کپڑا رنگے والی ٹیکسٹائل کمپنیوں کو لائسنس کے عوض فیس عائد کرنے کے اختیار کو قانونی قرار دیدیا گیا

کپڑا رنگے والی ٹیکسٹائل کمپنیوں کو لائسنس کے عوض فیس عائد کرنے کے اختیار کو ...

لاہور (نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے کپڑا رنگے والی ٹیکسٹائل کمپنیوں کو لائسنس کے عوض فیس عائد کرنے کے اختیار کو قانونی قرار دے دیا ہے، عدالت نے لائسنس فیس وصولی کے خلاف دائر 11درخواستیں مسترد کرتے ہوئے 20صفحات پر مشتمل فیصلے کو عدالتی نظیر بھی قرار دیا ہے۔ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کے روبرو ڈی ایس ٹیکسٹائل سمیت 11درخواست گزاروں کی جانب سے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001 ء کی دفعہ 116 اور 39(بی) کے تحت کپڑا رنگنے والی کمپنیوں پر 50 ہزار روپے سالانہ لائسنس فیس عائد کر دی ہے، کمپنیوں پر لائسنس فیس عائد کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے لیکن اس وقت لوکل گورنمنٹ لائسنس فیس عائد کر وصول کر رہی ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ فیس کی وصولی کے بدلے مقامی حکومتیں کمپنیوں کو کوئی مراعات یا سہولتیں فراہم نہیں کر ر ہیں، انہوں نے استدعا کی کہ مقامی حکومتوں کی جانب سے لائسنس فیس عائد کرنے کے اختیار کو کالعدم کیا جائے، پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین پیش ہوئے ، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 140(اے) کے تحت مقامی حکومتیں مالی اور انتظامی امور چلانے کے لئے مختلف ٹیکس اور فیسیں لگانے کا اختیار رکھتی ہیں، لائسنس فیس کی وصولی کے عوض ان کے لئے متبادل سہولیات فراہم کرنا ضروری نہیں ہے، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لائسنس فیس بنیادی طور پر ایک ریگولیٹری فیس ہے جس کا مقصد مقامی سطح پر ماحولیات اور دیگر تحفظ عامہ کے معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنا ہوتا ہے، عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد مقامی حکومتوں کے کمپنیوں کو لائسنس فیس لگانے کے اختیار کے خلاف دائر تمام درخواستیں مسترد کر دیں۔

مزید : صفحہ آخر