماکوں میں بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس ملوث ہے۔ ایک انتہا پسند ہندو اندریش کمار کے مطابق حیدر آباد کی مکہ مسجد میں بم دھماکہ آر ایس ایس نے کرایا۔ اندریش کمار کے بیان کی روشنی میں ایک اوردہشت گرد ہندو سوامی آسم آنند کو حراست میں لیا گیا ہے جو سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جا رہا ہے۔ اب تک تو بھارتی حکام ان سانحات کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالتے چلے آرہے تھے، مگر اب معلوم ہو چکا ہے کہ ان میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس ملوث ہے۔ حال ہی میں راجیو گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ مسلمانوں سے زیادہ خطرناک تو ہندو انتہا پسند تنظیمیں ہیں۔ سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں آتش زدگی کے بارے میں پاک بھارت دونوں ملکوں کی مشترکہ ٹیم کی جانب سے تحقیقات سے گریز سے یہ بات ظاہرہوتی ہے کہ بھارتی حکومت ہرگز یہ پسند نہیں کرتی کہ اس آتش زدگی میں جو خفیہ ہاتھ کارفرما تھے، وہ بے نقاب ہوں اور ساری دنیا سمجھوتہ ایکسپریس کی آتش زدگی میں ملوث انتہاپسند ہندو تنظیموں بشمول بجرنگ دل کا بھیانک چہرہ دیکھے۔بھارت اپنی دہشت گرد تنظیموں کے گھناؤنے کردار پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا۔

بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیموں’’آر ایس ایس اور بجرنگ دل‘‘نے سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوں اور آتش زدگی کی ذمہ داری قبول کی ہے اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، لیکن اس کے باوجود بھارتی حکومت انتہا پسند ہندو تنظیموں کے چہرے سے نقاب ہٹانے سے انکار کر رہی ہے۔سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحہ کو لگ بھگ نو سال گزر چکے ہیں، عدالتی کمیشن اور تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق ملزم بھی نامزد ہو چکے ہیں ، ممبئی حملوں کے بعد تو بھارت نے پاکستان پر دباؤ ڈالے رکھا اور اجمل قصاب کو پھانسی تک دے دی، مگر سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کا کیا کیا؟ بھارت صرف پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ چاہے وہ سفارتی سطح پر ہو یا زمینی سطح پر۔ ہماری وزارت داخلہ کے مطابق بھارت بلوچستان میں دخل اندازی کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحد سے اسلحہ بھی دہشت گردوں کو سپلائی کر رہا ہے، تاہم شہدائے سمجھوتہ ایکسپریس کی روحیں اب بھی پاکستانی حکمرانوں سے سوال کررہی ہیں کہ کب اْن کی غیرت جاگے گی اور وہ اْن کے ساتھ طے شدہ منصوبے کے تحت ہونے والے ظلم کا بھارت سے حساب لیں گے؟

مزید : کالم