اخلاقِ عالیہ کا بیان

اخلاقِ عالیہ کا بیان

ایک غیر مسلم ادیب کی زبانی

یوم النبیؐ 1935ء کی تقریب پر سیرت کمیٹی اجمیر کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہُوا، جس میں وقت کے مشہور انشا پرداز اور ادیب منشی للتا پرشاد شاد میرٹھی نے ایک نہایت ہی دلچسپ اور عمدہ تقریر فرمائی، ہم اس تقریر کے بعض اجزاء کو شائع کرنے کی عزت حاصل کرتے ہیں۔

آنحضرتؐ کی رحمدلی

عمرو بن امیہ جو بعد میں مسلمان ہوگئے تھے، جاہلیت کے عالم میں دوسرے عربوں کی طرح دشمن کو غفلت یا خواب میں یا دھوکہ سے قتل کر دینے کے لئے بدنام تھے، جو لوگ امن و سایہ میں آجاتے تھے، انہیں بھی مار ڈالتے تھے۔ یہ کیفیت ایام جہالت میں تمام عرب کی تھی، چنانچہ ابو سفیان نے ایک دن قریشیوں سے کہا کہ محمدؐ کومدینہ کے بازاروں میں پھرتے ہوئے بحالت غفلت کوئی قتل کرسکتا ہے۔ ایک بدوی تیار ہوگیا اور خنجر چھپا کر چلا۔ آنحضرت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ بدوی روبرو آیا، آپؐ نے اُس دیکھ کر معاً فرمایا کہ یہ شخص غدار نظر آتا ہے۔ ایک صحابی نے فوراً جائزہ لیا۔ اس کے پائجامہ سے خنجر برآمد ہُوا۔ اب تو اس شقی نے گڑاگڑا کر امان مانگی اور آنحضرت کا رحم ملاحظہ فرمائیے کہ آپؐ نے قعطی معاف فرما دیا اور سارا حال سن کر اسے چھوڑ دیا۔ صاحبان آپ کو معلوم ہے کہ اس رحم و کرم کا کیا نتیجہ نکلا؟۔۔۔ وہ بدوی حضرت کے اس طرز عمل سے اس قدر متاثر ہُوا کہ اسی وقت مسلمان ہوگیا:

در عفو لذتیست کہ در انتقام نیست

رحم و اخلاق کے رات دن ایسے معاملات دیکھ کر خالد ابن ولید کا دل بھی کچھ پسیجا، چنانچہ اس نے آپ کو چند گھوڑے نذر کئے۔ اس وقت تک وہ آپ کا اور اسلام کا سخت مخالف، بلکہ جانی دُشمن تھا اور مخالفوں کی طرف سے بڑی بہادری اور دلیری سے لڑا کرتا تھا۔ اس نذر پر ابو سفیان بہت برہم ہوا اور خالد سے لڑنے لگا، لیکن واقعات سے متاثر ہو کر دشمنوں کے کیمپ میں بھی خالد کے کئی طرف دار ہوگئے تھے۔

ایک بار قریش پر حملہ کرنے کے لئے آپ نے خاموش و خفیہ تیاریاں شروع کیں، مگر ایک صحابی حاطب نامی نے تمام باتوں کی خبر مخالف کیمپ کو بھیج دی۔ حضرت عمرؓ نے قاصد کو پکڑ لیا اور خط پڑھا گیا، تو سب نے حاطب کو قتل کی سزا دینی چاہی، مگر آپ نے بالکل معاف کر دیا۔

ایک روز دوران خطبہ میں تمام قریشیوں کوآزاد و معاف کر دیا، جس کا اتنالاجواب اثر ہوا کہ صد ہا مرد و عورت حتیٰ کہ بہت سے قریش خود بھی مسلمان ہوگئے اور ابوسفیان کی بیوی اور اس کے بیٹے کی بہو بھی حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔

غربت و سادگی

آپ کی غربت و سادگی کا حال بیان کرنا مشکل ہے۔ کھانا بہت سادہ اور مقدار میں بہت کم ہوتا تھا، کپڑے ہمیشہ سادہ، معمولی اور اکثر پیوند لگے ہوئے پہنتے تھے، وفات کے بعد حضرت عائشہؓ نے آنحضرتؐ کی زندگی بسر کرنے کا تذکرہ اس طرح کیا کہ گھر میں سے ایک کمبل نکال کر دکھایا، جس میں کئی پیوند تھے اورجابجا پھٹا ہوا تھا۔ یہی کمبل آپؐ کے استعمال میں وقت وفات تھا۔

