ذراء سوچیئے۔۔۔!

ذراء سوچیئے۔۔۔!

انسانیت اور دین کے لحاظ سے آپ کا کیا مقام ہے؟اگر آپ کی نظر میں اس سوال کی کو ئی اہمیت ہے ۔ تویہ حقیقت بھی سامنے رکھیے ۔کہ اس کا فیصلہ کر نا آپ کا کام نہیں ہے۔ اس سلسلے میں بڑی حد تک فیصلہ کن ان لوگوں کی رائے ہے جو آپ قریب رہتے ہیں اور کسی نہ کسی حیثیت سے آپ سے متعلق ہیں ، اس میں کو ئی شک نہیں کہ آدمی خود کو بہت اچھی طرح جانتاہے، لیکن جب بھی وہ اپنی شخصیت اور مقام کے بارے میں فیصلہ کرتاہے ۔تو اکثر و بیشتر خود کو دھوکا دینے کی غلطی کرتا ہے ۔ شخصیت کے اچھے پہلوؤں پر ہی نگاہ رکھ کر اپنی تصویر نگاہ میں جما لیتا ہے اور کمزور پہلوؤں سے یکسر صرف نظرکر جاتا ہے۔وہ اپنی وہ تصویر ذہن میں جماتا ہے جو اسے پسند ہو تی ہے۔ خودکو بھی مطمئن کرتاہے کہ یہی حقیقی تصویر ہے اور مخلوق خدا کو بھی اسی میں مبتلا کرنے کی ناکام کوشش کرتارہتاہے اور پھر نہایت سادہ لوحی اور کو تاہ نظری سے خودکواس دھوکے میں مبتلابھی رکھتاہے کہ اللہ کی نظرمیں بھی اس کی اصل تصویر وہ ہی ہے جواس نے اپنے ذہن میں بنارکھی ہے ۔اگر واقعی آپ کو اپنی ذات سے دلچسپی ہے اور آپ حقیقتاًاپنے خیرخواہ ہیں تو آپ یوں سرجھکائے اس سوال کونظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس سوال پر غورکرنے اور صیحح نتیجہ تک پہنچنے کا ایک نہایت ہی آسان اور قابل اعتماد طر یقہ ہے بشرطیکہ آپ سنجید گی اور انصاف کے ساتھ اپنا مقام جاننے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔آپ یہ دیکھیں کہ جو شخص آپ کے قریب آیا آپ کے ساتھ رہا وہ آپ کی عظمت اور نیکی کا معترف ہوا اور آپ کا کچھ اور زیادہ گرویدہ ہو گیا یا قریب آنے کے بعد آپ سے دور ہو اور آپ کی عظمت کا طلسم ٹوٹ گیا ۔اگر ایسا ہے کہ آپ سے قریب ہونے اور قر یب رہنے والے آپ کے اور زیادہ گرویدہ ہوتے چلے گئے اور آپ کی عظمت اور نیکی کے اور زیادہ قائل آپ کے بارے میں اچھی رائے کا اظہار نہیں کرتے اور آپ سے تعلق اور گر ویدگی کے بجائے بے تعلقی اور بے رخی کا اظہار کرتے ہیں تو چاہے آپ کچھ تاویل کریں حقیقت یہی ہے۔کہ دین وانسانیت کے لحاط سے آپ کا کیا مقام ہے دراصل خود کو جانچنے اور پر کھنے کی یہ ایک اطمینان بخش کسوٹی ہے آپ سے جو لوگ قریب ہیں ،آپ کی شخصیت جن کے سامنے زیادہ سے زیادہ بے نقاب ہے۔آپ کی جلوت وخلوت کے جولوگ ہمہ وقتی شریک ہیں جن کو شب و روز آپ سے واسطہ ہے اور جن سے آپ کے معاملات ہیں۔ دراصل ان کی نظر میں آپ کی شخصیت کا ہر پہلو ہے ۔ہر مرحلہ پر آپ کی دینی انسانی شخصیت اور حیثیت ان کے سامنے کھل کر آ جاتی ہے اور وہ بڑی حد تک صیحح اندازہ کر تے ہیں کہ آپ کیا ہیں ؟اگر یہی لوگ دور سے آپ کی عظمت شرافت نیکی کے قائل اور معترف تھے، لیکن جب قریب آئے تو آپ کی عظمت اور نیکی کا سارا فسوں ٹوٹ گیا اور وہ آپ سے بد کنے لگے آپ کی قد آور شخصیت انہیں بونی نظرآنے لگی ۔ آپ کی ساری خوبیاں ان کے لئے بے وزن ہو گئیں تو یقین کر لیجئے ۔کہ دین اور انسانیت کے لحاظ سے آپ کا مقام وہ نہیں ہے جو آپ نے اپنے ذہن میں بنا رکھا ہے یا دوسروں کو آپ باور کرانے کی بے جا کوشش کر رہے ہیں ۔

