بلا امتیاز احتساب۔۔۔واقعی؟

بلا امتیاز احتساب۔۔۔واقعی؟
بلا امتیاز احتساب۔۔۔واقعی؟

  

تن مردہ میں روح پھونکنے کا معاملہ تو شاید نہیں، ہاں، مگر ٹمٹماتے چراغ کو لو بخشنے کی مثال دینا کسی طور غلط نہ ہو گا۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے عمران اور اینکرز ہلکان ہونے کے بعد اس وقت خود کو قدرے مشکل میں گھرا محسوس کررہے تھے کہ جب لندن گئے وزیراعظم نواز شریف نے واپسی کا اعلان کر دیا۔ پانامہ لیکس کے بعد بظاہر وزیراعظم بیک فٹ پر جاتے نظر آئے، اپنی سرگرمیاں محدود کر دیں پھر اچانک خبر آئی کہ علاج کے لئے برطانیہ روانہ ہونے والے ہیں، ان کے باہر جاتے ہی مخصوص ٹولے کے اینکروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ دعوے کیے گئے کہ اب وہ شاید ہی واپس آئیں۔ وزیراعظم کی روانگی کو فرار قرار دیا گیا۔ متبادل وزیراعظم کے لئے دھڑا دھڑ نام سامنے آنے لگے۔پورے ملک میں غیر یقینی حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ سادہ لوح عوام کے ساتھ پڑھے لکھے اور معاملات کی سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد کی ایک قابل ذکر تعداد بھی یقین کر بیٹھی کہ وزیراعظم’’ مفرور‘‘ ہو چکے ہیں۔علاج کے لئے لندن گئے وزیراعظم نے بیرون ملک جا کر بھی اپنی پسندیدہ سرگرمیاں جاری رکھیں اور ان کی سوشل میڈیا پر تشہیر بھی کی۔ ایک انتہائی مہنگے سٹور کا دورہ کیا، پھر قیمتی گھڑی کی خریداری کے لئے رولیکس سنٹر جا پہنچے۔ علاج معالجے کے لئے ٹیسٹ وغیرہ کروانے کی تصاویر بھی سامنے آتی رہیں۔ وطن واپسی کے بارے میں خود وزراء کے بیانات میں واضح تضاد تھا، پھر اچانک اعلان ہوا کہ وزیراعظم واپس آرہے ہیں۔ اس اطلاع نے پانامہ لیکس سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کیے بیٹھے مخالفین اور ’’ماتحت‘‘ اینکروں پر گویا بجلیاں گرادیں۔ دباؤ کو خاطر میں نہ لانے کی جسارت کرنے کی علامات واضح ہونے لگیں۔ تجزئیے اور پیش گوئیاں الٹ پڑنے ہی والی تھیں کہ ٹمٹماتے چراغ کو لو مل گئی۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کرپشن کو دہشتگردی کی براہ راست وجہ قرار دیتے ہوئے سب کا احتساب کرنے کا کھلم کھلا اعلان کیا۔ ’’سب کا احتساب ‘‘ ایک روایتی نعرے کے طور پر پہلے بھی کئی بار لگایا گیا اور زیادہ ترفوجی حکمران ہی ایسا کرتے رہے۔ یہ نعرہ ہر بار بری طرح سے پٹا کیونکہ سب کے احتساب کے نام پر صرف سیاستدانوں کو( وہ بھی جو طاقتور عناصر کے روبرو گھٹنے ٹیکنے سے انکار ی ہو گئے) ہی نشانہ بنایا گیا۔ زیادہ تر یہی دیکھا گیا کہ احتساب کا نعرہ لگانے والوں نے کرپٹ افراد کو اپنے اردگرد اکٹھا کر کے کھلی چھوٹ دی اور کرپشن کی جڑیں پہلے سے بھی کہیں زیادہ پھیل گئیں۔ ملک و قوم کے لئے کئی کارنامے سرانجام دینے والے موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے لوگوں کی توقعات بہت زیادہ ہیں۔ یہ سمجھا جارہا ہے کہ اگر واقعی Across The Board احتساب کی بات کی گئی ہے تو پھر اپنا ہو یا پرایا ،کوئی کرپٹ نہیں بچے گا۔ اس بیان کے بعد جہاں اینکروں کے مخصوص ٹولے کو ’’فلک شگاف‘‘ بھاشن دینے کا موقع مل گیا وہیں عمران خان سمیت حکومت مخالف عناصر کی آنکھوں میں بھی روشنی آگئی۔ اس سے قبل خصوصاً عمران خان اس وقت سخت دلبرداشتہ نظر آئے جب مسلم لیگ(ن) لندن کے کارکنوں نے گولڈ سمتھ فیملی کی عالی شان رہائش گاہ کا گھیراؤ کر کے مخالفانہ نعرے لگائے۔ شاید اس مظاہرے کا مقصد کپتان کو باور کرانا تھا کہ رائے ونڈ سمیت گھروں کے گھیراؤ کی دھمکیوں کو عملی شکل دی گئی تو نتیجہ ہر جگہ بھگتنا ہو گا۔ آرمی چیف کے بیان کے بعد خان صاحب مکمل طور پر تازہ دم ہو گئے۔ اسی شام پریس کانفرنس میں پوری قوم کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ سارا ملک جنرل راحیل شریف کے ساتھ کھڑا ہے۔