بعض اوقات تیل کی کمی کے باعث حجرہ میں روشنی تک نہ ہو سکتی تھی اور اندھیرے میں ہی رات کٹتی تھی۔ آپ کے انتقال کے وقت حضرت عائشہؓ نے ایک ہمسایہ سے تیل مانگ کر روشنی کی تھی۔ آپؐ کی لخت جگر سیدہ فاطمہؓ چکی پیستی اور گھر کا تمام کام دھندا کرتی تھیں، حتیٰ کہ ہتھیلی پر چھالے پڑ گئے تھے۔ حضرت علیؓ خود پانی بھرتے تھے۔ ایک بار چاہا کہ رسول اللہؐ سے ایک خادم مانگ لیں، مگر تکلیف و پریشانی کے باوجود فرمائش کرتے ہوئے شرم سی محسوس ہوتی تھی۔

ایک شب کا ذکر ہے کہ آپؐ کو خوب نیند آئی صبح اُٹھنے پر دریافت کیا کہ کیا بستر بچھایا تھا جو اس قدر آرام ملا۔ معلوم ہوا کہ روزانہ استعمال کا ٹاٹ ہی بچھایا گیا تھا مگر اتفاقاً اس روزاس کی چارتہیں کر دی گئی تھیں۔ وفات کے وقت موٹے کھدر کا تہ بند اور ایک پیوند لگا ہوا کمبل جسم پر تھا۔ آپ کی سادگی کا اثر صحابیوں پر بھی خوب پڑا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ تاجر تھے۔ بعد وفات رسولؐ خلیفہ منتخب ہوئے اور سب نے بیعت کی، مگر باوجود اس شان و عزت کے اگلے روز ہی کپڑوں کی گٹھڑی کندھوں پر رکھ کر بیچنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ انسانی ذمہ داری کا اتنا احساس فی زمانہ نہایت مشکل ہے۔

حضرت ابوبکرؓ کا قول تھا کہ جو کمزور ہے وہ قوی ہے، انشاء اللہ اس کا حق دلاؤں گا اور جو قوی ہے وہ کمزور ہے، اُس سے حق لے کر رہوں گا۔ آج اس مقولہ کے برعکس، جس کی لاٹھی اس کے بھینس پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ پردۂ عالم پر کمزوروں پر ہی حکومت کی جاتی ہے۔ ایسا کون ہے، جو اپنی طاقت و قوت کا مظاہرہ اور گھمنڈ نہ کرتا ہو۔

ایک روز حضرت علیؓ نے اپنے کسی دشمن کو جنگ میں پچھاڑ دیا جو انہیں قتل کرنا چاہتا تھا، نیچے گر کر غصہ میں اس نے حضرت علیؓ کے منہ پر تھوک دیا۔ آپ فوراً چھاتی سے اتر پڑے اور یہ کہہ کہ چھوڑ دیا کہ جا بھاگ جا، بہ حالتِ غصہ قتل کرنا حرام ہے، اندیشہ ہے کہ کہیں تیری حرکت پر غصہ نہ آجائے۔

بعض دیگر خوبیاں

حضرت محمدؐ صاحب کی خوش خلقی اور مہمان نوازی بے نظیر تھی۔ وہ دشمن سے بھی مسکراہٹ ملائمت اور آہستگی سے گفتگو کرتے تھے۔ غصہ تو دور رہا وہ زور سے بولے تک نہ تھے۔ ایک بار عیسائیوں کا وفد آیا جو خاص عزت اور خاطر تواضع کے ساتھ ٹھہرایا گیا اور جب ان کی عبادت کا وقت ہوا تو خود مسجد نبویؐ کے صحن میں عبادت کے لئے اجازت عطا فرما دی۔

ایک بار کچھ پھل بطور تحفہ کہیں سے آئے۔ آپؐ نے سب سے پہلے اس میں سے ایک حصہ اپنے ہمسایہ یہودی کو بھیجا اور پھر اہل و عیال میں تقسیم کرکے بعد میں خود استعمال فرمایا، ملک شاہ سلجوتی کے ایک فوجی افسر نے کسی غریب بیوہ کا جانور دھوکہ سے ذبح کر ڈالا۔ بیوہ نے اُسے پُل پر پکڑ لیا اور بیساختہ کہا کہ بتا تو میرا انصاف اس پل پر کرے گا یا قیامت کے دن پُل صراط پر۔ یہ تھی اسلام کی بدولت ایک غریب بھکاری بیوہ کی ہمت، کہ بڑے فوجی افسر سے دو بہ دو کر بیٹھی اور پھر انصاف حاصل کیا۔

آپ اکثر غارِ حرا میں آبادی سے دور قیام فرمایا کرتے تھے اور مراقبہ کی حالت میں رہتے تھے، جہاں صرف پانی کا ایک مشکیزہ ان کے پاس رہتا تھا۔

مزید : ایڈیشن 1