اپنی شخصیت پر ماتم کیجئے اور ساری مشغولیتوں کو چھوڑ کر تمام اہم ترین کاموں کو ترک کر کے سب سے پہلے اپنی فکر کیجئے اور اپنی شخصیت کو ذلت اور رسوائی کے اس گڑھے سے نگالنے کے لئے کمر بستہ ہو جائیے جس گڑھے کو آپ محسوس کر رہے ہیں اور اگر بات اس کے خلاف ہے آپ سے قریب ہونے والے آپ کی نیکی شرافت اور عظمت و انسانیت کے معترف ہیں قریب ترین لوگوں کے دِلوں میں آپ کی عزت و وقعت ہے، جو جتنا قریب آتا ہے اتنا ہی آپ سے زیادہ وابستہ ہوتا چلا جاتا ہے اور آپ کی قربت میں ذہنی اور روحانی سکون محسوس کر تاہے تو اللہ کا شکر ادا کیجئے کہ اللہ کی نظر میںآپ کا مقام اونچا ہے، مگر ساتھ ہی ہر وقت چوکنا رہیے کہ آپ ہر وقت خطر ے میں ہیں ۔دائیں بائیں آگے پیچھے ہر طر ف سے آپ پر حملہ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک قابل اعتماد کسوٹی ہے آپ جہاں تک سوچیں گے آپ کی عقل اس کے اہمیت کو تسلیم کرے گی بلکہ یہ اللہ کے رسول ؐ کی بتائی ہوئی کسوٹی ہے اور اس کو رسول اکرم ؐ کی سند حاصل ہے ۔

ایک شخص نے نبی کریم ؐ سے پوچھا یا رسول ؐ اللہ مجھے کیسے معلوم ہو کہ مَیں اچھے کام کرتا ہوں اور اچھا آدمی ہوں یا بُر ے کام کرتا ہوں اور بُرا آدمی ہوں؟آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے سنوکہ تم اچھے کام کر رہے ہو تو واقعی اچھے کام کر رہے ہو اور جب تم ان کو یہ کہتے سنوکہ تم بُر ے کام کر رہے ہو تو واقعی تم بُرے کام کر رہے ہو‘‘ ۔

گھر کا پڑوسی ہو یا کسی ادارے میں آپ کا ساتھی ہو کسی دفتر میں آپ کے ساتھ کام کر رہا ہو یا آپ کا حدمت گزار ہو غرض جس شخص کو بھی آپ کے ساتھ وقت گزار نے کا موقع ملا ہو وہ آپ کے بارے میں جو رائے بناتاہے وہ بے وزن ہر گزنہیں ہے پڑوسیوں اورساتھیوں کی رائے کو بے وزن قرار دے کر اگر آپ اپنی رائے ہی پر اصرار کرتے ہیں ۔اپنے بارے میں اپنے ہی فیصلے کو آخری فیصلہ قراریتے ہیں اور اپنی رائے پر نظر ثانی کرنے لے لئے تیار نہیں ہیں تو پھر انتظار کیجئے اللہ جلد آپ پر حقیقت واشگاف کر دے گا اور اس وقت آپ کی آہ وزاری کسی کام نہ آئے گی۔وہ صرف بھگتنے کا وقت ہو گا سنبھلنے کاوقت ختم ہو چکا ہو گا۔

***

مزید : ایڈیشن 1