کراچی میں سات پولیس اہلکاروں کی شہادت

کراچی میں سات پولیس اہلکاروں کی شہادت

کراچی اورنگی ٹاؤن بنگلہ بازار کے علاقے میں دو مختلف مقامات پر چار دہشت گردوں نے جو جدید اسلحہ سے لیس تھے، سات پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا، ساتوں اہلکاروں کو سر میں گولیاں ماری گئیں۔ یہ پولیس اہلکار پولیو سے متعلق عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے غیر ملکی مبصرین اور پولیو ورکرز کی سیکیورٹی پر تعینات تھے، جاں بحق ہونے والے چار اہلکار محافظ فورس اور تین اہلکار شہداد پور ٹریننگ سنٹر سے بلوائے گئے تھے، حملہ آور ماہر نشانے باز تھے انہوں نے پولیس اہلکاروں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دیا، دونوں واقعات چند منٹ کے وقفے سے یکے بعد دیگرے ہوئے۔ ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے کہا ہے کہ پولیس اہلکاروں پر حملے کرنے اور کرانے والے پکڑے جائیں گے۔

جس انداز میں پولیس اہلکاروں پر حملہ کر کے انہیں نشانہ بنایا گیا اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ دہشت گردوں نے اس واقعے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کر رکھی تھی، سروں پر گولیاں بھی تاک کر ماری گئیں محض اندھا دھند فائرنگ نہیں کی گئی،اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ گولی ہدف پر لگے، شہید اہلکاروں نے ہیلمٹ بھی نہیں پہن رکھے تھے نہ اُن کے پاس بلٹ پروف جیکٹس تھیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو پولیس اہلکار کسی حملے وغیرہ کے خوف میں مبتلا نہیں تھے اور انہیں حملے کا کوئی خدشہ نہ تھا یا پھر ممکن ہے اُن کے زیر استعمال یہ اشیا سرے سے نہ ہوں، حالانکہ کراچی میں پولیو ورکرز پر پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں، جن میں جانی نقصان بھی ہوا اِس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ پولیس اہلکار جو پولیو کے سلسلے میں ہی ڈیوٹی پر تھے اور پولیو ورکروں کی حفاظت پر مامور تھے اپنی حفاظت کا بھی پورا بندوبست کر کے باہر نکلتے۔

کراچی میں دہشت گردی کی لہر میں اگرچہ کمی آئی ہے اور آپریشن کے بعد سے وارداتیں بھی کم ہو گئی ہیں تاہم تازہ ترین واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ حالات ابھی پوری طرح اطمینان کے قابل نہیں اور کسی بھی وقت کوئی بھی سنگین واقعہ رونما ہو سکتا ہے، جس انداز سے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدف بنایا جاتا ہے اس کا تقاضا ہے کہ پولیس کے اہلکاروں کی حفاظت کو اوّلیت دی جائے۔ پھر بھی حملہ ہو تو بچاؤ کے امکانات ہو سکتے ہیں۔ اِسی طرح چیک پوسٹوں اور تھانوں وغیرہ کی حفاظت کے بھی فول پروف انتظامات کی ضرورت ہے۔ اگر سیکیورٹی انتظامات بھرپور نہیں ہوں گے تو دہشت گرد کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے پوری طرح تربیت یافتہ ہیں یہ بھی عین ممکن ہے کہ ’’را‘‘ نے جن لوگوں کو پاکستان میں تخریب کاری کی تربیت دی ہے ان کا تعلق بھی اُسی گروہ سے ہو۔ ڈی جی رینجرز نے اِس یقین کا اظہار کیا ہے کہ فائرنگ کرنے اور کرانے والوں کو گرفتار کیا جائے گا اِس لئے گرفتاری کے بعد ہی درست طور پر اندازہ ہو سکے گا کہ ملزموں کا تعلق کس گروہ سے ہے۔ سیکیورٹی ادارے اگر اس سانحہ کے محرکات تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وارداتوں کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔

