فوجی برطرفیاں۔۔۔ حقائق اور سیاسی منظر نامہ

فوجی برطرفیاں۔۔۔ حقائق اور سیاسی منظر نامہ
فوجی برطرفیاں۔۔۔ حقائق اور سیاسی منظر نامہ

  

پورا ملک اس وقت آرمی چیف کی واہ واہ کر رہا ہے۔ بارہ اعلیٰ افسران کی برطرفی نے جنرل راحیل شریف کی تعریف کرنے پر سب کو مجبور کر دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان افسران کی برطرفی کی خبر کی ٹائمنگ نے ایوان سیاست میں سوالات پیدا کئے ہیں۔ لیکن چونکہ عمل غیر متنازعہ ہے اس لئے مخالفت میں بات کرنے والے بھی خاموش ہیں۔ اب دل کو تسلی دینے کے لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دو روز قبل جنرل راحیل شریف نے بلا امتیاز احتساب کی جو بات کی تھی وہ دراصل ان بارہ برطرفیوں کے بارے میں تھی۔ شائد یہ فائل ان کے سامنے تھی اور وہ متعدد سینئر افسران کوبرطرف کر رہے تھے۔ اس لئے انہوں نے بلا امتیاز اور بے لاگ احتساب کی بات کی۔ بیچارے سیاستدان ایسے ہی اس کو اپنی طرف لے گئے۔

بارہ افسران کی برطرفی کے بعد سیاسی ماحول میں بھی بے چینی آئی ہے۔ حالانکہ بے چینی تو فوج میں آنی چاہئے تھی۔ یہ درست ہے کہ بے چینی تو فوج میں بھی آئی ہو گی۔ لیکن وہاں اظہار ممکن نہیں۔ جبکہ سیاستدان اپنی بے چینی کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ان بارہ افسران کی برطرفی کو جمہوریت اور سیاستدانوں کے خلاف ایک چارج شیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا کہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ فوج میں اس طرح کا احتساب کیا گیا ہے۔ البتہ یہ پہلی دفعہ ہے کہ فوج نے اس طرح کی برطرفیوں کو میڈیا میں جاری کیا ہے۔ صرف میڈیا میں جاری کرنا ایک سوال ہے جس نے بہت سے سوالات پیدا کئے ہیں۔

ان برطرفیوں کے حوالہ سے بھی کچھ حقائق سوشل میڈیا میں آئے ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ ساری آگ ایک سپوٹس کار کے حادثہ سے لگی ہے جس نے پورے ملک کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق میجر جنرل اعجاز شاہد نے اپنے بیٹے کے لئے ایک نان کسٹم سپورٹس کار خریدی ۔انہوں نے اس سپورٹس کار کی ٹیسٹ ڈرائیو کے لئے ایف سی کے دو افسران کو کہا۔ ٹیسٹ ڈرائیو کے دوران ایف سی کے دو افسران جاں بحق ہو گئے۔ میجر جنرل اعجاز شاہد نے معاملہ کو دبانے کے لئے ان دو افسران کی موت کو ایک آپریشن قرار دے دیا۔ اور جی ایچ کیو میں رپورٹ بھیج دی کہ یہ دونوں افسران دہشت گردوں کے ساتھ آپریشن میں شہید ہو گئے ہیں۔ان جاں بحق افسران کے لواحقین نے فوج کے سربراہ کو نومبر 2014 میں انصاف کے لئے خط لکھا۔ یہ ایک عجیب خط تھا جس میں لواحقین کہ رہے تھے کہ ان کے بچے دہشت گردوں کے ساتھ کسی آپریشن میں شہید نہیں ہو ئے بلکہ ایک نا جائز حادثہ کا شکار ہوئے ہیں۔ اس خط پر جنرل راحیل شریف نے ایک انکوائری کا حکم دے دیا۔ اب سارا قصور اس انکوائری افسر کا ہے۔ جس کی وجہ سے پورا ملک بے چینی کا شکار ہے۔ اس انکوائری افسر نے اپنی انکوائری کو صرف اس وقوعہ تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ ایف سی میں نان کسٹم گاڑیوں کے کاروبار اور دیگر بد عنوانیوں کو بھی فوکس کر دیا۔ جس کی وجہ سے فوج اتنی بڑی کاروائی پر مجبور ہوگئی۔ پولیس میں تو جعلی مقابلوں کا رواج تھا۔ لیکن فوج میں جعلی مقابلہ ایک نئی بات تھی۔ اس لئے سخت ایکشن کی رائے بن گئی۔ اسی سخت ایکشن کی رائے میں یہ سب برطرفیاں ہوئی ہیں۔ میری رائے میں ابھی بھی نرمی برتی گئی ہے۔یہ جعلی مقابلے بنانے والے جرنیل تو اس سے بھی سخت سزا کے مستحق تھے۔ انہیں پنشن اور میڈیکل کی سہولت بھی کیوں دی گئی۔ انہیں تو لمبی جیل ہو نی چاہئے تھی۔ اگر ایسا کسی سول ادارے میں ہو تا تو یقیناًسزا زیادہ ہو تی۔