آرمی چیف نے بات ہی ایسی کی ہے کہ جس سے اختلاف ممکن نہیں۔ سیاسی طور پرخود کو متاثرہ فریق سمجھنے والے ٹائمنگ کے حوالے سے اعتراض ضرور اٹھا سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایسا بیان دینا شاید مینڈیٹ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان تمام باتوں کو درست بھی مان لیا جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ ملک میں خصوصاً 2014 ء کے دھرنے کے بعد سے جاری حالات و واقعات سے بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے ۔اور تو اور خود چیف جسٹس آف پاکستان کا ارشاد ہے کہ 21 ویں ترمیم کی منظوری جمہوریت کو بچانے کے لئے دی گئی۔ عزت مآب چیف جسٹس سے نہایت ادب سے دریافت کیا جا سکتا ہے کہ اگر معاملات آئین اور قانون کے تحت نہیں چلائے جا سکتے تو جمہوریت بچانے اور برقرار رکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے لیکن شاید اس لولی لنگڑی جمہوریت کی ضرورت عوام سے کہیں زیادہ خود اسٹیبلشمنٹ کو ہے کہ مقامی اور عالمی حالات میں فی الوقت اسی نوع کا سیٹ اپ سوٹ کرتا ہے۔

پانامہ لیکس واقعی امریکہ کی سازش ہے یا نہیں اس سے قطع نظر اثرات کا جائزہ لینا ہو گا۔ امریکی ترجمان نے تو یہ کہہ کر اپنی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو فارغ ہی کر دیا کہ نواز شریف کو برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ پاکستانی عوام کو کرنا ہے۔ سفارتی زبان میں یوں سمجھا جائے کہ امریکہ بہادر نے حکومت کی چھٹی کرانے کا این او سی جاری کر دیا۔ تکلیف نواز شریف سے ہے یا پاک چائنا اکنامک کاریڈور سے اس کا جائزہ عوام کو خود ہی لینا چاہیے، تاکہ اگر واقعی کسی فیصلے کی نوبت آ جائے تو بغیر کسی الجھن کے کیا جا سکے۔ پاکستان کا ٹریک ریکارڈ تو یہی بتاتا ہے کہ جب غیر ملکی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کسی ایک معاملے پر متفق ہو جائیں تو پھر لیتھل( جان لیوا) کمبینیشن بن جاتا ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ نواز شریف کے معاملے میں کیا ہوتا ہے۔ تاثر تو یہی ہے کہ وہ کسی صورت از خود ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ مقامی اسٹیبلشمنٹ کو یہ بھی تو سوچنا ہے کہ اس موقع پر حکومتی نظام کا جھٹکا کرنے کے موقع کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔خصوصاً موجودہ صورتحال میں تو یہ کام کسی صورت آسان نظر نہیں آتا۔

کرپشن ختم ہی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ جڑ سے اکھاڑ پھینکنی چاہیے۔ پوری قوم بھی تو یہی چاہتی ہے۔ احتساب بھی ہر دل کی آواز ہے۔ بات گھوم پھر کر وہیں آجاتی ہے کہ احتساب سب کا ہو گا یا نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر سب کے احتساب کا سلسلہ حقیقت میں شروع ہو گیا تو ملک میں تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے راستے کھل جائینگے۔ ہر ادارہ اپنی آئینی اور قانونی حدود کے اندر پابند ہو گا تونہ کوئی سازش ہوگی نہ ہی تماشہ لگے گا۔

مزید : کالم