دہشت گردی کے ہر واقعہ کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح تھے اِس لئے ان کا مقابلہ بھی اسی طور پر ممکن ہے کہ پولیس کے پاس بھی جدید اسلحہ ہو، روایتی طور پر پولیس جن ہتھیاروں سے مسلح ہوتی ہے وہ تربیت یافتہ دہشت گردوں کے مقابلے میں کام نہیں آ سکتے اور اگر کسی جگہ پولیس اور دہشت گردوں کا باقاعدہ مقابلہ ہو جائے تو یہ بات بہت اہم تصور ہو گی کہ کس کے پاس کون سا اسلحہ ہے اور کون اس اسلحے کو چلانے میں کتنی مہارت رکھتا ہے اور کتنا تربیت یافتہ ہے، ہماری روایتی پولیس دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے باقاعدہ تربیت یافتہ نہیں ہے، پولیس کا ایک تھوڑا سا حصہ ممکن ہے، دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی تربیت رکھتا ہو، لیکن اب ضرورت ہے کہ پولیس میں بھرتی کا پورا نظام ہی بدلا جائے، جو لوگ اس نیت کے ساتھ رشوت اور سفارش کے ذریعے پولیس میں بھرتی ہوتے ہیں کہ وہ اسے کمائی کا ذریعہ بنا لیں گے اور وہ ایسے ہی مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں ایسے افراد جدید دور کی پولیس کے لئے کارآمد نہیں ہیں، مُلک میں تعلیم یافتہ بیروزگار صحت مند نوجوانوں کی کمی نہیں، انہیں پولیس میں بھرتی کر کے کم از کم ایک سال کی ایسی تربیت دی جائے، جس کے بعد وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں، متروک ہتھیار رکھنے والوں اور نیم تربیت یافتہ پولیس اہلکاروں کے ذریعے نہ تو دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اِن لوگوں پر انحصار کر کے مستقبل کی کوئی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔ چند روز قبل راجن پور کے کچے کے علاقے میں چھوٹو گینگ کا مقابلہ کرنے کے لئے جو پولیس اہلکار گئے تھے اُن کے عزائم جتنے بھی بلند ہوں اور وہ جتنے بھی باحوصلہ ہوں، لیکن عملی طور پر یہ بات سامنے آئی کہ اُن کے پاس ہتھیاروں اور دوسرے حفاظتی اسلحے کی کمی تھی، کھلی کشتی دریا میں ڈال کر بھی رسک لیا گیا تھا، گینگ کے لوگ تو بنکروں اور درختوں کے اندر چھپے ہوئے تھے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے جانے والے دریا کے اندر ایک ایسی کشتی میں سوار تھے، جسے آسانی کے ساتھ نشانہ بنایا جا سکتا تھا اور گینگ نے ایسا کیا بھی، اگر پولیس نے جرائم پیشہ گروہوں کا مقابلہ کرنا ہے اور انہیں ناکام بنانا ہے تو جدید سیکیورٹی ڈاکٹرین اپنائے بغیر چارہ نہیں۔

کراچی کی تازہ واردات کے بعد یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ مستقبل میں ایسی ہی مزید وارداتیں بھی ہو سکتی ہیں، اِس لئے ہنگامی بنیادوں پر پولیس کی تربیت ضروری ہے، پولیس کو کراچی میں کسی بھی عوامی مقام پر اس طرح نہیں جانا چاہئے کہ وہ دہشت گردوں کا آسان ہدف بن جائے اس سے فورس کے مورال پر بھی منفی اثر پڑے گا اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا بھی آسان ہو گا۔ بہتر ہے کہ غیر تربیت یافتہ اہلکار تھانوں اور لائنوں کے اندر رہیں اور باہر کے فرائض وہی انجام دیں جو چیلنج کا مقابلہ کر سکیں اور یہ مقابلہ محض جرأت و بہادری سے نہیں، جدید ہتھیاروں اور جدید تربیت ہی سے ممکن ہے، جس کا جتنی جلد ممکن ہو اہتمام ہونا چاہئے۔

بڑھاپے کی پنشن میں اضافے کے لئے احتجاج!

بڑھاپے کی پنشن پانے والوں کی ایسوسی ایشن نے احتجاج شروع کر دیا اور مطالبہ کیا ہے کہ ان کی پنشن سرکاری پنشنروں کے مطابق کی جائے اور اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوٹ میں60ارب روپے سے زائد خورد برد کی جانے والی رقم واپس لائی جائے۔ لاہور پریس کلب کے باہر مظاہرہ کرنے والوں میں بزرگ شہری، خواتین اور بچے بھی شامل تھے، ان کا کہنا ہے کہ ان حق داروں کو سرکاری پنشنروں کے مطابق بھی پنشن نہیں دی جاتی، حالانکہ یہ رقم قومی خزانے سے نہیں، محنت کشوں کے بہبود فنڈ سے بزرگ شہریوں کے لئے ہے اور یہ رقوم ان کے وہ ادارے دیتے ہیں جہاں وہ ملازمت کرتے رہے۔جب یہ مظاہرہ ہو رہا تھا تو پریس کلب کے سامنے ٹریفک جام ہو گئی تھی تاہم لوگ غصہ کرنے کی بجائے ان مظاہرین سے ہمدردی کر رہے تھے۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ ای او بی آئی کی حیثیت ایک ٹرسٹ کی ہے یہاں جو اربوں روپے ہیں وہ ر جسٹرڈ صنعتی اور کاروباری اداروں کی طرف سے ہر ماہ یا ہر سال جمع کرائی جانے والی رقوم کی وجہ سے ہیں، اس رقم کو خورد برد کیا گیا اور اربوں روپے لوٹ لئے گئے اور یہ سب سپریم کورٹ کی ازخود کارروائی کے باعث سامنے آیا۔اب صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف تو ملزموں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور دوسری طرف وزیر خزانہ اس بہبود فنڈ کے ’’کسٹوڈین‘‘ بن کر بیٹھ گئے ہیں وہ پنشن کو خود اپنے اعلان کے مطابق نہیں کرتے، حالانکہ اضافہ سرکاری خزانے سے نہیں ای او بی آئی فنڈ سے ملنا ہے۔ یہ اضافہ تو از خود ہونا اور حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔

مزید : اداریہ