فوج میں کرپشن کی داستانیں نئی نہیں ہیں۔ مرحوم قاضی حسین احمد کور کمانڈرز کو کروڑ کمانڈر کہتے تھے۔ اس وقت بھی دو سابق کورکمانڈرز کے حوالہ سے داستانیں گردش کر رہی ہیں۔ ایک نجی ٹی وی نے تو خبر دی ہے کہ دو سابق کور کمانڈر لیفٹنٹ جنرل نوید اور سعید غنی کو بھی ڈی ایچ اے کیس میں بھاری جرمانہ کیا گیا ہے ۔ لیکن سب پھر سوال کریں گے کہ کیانی کا تو کچھ نہیں بنا۔ کیانی کے خلاف کیوں کاروائی نہیں ہو ئی۔ کامران کیانی کیسے ملک سے بھاگ گیا۔

جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو ان برطرفیوں سے وہ دفاعی پوزیشن میں آئی ہے۔ اب شائد چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اگر حکومت کسی متبادل آپشن پر غور کر بھی رہی تھی تو اب اس آپشن کو ختم کر دینا ہو گا۔ لیکن میرے خیال میں فوج میں اس احتساب کے عمل کے بعد اب عدلیہ کو بھی اپنے اندر احتساب کا عمل شروع کرنا ہو گا۔ یہ افسوسناک امر ہے کہ ہمارے ملک میں عدلیہ کا احتساب نہ ہونے کے برابر ہے۔ عدلیہ نہ باہر سے کسی کو اپنا احتساب کرنے دیتی ہے اور نہ ہی خود اپنا احتساب کرتی ہے۔ جس نے ہماری عدلیہ کی کارکردگی اور اس کے اندر احتساب کے عمل پر سوالیہ نشان پیدا کر دئے ہیں۔ شائد یہ بار ہ برطرفیاں عدلیہ میں بھی ایسے احتساب کے عمل کو شروع کر سکیں ۔ جہاں تک سیاستدانوں کا خیال ہے اگر کوئی ادارہ ان کا احتساب نہ بھی کرے تو عوام ضرور انتخابات میں ان کا احتساب کر دیتے ہیں۔ اور ہمیں عوام پر اعتماد رکھنا ہو گا۔ عوام نے پہلے بھی بہت سے مردہ سیاستدانوں کو اپنی فہم و فراست سے زندہ کیا ہے اور بہت سے زندہ سیاستدانوں کو اپنی دور اندیشی سے مردہ کر دیا ہے۔ اب بھی میاں نواز شریف کو بہر حال عوام کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ یہ بھولنا نہیں چاہئے۔

مزید : کالم